کیا ایک شخص ایک سے زائد قربانی کرسکتا ہے؟ محمد رضی الاسلام ندوی

سوال: بعض حضرات اپنے علاوہ اپنے بیوی بچوں، ماں باپ اور دیگر اعز ّہ کی طرف سے بھی قربانی کرتے ہیں۔ اس کے لیے وہ کئی چھوٹے جانور ذبح کرتے ہیں ، یا بڑے جانوروں میں کئی حصے لیتے ہیں۔ بیوی اگر صاحب نصاب ہو تو کیا اس کا الگ سے قربانی کروانا ضروری ہے؟

جواب: ایک شخص اپنی طرف سے ایک جانور کی بھی قربانی کرسکتا ہے اور ایک سے زائد جانوروں کی بھی۔ اسی طرح وہ اپنے متعلقین کی جانب سے بھی قربانی کرسکتا ہے اور پورے گھر والوں کی طرف سے ایک جانور کی قربانی بھی کفایت کرسکتی ہے۔ احادیث میں ہر صورت کا بیان موجود ہے: حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے دو مینڈھوں کی قربانی کی ۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ آپؐ نے اپنے ہاتھوں سے انھیں ذبح کیا۔ (بخاری: ۵۵۵۸، مسلم: ۱۹۶۶)

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اپنے اور دیگر ازواج ِ مطہرات کے سفرِ حج کے احوال بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ آپؐ نے اپنی ازواج کی طرف سے گایوں کی قربانی کی۔ (بخاری: ۵۵۵۹، مسلم: ۱۲۱۱) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مینڈھے کی قربانی کی ۔ اسے ذبح کرتے وقت آپؐ نے یہ دعا پڑھی: ’’اے اللہ اسے قبول کرلے ، محمد کی طرف سے ، آلِ محمد کی طرف سے اور امت محمد کی طرف سے _ ‘‘ (مسلم: ۱۹۶۷) دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے دو مینڈھوں کی قربانی کی۔ ایک محمد اور آل محمد کی طرف سے اور دوسرا امت ِ محمد کی طرف سے ۔ (ابنِ ماجہ: ۳۱۲۲)

عطا بن یسار بیان کرتے ہیں کہ میں نے صحابیِ رسول حضرت ابو ایوب انصاریؓ سے دریافت کیا: عہد ِ رسول میں کس طرح قربانیاں کی جاتی تھیں؟ انھوں نے جواب دیا: اس زمانے میں آدمی اپنی طرف سے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری ذبح کرتا تھا۔ تمام لوگ خود کھاتے تھے اور دوسروں کو بھی کھلاتے تھے۔ بعد میں لوگوں میں فخر و مباہات کے طور پر زیادہ سے زیادہ جانوروں کی قربانی کا جذبہ پیدا ہوگیا اور ان کا ویسا حال ہوگیا جیسا تم دیکھ رہے ہو ۔‘‘ (ترمذی: ۱۵۰۵)

یہ بھی پڑھیں:   حج وفا کی نشانی - اسریٰ غوری

ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کے معاملے کو آدمی کی صواب دید پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ وہ حسبِ توفیق جتنے جانور چاہے قربان کرسکتا ہے ۔ البتہ اس نیک عمل کو اخلاص کے ساتھ اور اجر و ثواب کی امید میں انجام دینا چاہیے ۔ فخر و مباہات کے جذبے اور ریا کاری کے شائبے سے بچنا چاہیے۔

Comments

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

محمد رضی الاسلام ندوی نے ندوۃ العلماء لکھنؤ سے فراغت کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے BUMS اورMD کیا. ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی ہند کے رفیق رہے. سہ ماہی تحقیقات اسلامی کے معاون مدیر اور جماعت اسلامی ہند کی تصنیفی اکیڈمی کے سکریٹری ہیں. قرآنیات اور سماجیات ان کی دل چسپی کے خاص موضوعات ہیں. عرب مصنفین کی متعدد اہم کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.