جانوروں کا خیمہ اور ہمارا موجودہ ریاستی نظام - اسامہ الطاف

جانوروں کے لیے مخصوص خیمے سے لوگ ایک ایک کرکے جانوروں کو نکال رہے تھے اور قربان گاہ کی طرف لے جارہے تھے۔ میں قریب کھڑا منظر سے لطف اندوز ہورہا تھا، لوگوں کے چہروں پر خوشی عیاں تھی، برساتی موسم نے ماحول کو مزید خوشگوار بنایا ہوا تھا، فضا میں ہر کچھ دیر بعد "بسم اللہ اللہ اکبر" کی کی گونجتی آواز ایک اور قربانی کا اعلان کرتی۔

دیگر تماش بینوں میں ایک پندرہ سالہ لڑکا بھی تھا جو انتہائی متفکر نظر آرہا تھا۔ میں نے ازراہ مذاق اس سے کہا "کیوں بھائی جانوروں پر رحم آرہا ہے کیا؟" نہیں رحم تو اپنے اوپر آرہا ہے، لڑکے نے اداس مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ میں لڑکے کے جواب پر کچھ حیران ہوا لیکن خاموش رہا۔ اس دوران ایک اور جانور کو خیمے سے نکالا جارہا تھا اور رسی سے قربان گاہ کی طرف کھینچا جارہا تھا۔۔ لڑکا میرے قریب آیا اور کہنے لگا: ہماری حالت اس جانور سے مختلف نہیں۔ میں نے کہا کیا مطلب؟ لڑکے نے کہا: یہ خیمہ ہمارا موجودہ ریاستی نظام ہے، جس میں مختلف اسلامی ممالک لائے گئے ہیں جس طرح ان جانوروں کو لایا گیا ہے، جانور عید سے پہلے سمجھتے ہیں کہ وہ یہاں آزاد ہیں حالانکہ ان کے چارے پانی کا انتظام بھی ان کے رکھوالے ہی کرتے ہیں۔ یہ جانور خیمے میں ایک دوسرے سے بالکل لاتعلق رہتے ہیں، جیسے اسلامی ممالک ایک دوسرے سے لاتعلق رہتے ہیں۔ لڑکے نے اس جانور کی طرف اشارہ کیا جس کو لے جایا جارہا تھا، اس نے کہا: اس جانور کو جب خیمے سے نکالا گیا، تو کسی دوسرے جانور نے توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی، خود جانور کو بھی معلوم نہیں کہ اسے ذبح کرنے کے لیے لے جایا جارہا ہے، یہی حال اسلامی ممالک کا ہے، جب کسی اسلامی ملک پر حملہ ہوتا ہے یا وہ کسی آفت کا شکار ہوتا ہے تو دیگر اسلامی ممالک اس کے بچاؤ کے لیے سامنے نہیں آتے۔

میں لڑکے کی دلچسپ باتیں سن رہا تھا جبکہ قصائی جانور کو گرا چکا تھا اور اس کے پاوں باندھ رہا تھا۔۔ میں نے لڑکے کی طرف دیکھا، اس نے کہا یہ پاوں ہماری معیشت ہے جس کو سرمایہ دارانہ نظام کی زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ جانور کی آنکھوں کو ذبح کرنے سے پہلے اس کے کانوں سے اکثر چھپا دیا جاتا ہے، ہمارے حکمرانوں کی آنکھوں کے سامنے بھی خوش آمدی ٹولے گمراہ کن حقائق رکھتے ہیں جن سے ان کو اصل صورتحال کا اندازہ ہی نہیں ہوتا۔ میں نے پوچھا: اور؟ لڑکے نے کندھے اچکا کر کہا: پھر جانور کو ذبح کردیا جاتا ہے اور وہ صرف کراہتا ہے اور ٹانگیں اچھالتا ہے، بالکل ہماری طرح جب ہم حقیقی رد عمل کے بجائے مذمتوں اور روایتی بیانات پر اکتفا کرتے ہیں، ہر بار بار ذبح ہوتے ہیں، ایک ہی طریقے ایک ہی انداز سے ہوتے ہیں، پھر بھی نہیں سمجھتے کہ مسئلہ قصائی یا چھری میں نہیں، مسئلہ اس پورے نظام میں ہے، جب تک ہم اس نظام کو تبدیل نہیں کریں گے ہم جانوروں کی طرح ذبح ہوتے رہیں گے۔ لڑکے کی تقریر ختم ہوئی تو میں نے سوچا واقعی یہ جانور نہیں، ہم قابل رحم ہیں۔

قصائی کی آواز آئی "بسم اللہ اللہ اکبر"۔۔ خون کا فوارہ اٹھا، جانور ذبح ہوگیا۔ پھر ایک جانور نکالا گیا اور کہانی چلتی رہی۔