انا للہ وانا الیہ راجعون ! احسان کوہاٹی

’’اس کے سوا کچھ نہیں ہوا کہ بھارت نے اپنے لیے خطرات بڑھا لیے ہیں۔‘‘ جنرل صاحب کے لہجے میں اطمینان اور ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ سیلانی نے حیران ہو کر ان کی طرف دیکھا اورحتیٰ المقدور اپنی آواز نیچی رکھنے کی کوشش کی،’’سر! انھوں نے کشمیر کو باقاعدہ اپنی ریاست میں ضم کر لیا ہے، اس کی خصوصی اہمیت ختم کر دی ہے۔‘‘، ’’درست ایسا ہی ہوا ہے۔‘‘ جرنیل صاحب نے اطمینان سے جواب دیا۔ ’’دیکھو! کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم کرنے سے پہلے بھی وہاں بھارت نے اپنی سات لاکھ سے زیادہ فوج بھیج رکھی تھی، یعنی اس کی ایک تہائی فوج وہاں کشمیریوں کو سنبھالنے میں لگی ہوئی تھی، درست یا غلط؟‘‘، ’’درست ‘‘ سیلانی نے اثبات میں سر ہلا تو دیا لیکن اس کی آنکھوں میں الجھن واضح تھی۔

’’تو کیا 370ختم کرنے سے سارے کشمیری رام ہوجائیں گے اور ساری فوج کشمیر سے نکل جائے گی؟ ظاہر ہے ایسا نہیں ہوگا بلکہ اسے یہ اعلان کرنے کے بعد کشمیر میں مزید فوج بھیجنی پڑی ہے، یعنی بھارت کی معیشت پرمزید بوجھ پڑا ہے اور پڑے گا۔ جب امریکہ جیسا ملک اور نیٹو افغانستان میں یہ بھاری اخراجات برداشت نہیں کر پا رہے تو بھارت کب تک برداشت کرے گا۔‘‘ سیلانی نے جنرل صاحب کی بات کاٹی اور قطع کلامی کی معذرت مانگتے ہوئے کہا ’’لیکن اب وہاں آبادی کا تناسب بدل جائے گا؟ پورا بھارت انتہاپسند ہندو وہاں کالونیاں بنانے اور بستیاں آباد کرنے پہنچ جائیں گے۔‘‘

سیلانی کی بات پر جنرل نے میز پر سے چائے کا کپ اٹھایا اور اطمینان سے چائے کی چسکی لے کر کہا ’’آپ کہاں کے رہنے والے ہیں۔‘‘، سوال موضوع سے ہٹ کر تھا اس لیے عجیب سا لگا، لیکن سیلانی کو جواب دینے میں تامل نہ تھا، ’’میں کراچی سے آیا ہوں۔‘‘، ’’گڈ، کراچی میں بہت حالات خراب رہے ہیں، بوری بند لاشیں، ہڑتالیں، فائرنگ، جلاؤ گھیراؤ ۔۔۔ ایسا ہی رہاہے ناں‘‘
’’جی۔‘‘
’’جب یہ حالات تھے ان دنوں لوگ کراچی میں آ رہے تھے یا جا رہے تھے؟ ان دنوں میرے کئی دوست کراچی سے لاہور اسلام آباد اور دسرے شہروں میں منتقل ہوئے۔ بھارت نے ’’پینتیس اے‘‘ ختم کی ہے، 370ہٹائی ہے لیکن کیا اس اقدامات سے اس کے لیے مسائل ختم ہو گئے ہیں؟ نہیں جی بڑھ گئے ہیں اور رہی بات آبادی کا تناسب بدلنے کی تو بالکل وہ ایسا کرنے کی کوشش کرے گا اور کرتا رہا ہے، جموں کے پنڈتوں کو لا لا کر بساتا رہا ہے، لیکن یہ اتنا آسان ٹاسک نہ ہوگا۔‘‘

لیفٹننٹ جنرل (ر) رضا محمد خان کور کمانڈر بہاولپور اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر رہ چکے ہیں۔ سیلانی کے لیے ان کے تعارف کا مؤخر الذکر حصہ اہم تھا۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں نہایت اہم موضوعات پر سیمینار اور ریسرچ ہوتی ہے، ناممکن تھا کہ جنرل صاحب کشمیر کی موجودہ صورتحال سے ناواقف ہوں۔ وہ ایک نجی ٹیلی وژن کے نیوز شو میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ پروگرام شروع ہونے میں کچھ وقت تھا، اس لیے سیلانی کو ان سے بات چیت کا موقع مل گیا۔ سیلانی نے بلاتمہید کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا ذکر کیا تو اس کا خیال تھا کہ وہ حکومت پر گرجیں برسیں گے، سفارتکاروں پر غصہ نکالیں گے اور مسلم حکمرانوں کی بےحسی پر غصہ نکالیں گے لیکن جنرل صاحب آدھا گلاس بھرا ہوا دیکھنے والوں میں سے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   ناکام سیاسی نظام اور بدقسمت عوام!محمد اکرم چوہدری

