بنگلہ دیش کی زمین ہتھیانے کی کوشش - مسعود ابدالی

بھارتی ریاست تریپورہ تین اطراف یعنی جنوب، شمال اور مغرب میں بنگلہ دیش سے گھری ہوئی ہے بلکہ اگر نقشے کو دیکھیں تو یہ ریاست بنگلہ دیش کا حصہ نظر آتی ہے۔ یہاں 4 ہزار مربع میل رقبے پر 36 لاکھ نفوس آباد ہیں۔

تریپورہ کے دارالحکومت اگرتلہ کا انٹرنیشنل ائیر پورٹ اس علاقے کا مصروف ترین شہری ہوائی اڈہ ہے۔ ایک اندازے مطابق اس ائیرپورٹ سے ہندوستان اور دوسرے ممالک کی 56 ائرلائنز 146 مقامات کے لیے اڑا ن بھرتی ہیں۔ یہاں مسافروں کا سالانہ حجم دو کڑور سے زیادہ ہے۔ مسافروں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ہی ائیر پورٹ کی توسیع کا مرحلہ درپیش ہے۔ رن وے کے لیے جتنی بڑی جگہ درکار ہے، وہ تریپورہ کی حدود میں دستیاب نہیں، چنانچہ ہندوستان تریپورہ سے ملحق بنگلہ دیشی ضلع برہمن باڑیہ کی کچھ اراضی رن وے کی تعمیر کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ دہلی کی منطق ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے جنیوا ائیرپورٹ کے رن وے کا کچھ حصہ بھی فرانس میں ہے اور پڑوسیوں میں اس طرح کا بندوبست زمین پر قبضے کے بجائے اچھے تعلقات کی علامت ہے۔ گزشتہ برس جب یہ تجویز آئی تو وزیراعظم حسینہ واجد اس کے لیے تیار ہوگئی تھیں۔ لیکن جماعت اسلامی نے رولا ڈال دیا۔

جماعت اسلامی کی پارلیمینٹ میں ایک بھی نشست نہیں لیکن مؤثر تنظیم کی وجہ سے یہ عوام کو سڑکوں پر لانے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس وقت امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش مقبول احمد صاحب زیرحراست تھے۔ جب انھیں پیشی کے لیے کچہری لایا گیا تو انھوں نے وہیں کھڑے کھڑے ایک پریس کانفرنس کر ڈالی جس میں اسے مادر وطن کی فروخت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کا اپنا رقبہ بہت کم اور آبادی بہت زیادہ ہے، لہٰذا ہم اس 'فیاضی' کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ امیر جماعت کے اس بیان پر سارے بنگلہ دیش میں ہنگامہ ہوگیا۔ وہ بنگلہ دیش میں انتخابات کا دور تھا چنانچہ حسینہ واجد نے چپ سادھ لی۔ انتخابات میں حسینہ واجد کو 'زبردست' کامیابی دلانے کے بعد بھارت نے اپنا مطالبہ پھر دہرایا، لیکن جماعت کے کارکنان بھی مسلسل اس کے خلاف جلسے جلوس کرتے رہے۔ اب یہ مسئلہ ایک قومی معاملہ بن گیا ہے اور حسینہ واجد کے گلے کی چھچھوندر کہ زمین ہندوستان کے حوالے کر دے تو ملک میں وطن فروش کا طعنہ اور بات نہ ماننے پر ہندوستانی وزیراعظم کے مشیر سلامتی اجیت دوال انجامِ بد سے ڈرا رہے ہیں۔ دوال صاحب کو سب سے زیادہ غصہ اس بات پر ہے کہ صف اول کی قیادت کو دار پر چڑھانے، ہزارو ں کارکنوں کے قتل اور ہزاروں متاثرین کو جیل میں ٹھونسنے کے باوجود موئی جماعت اسلامی کی یہ ہمت کہ ہمارے کھیل میں کھنڈت ڈالے۔

یہ بھی پڑھیں:   اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے - اسماء طارق

شنید ہے کہ بنگلہ دیشی حکومت زمین کے عوض اگرتلہ ائیر پورٹ کے مشترکہ اہتمام کی تجویز پیش کر رہی ہے، یعنی ائیرپورٹ سے فیسوں اور راہداری کی مد میں ہونے والی آمدنی کا نصف بنگلہ دیش کو ملے گا اور ائیرپورٹ کا انتظام دونوں ملک مل کر کریں گے۔ چونکہ رن وے برہمن باڑیا میں ہوگا اس لیے فلائٹ کنٹرول کا نظام بنگلہ دیش کو دیے جانےکی تجویز ہے۔ دوسری طرف جلسے جلوس کر کے جماعت نے' برہمن باڑیہ کی فروخت' کو ایک عوامی نعرہ بنا دیا ہے۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا انداز کچھ عجیب سا ہے کہ لٹ پٹ کر بھی بانکپن کا یہ عالم کہ ہر کسی سے پنگا لینے کو تیار۔

اگرتلہ کا نام سن کر کچھ احباب کو اگرتلہ سازش کیس ضرور یاد آیا ہوگا۔ 1968ء میں ایوب خان نے عوامی لیگ اور شیخ مجیب الرحمن کے خلاف پاکستان کے خلاف سازش کرنے کا مقدمہ قائم کیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق ملزمان نے اگرتلہ میں ہندوستانی فوجی حکام سے مل کر یہ منصوبہ بنایا تھا۔ اسی بنا پر یہ مقدمہ اگرتلہ سازش کیس مشہور ہوا۔ لیکن اس کے خلاف مشرقی پاکستان میں زبردست تحریک چلی۔ دوسری طرف ایوب حکومت کمزور ہوچکی تھی، لہٰذا یہ مقدمہ آگے نہ بڑھ سکا اور 1969ء میں ایوبی آمریت کے خاتمے کے ساتھ یہ معاملہ بھی دفن ہوگیا۔