’پاکستان نے مگ 21 کے آلات جام کر دیے تھے‘

انڈین اخبار ہندوستان ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق پاکستانی جنگی طیارے کا پیچھا کرتے ہوئے، پاکستانی سرحد میں داخل ہونے والے ونگ کمانڈر ابھینندن ورتمان کے مگ 21 طیارے میں جدید ٹیکنالوجی نہیں تھی۔

اس معاملے سے متعلق اہلکاروں کے حوالے اس اخبار نے لکھا ہے کہ ابھینندن کے جنگی طیارے میں جدید جیمرز نہیں تھے اور ان کے طیارے کے رابطے کے آلات کو پاکستان نے جام کر دیا تھا۔ جدید آلات کی کمی کو ہی ابھینندن کے پاکستانی سرحد میں داخل ہو جانے کی وجہ بھی بتایا جا رہا ہے۔ آلات جام ہو جانے کی وجہ سے وار روم سے آنے والی اطلاعات ابھینندن تک نہیں پہنچ سکیں اور وہ پاکستانی علاقے میں داخل ہو گئے۔ انڈین فضائی فوج کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ پہلے بھی اینٹی جیمنگ ٹیکنالوجی کے بارے میں حکومت کو مطلع کیا جا چکا ہے۔

انڈیا نے اپنے یوم آزادی کے موقع پر رواں برس فروری میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں گرائے جانے والے انڈین جنگی طیارے کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن ورتمان کو ملک کے فوجی اعزاز ’ویر چکر‘ سے نوازنے کا اعلان کیا ہے۔ ویر چکر انڈیا کا تیسرا بڑا فوجی اعزاز ہے جو کہ میدانِ جنگ میں بہادری کا مظاہرہ کرنے پر دیا جاتا ہے۔

رواں برس 27 فروری کو انڈین ونگ کمانڈر ابھینندن ورتمان کے طیارے کو پاکستانی فضائیہ کے طیارے نے اس وقت مار گرایا تھا جب وہ لائن آف کنٹرول عبور کر کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہوا تھا۔ طیارے کی تباہی کے بعد ابھینندن پاکستانی علاقے میں ہی اترے تھے جہاں انھیں گرفتار کر لیا گیا تھا اور دو دن بعد انھیں انڈیا کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

ونگ کمانڈر ابھینندن کا طیارہ اس کارروائی کے دوران مار گرایا گیا تھا جسے پاکستان، انڈیا کی پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور حملے کے جواب میں کی گئی 'جوابی کارروائی' قرار دیتا ہے۔ اس وقت انڈین فضائیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے انڈین عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی اور اس کے بعد ہونے والی لڑائی میں ایک پاکستانی ایف 16 طیارہ بھی گرایا گیا تھا۔ خیال رہے کہ ابھینندن کو اس ’ایف 16 طیارے کو گرانے‘ پر ہیرو قرار دیتے ہوئے ویر چکر سے نوازا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سلامتی کونسل کا مشاورتی اجلاس ! ہندوستان کا ردعمل - مسعود ابدالی

پاکستان نے ایف 16 طیارے کی تباہی کے اس دعوے کو متعدد بار مسترد کیا ہے۔ اس کے بعد امریکی جریدے فارن پالیسی نے بھی کہا تھا کہ امریکہ کے محکمۂ دفاع کے اہلکاروں نے پاکستانی ایف 16 طیاروں کی گنتی کی ہے اور وہ تعداد میں پورے ہیں۔