ہمارے پیغمبر نے قربانی کی سنت کیوں اپنائی؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ایک دوست نے یہ سوال بھیجا ہے: "قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت تھی، تو ہمارے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کیوں اپنایا، اور پھر واجب کیوں کردی گئی کیونکہ اس کا ذکر قرآن مجید میں بھی صریح الفاظ میں کہیں نہیں ملتا؟" انھوں نے مزید یہ سوال کیا ہے: "یہودی اس کو پریکٹس نہیں کرتے، تو بھلا ہم کیوں کریں؟"

پہلے سوال کے جواب میں پہلے دو تمہیدی نکات نوٹ کریں:

ایک یہ کہ ہمارے پیغمبر ﷺ نے اسے کیوں اپنایا سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اگر ہمارے پیغمبر ﷺ نے اسے اپنایا ہے اور ہم پر واجب کیا ہے تو کیا ہم تب تک اس پر عمل نہیں کریں گے جب تک اس کی حکمت سمجھ نہ لیں کہ یہ کیوں واجب کی گئی؟ اگر ہماری پوزیشن یہ ہے تو معاف کیجیے گا یہ مؤمن کا طرز عمل نہیں ہوسکتا۔ مؤمن کا شیوہ یہ ہوتا ہے کہ اسے معلوم ہوجائے کہ حکم اللہ نے یا اس کے رسول نے دیا ہے تو وہ اس پر عمل کرے گا، خواہ اس کی حکمت اس کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے؛ اور وہ یہ مان کر عمل کرے گا کہ اس میں حکمت ہے۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اس سوال میں یہ غلط فہمی بھی پوشیدہ ہے کہ شریعت کا کوئی حکم تبھی واجب ہوتا ہے جب وہ قرآن میں صریح الفاظ میں ملے۔ ایسا نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے ثابت شدہ حکم شریعت کا حکم ہے خواہ وہ قرآن میں صریح الفاظ میں ملے یا نہ ملے۔

ان دو تمہیدی نکات کے بعد عرض ہے کہ قرآن میں قربانی کا حکم صریح الفاظ میں موجود ہے۔ جی ہاں، قرآن کریم میں رسول اللہ ﷺ کو حکم ہوا ہے: فصل لربک و انحر (پس آپ اپنے رب کےلیے نماز پڑھیں اور قربانی دیں۔) اسی قرآن میں مسلمانوں کو حکم ہے: و ما آتاکم الرسول فخذوہ و ما نھاکم عنہ فانتھوا (جو رسول تمھیں دیں وہ لو، اور جس سے وہ تمھیں روکیں اس سے باز آجاؤ۔) پھر رسول اللہ ﷺ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم کو فرمایا: ضحوا فانھا سنۃ ابیکم ابراھیم۔ (قربانی کرو کیونکہ یہ تمھارے باپ ابراہیم علیہ السلام کا طریقہ ہے۔)

یہ بھی پڑھیں:   ناروے میں مسلمان اور قرآن - فضل ہادی حسن

یہاں قربانی کا حکم دیا گیا ہے اور جس کام کا حکم دیا جائے وہ واجب ہوتا ہے (جب تک اسے وجوب سے نیچے لانے کی دلیل نہ ہو)۔ پھر قرآن مجید میں ہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ابراہیم علیہ السلام کی ملت کی اتباع کا حکم دیا گیا تھا: ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراھیم حنیفا، و ما کان من المشرکین۔ جب یہ معلوم ہوا کہ قرآن مجید میں قربانی کا حکم براہ راست بھی اور بالواسطہ بھی موجود ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت میں قولاً بھی قربانی کا حکم موجود ہے اور فعلاً بھی آپ نے خود اور آپ کے صحابہ نے آپ کے بعد اس فعل کو جاری رکھا، تو اس فعل کی شرعیت کے متعلق کوئی شبہ باقی نہیں رہا۔

(یہاں فقہاے احناف کا موقف پیش کیا گیا ہے۔ دیگر فقہاے کرام اس موقف سے متفق ہیں۔ البتہ وہ اس حکم کو وجوب سے کچھ ہلکا، یعنی سنت مؤکدہ، کی سطح پر مانتے ہیں۔ یہ محض درجے کا فرق ہے۔) باقی رہا یہ سوال کہ رسول اللہ ﷺ نے اس حکم کو کیوں جاری کیا تو اس کی حکمتیں بے شمار ہیں جو ذرا تامل سے معلوم ہوسکتی ہیں۔ یہ چونکہ ذوقی معاملہ ہے، اس لیے میں اس پر تفصیل نہیں دوں گا۔ ہر آدمی اپنے لیے خود سوچ لے۔

جہاں تک دوسرا سوال ہے تو اس کے متعلق عرض ہے کہ یہ بات بھی بہت بڑی غلط فہمیوں پر مبنی ہے۔ چنانچہ ایک غلط فہمی تو یہ ہے کہ یہود کے ہاں قربانی کا حکم نہیں پایا جاتا۔ ایسا نہیں ہے۔ یہودی شریعت میں قربانی کی بہت ساری قسمیں ہیں اور انتہائی تفصیلی احکام ہیں۔ بلکہ جس نے بھی یہودی قانون کا سرسری مطالعہ بھی کیا ہو وہ جانتا ہے کہ یہودی شریعت بنیادی طور پر قربانی کی شریعت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   قرآن کی عینک - ناہید خان

اب اگر سوال یہ ہے کہ یہ مخصوص قربانی جو بنی اسماعیل میں جاری رہی اور بعد میں رسول اللہ ﷺ نے اسے تاقیامت جاری کیا، یہود میں پائی جاتی ہے یا نہیں؟ تو میرا جواب اثبات میں ہے لیکن اگر یہ مخصوص قربانی ان کے ہاں نہ بھی پائی جاتی ہو تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ کیا ان کے ہاں مثال کے طور پر حج کی عبادت اس طرح پائی جاتی ہے جیسے بنی اسماعیل میں رائج رہی اور پھر رسول اللہ ﷺ نے امت میں تاقیامت جاری کی؟ یہی کچھ نماز، روزہ، زکاۃ اور دیگر کئی امور کے متعلق بھی کہا جاسکتا ہے۔

یہیں سے ایک اور غلط فہمی بھی سامنے آجاتی ہے کہ ہمارے ان دوستوں کا خیال ہے کہ اسلامی شریعت شاید یہودی شریعت ہی کی extension ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ اسلامی شریعت نے نہ صرف یہودی قانون کے ان احکام کو ختم کیا ہے جو یہود کے احبار نے اپنی جانب سے اضافہ کیے تھے، بلکہ ان احکام کو بھی منسوخ کردیا جو صرف مخصوص دور تک کےلیے تھے۔ نیز اسلامی شریعت نے وہ احکام بھی انسانیت کو لوٹادیے جو اللہ کی شریعت میں تھے لیکن یہود انھیں بھلا چکے تھے یا انھیں مسخ کرچکے تھے۔ چنانچہ یہود بہت کچھ کرتے ہیں جو ہم نہیں کرسکتے اور یہود بہت کچھ نہیں کرتے جس کا کرنا ہم پر لازم ہے یا وہ ہمارے لیے کم از کم باعثِ ثواب ہے۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.