عجیب اتفاق کی بات ہے کہ سیلانی نے فیس بک پر کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے بھارتی آئین کی دفعہ 370اور 35اے پرایک بلاگ لکھا اور ساتھ میں مقبوضہ کشمیر کی ایک دیوار پر لکھے ہوئے نعرے کی تصویر لگا دی کسی حریت پسند نے سرخ روشنائی سے لکھ رکھا تھا ’’INDIAN DOGS GO BACK‘‘، سیلانی نے یہ بلاگ لکھا اور کچھ دیر بعد فیس بک انتظامیہ کا پیغام آگیا کہ کمیونٹی اسٹینڈرڈ کی خلاف ورزی پر آپ سات روز کے لیے کسی قسم کی پوسٹ کرنے یا کسی بھی پوسٹ پرتبصرہ کرنے سے محروم رہیں گے۔ اس سے اگلے روز سیلانی جب دفتر پہنچا تو تمام رپورٹر اور نیوز روم میں دیوار سے لگی ٹیلی وژن کی اسکرینوں کے سامنے خاموشی سے کھڑے تھے۔ سب کے چہروں پر سنجیدگی تھی۔ ’’کیا ہوا ؟‘‘سیلانی نے ساتھی رپورٹر سے پوچھا۔ ’’بھارت نے کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کر دی‘‘، ’’بھارت کشمیر کھا گیا‘‘، ’’مودی نے کام دکھا دیا‘‘

ایک ساتھ تین رپورٹروں کے جواب مختلف لیکن معنی ایک تھے، کشمیر کو بھارت میں شامل کرناگجرات کے قصاب مودی کی بی جے پی کا منشور تھا۔ وہ جلسے جلوسوں میں یہ اعلان کرتا پھرتا تھا۔ اسے نے بڑی کامیابی سے پلوامہ ڈراما رچا کر بھارت میں جنگی جنون پیدا کیا۔ ہندو شدت پسندوں کو کنول کے پھول والے بی جے پی کے جھنڈے تلے جمع کیا۔ لوک سبھا میں واضح اکثریت حاصل کی اور کشمیر پر ہاتھ صاف کرنے کی تیاریوں میں لگ گیا۔ اس میں اور پاکستانی سیاستدانوں میں ایک فرق یہ تھا کہ اس نے اپنے انتخابی منشور کو کرسی کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ کرسی پر بیٹھنے کے بعد وہ اس منشور پر عمل کرنے کی فکر میں لگ گیا۔ غیر ملکی اخبارات چھاپ رہے ہیں کہ مودی نے ٹرمپ سے ملاقات میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا ذکر کیا تھا۔ اسے اعتماد میں لیا تھا۔ ایسا نہ بھی تھا تو اسے ہمارے لیے ’’سرپرائز‘‘ہونا ہی ہماری بے خبری پر مہر تصدیق ثبت کرنا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   ابابیلوں کا لشکر نہیں آنے والا - قادر خان یوسف زئی

اس اطلاع سے سیلانی کا دل بیٹھ سا گیا۔ سیلانی کے لیے کشمیر تکمیل پاکستان کے مکمل ایجنڈے کا نام ہے۔ پاکستان اور کشمیر لازم و ملزوم ہیں۔ پاکستان پھول تو کشمیر خوشبو ہے، اس کے نزدیک تحریک آزادی میں ایک پتھر اچھالنے والا تمام رات تسبیح پھیرنے والے سے افضل ہے۔ وہ آنکھوں میں عقیدت لیے ان سنگ باروں اور مجاہدوں کے چہروں کا طواف کرتا تھا، اس کے لیے یہ خبر افسوسناک تھی لیکن اس کے برعکس جنرل صاحب کہہ رہے تھے کہ لوا اپنے دام میں خود صیاد آگیا۔

جنرل صاحب کا کہناتھا کہ اب تحریک مزاحمت کا دائرہ بڑھے گا، وہ کشمیری بھی بھارت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے جو پہلے خاموش رہتے تھے، پھر اقوام متحدہ کی قراردادیں اپنی جگہ موجود ہیں، چین اس پر لازما ردعمل دے گا۔ اور ایسا ہی ہوا چین نے کا ردعمل بھی آگیا لیکن اس ساری صورتحال سے آنے والے دنوں کی سختی تو کم نہ ہوگی۔ بھارت پہلے اس مسئلے کو حل کرنے میں ڈھٹائی سے کام لے رہا تھا، اب اس نے اسے مسئلہ ہی ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

سابق سفارتکار عبدالباسط صاحب ان سفارتکاروں میں سے ہیں جنھوں نے نئی دہلی میں رہتے ہوئے بھارت کے سینے پر مونگ دلی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ بھارت کو مدد دے گا، وہ کبھی ہماری بات نہیں سنے گا۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت ہائی کمشنز میں نے جب دہلی میں حریت کانفرنس کے رہنماؤں سے ملاقات کی اور اس کے نتیجے میں وزیراعظم مودی نے فارن سیکرٹری سطح کی میٹنگ کینسل کی کہ میں حریت کانفرنس کے رہنماؤں سے کیوں ملا ہوں، تب ہی مجھے ان کے ایجنڈے کا اندازہ ہو چکا تھا، مجھے علم تھا کہ ایک نہ ایک دن یہ ہوگا۔ عبدالباسط صاحب نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ بھارت نے امریکہ کواعتماد میں لے کر یہ اقدام کیا ہے اور آپ دیکھ لیجیے گا کہ اس معاملے پر امریکہ سے کوئی جواب نہیں آئے گا، اور پھر ایسا ہی ہوا، امریکہ کے ردعمل میں اسی ساکن اور جامد تشویش کا اظہار تھا جس میں کبھی کوئی تحریک پیدا نہیں ہوئی۔ امریکی ترجمان نے کہا کہ جانتے ہیں بھارت اس اقدام کا اندرونی معاملہ قرار دیتا ہے، گویا امریکہ نے بھارتی اقدام کو سندبھی دے دی۔

سیلانی کا دل اداس ہو گیا لیکن دفعتا اسے یاد آیا کہ دشمن اپنی چالیں چلتا ہے اور اللہ اپنی تدبیرکرتا ہے۔ اللہ اس شر سے بھی خیر برآمد کرے گا۔ سیلانی نے زیر لب ان شاء اللہ کہا اور ٹیلی وژن کی اسکرین پر پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں وزیر اعظم کو گرجتا برستا دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.