قربانی سے قرب الہی کا حصول کیسے - ڈاکٹر بشری تسنیم

زندگی کی بقا اور ارتقاء میں" قربانی " کا فلسفہ مضمر ہے۔ ارض و سماء میں ہر لمحہ ارتقائی تبدیلی ہوتی ہے، کسی کے فنا میں اک نئی بقا ہوتی ہے، اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ انسانی جسم کے اندرونی نظام میں ہر آن کچھ قربان ہوتا ہے تو اک نئی جہت پیدا ہوتی رہتی ہے۔ انسان اسی طرح عمر کی منزلیں طے کرتا ہے۔ بچپن کی معصومیت قربان کر کے جوانی کا ولولہ پاتا ہے، جوانی قربان ہوتی ہے تو بزرگانہ دانش نصیب ہوتی ہے۔

ہر کامیابی قربانی مانگتی ہے۔ کامیابی کی نوعیت بتاتی ہے کہ کتنی قربانی درکار ہے۔ محبت کے دعوے دار کتنی قربانی دے سکتے ہیں۔ والدین اپنے وقت، محنت، آرام کی قربانی دیتے ہیں تو اولاد کو ضائع ہونے سے بچاتے ہیں، والدین کی بقا اسی میں ہے کہ وہ یہ قربانی دیں۔

اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کو دنیا میں بسانے کے لیے کائنات کی ہر شے کو ان کے لیے قربان ہونے کا سسٹم وضع کر دیا ہے۔ کتنے جانور انسان کی بقا کے لیے قربان ہوتے ہیں، کتنے درخت اپنے پھل اور نباتات و جمادات اس قربانی پہ لگے ہوئے ہیں۔ عرش سے فرش تک انسان کی بقا کے لیے قربانیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو روز اول سے جاری ہے۔ یہ اللہ رب العلمین کی اپنے بندوں سے محبت ہے کہ اس نے ساری کائنات انسان کے لیے مسخر کر دی، پھر اپنے پیارے بندے سے یہ مطالبہ رب کا بر حق مطالبہ ہے کہ "تو صرف میرا ہو جا"۔

ساری کائنات میرے اور آپ کے لیے قربان ہو رہی ہے، اس لیے کہ ہم ایک عظیم الشان رب کی مکرم تخلیق ہیں۔ اور اللہ رب العالمین نے اس مکرم تخلیق کی شان یہ رکھی کہ وہ اپنے مالک پہ قربان ہو جو سب سے عظیم ہے، ساری کائنات کا واحد مالک ہے۔ جس انسان نے اپنی ذات کو جیسا مکرم جانا، وہ اسی کے مطابق کسی ہستی پہ یا چیز کے لیے اپنا مال جان قربان کرنے کو تیار ہوگا۔ جس نے اپنی نفسانی خواہشات کو اہم جانا، وہ اسی کے لیے اپنا وقت جان مال قربان کر رہا ہوگا، اور جس نے اپنے رب کو اہمیت دی وہ اس کی راہ میں قربانی کا جذبہ رکھے گا۔ جان قربان کرنا قربانی کا اعلی درجہ ہے، عید قربان پہ جانور قربان کرنا دراصل ایک کنایہ ہے کہ "اے محبوب حقیقی! ہم تو آپ کی عنایات کے بدلے میں جان بھی قربان کر دینے کو تیار ہیں۔ یہ جانور کیا چیز ہے؟"

یہ بھی پڑھیں:   آزادی، قربانی اور کشمیر- ناصر محمود بیگ

سوال یہ ہے کہ ہم نے اپنی قربانیوں کا محور کس کو بنایا ہوا ہے؟ اپنے نفس کی خواہشات کو یا اللہ کی رضا کو؟ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ رب العزت نے جب محاسبہ کرنا ہے تو صرف یہ نہیں دیکھنا کہ اس کی خاطر کیا کچھ قربان کیا بلکہ یہ بھی بتانا پڑے گا کہ جس قدر مواقع میسر تھے، ان کے مطابق اپنی صلاحیتوں اور مال وقت قربان کرکے اللہ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کی یا نہیں؟ ہمارے شب و روز اور ہماری خلوت و جلوت ہی بتا سکتی ہے کہ نفسانی خواہشات کو اللہ کی رضا میں قربان کرنے کا پیمانہ کیسا ہے؟ اور ہم نے اپنی "اوقات " خود کیا منتخب کی ہے؟ قربانی میں ہی قرب کا ذریعہ رکھ دیا گیا ہے۔ اب سوچنا ہمارا کام ہے کہ ہم کیا کچھ قربان کر رہے ہیں، کس کا قرب حاصل کرنے کے لیے؟

اے اللہ رب العزت، مالک کائنات! ہم آپ کی محبت، آپ کا قرب، آپ کا دیدار، آپ کی جنت اور جنت میں انبیاء کی رفاقت کے طلبگار ہیں۔ ہم آپ سے التجا کرتے ہیں کہ اس مقام کو پانے کے لیے ہمارے اندر نفس، جان، مال قربان کرنے کی ہمت، طاقت اور استقامت عطا فرما دے۔ آمین۔ اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد۔ سبحنک اللھم و بحمدک نشھد ان لا الہ الا انت نستغفرک و نتوب الیک