بھارت نے پاکستان سے جنگ کو دعوت دی ہے - نیویارک ٹائمز ایڈیٹوریل بورڈ

بھارت دنیا کے خطرناک ترین مقام کشمیر کے ساتھ جوا کھیل رہا ہے۔ خصوصی حیثیت ختم کر کے اس نے پاکستان سے جنگ کو دعوت دی ہے۔ بھارتی حکومت کا کشمیر کی خود مختاری ختم کرنے کا فیصلہ، اور اس کے ساتھ ہی بہت بڑا سیکیورٹی آپریشن، خطرناک ہے اور غلط بھی۔ خونریزی کے یقینی امکانات ہیں اور پاکستان سے تناؤ میں بھی اضافہ ہوگا۔

ہمالیائی ریاست کشمیر طویل عرصے سے بھارت و پاکستان کے تناؤ کی مرکزی وجہ ہے اور علیحدگی پسندگی کا مرکز بھی۔ گزشتہ سات دہائیوں میں دونوں متحارب ملکوں کشمیر پر دعوے، دوجنگوں اور اکثر تشدد و دہشت گردی کی وجہ بنے، پاکستان اور بھارت کے ایٹمی ہتھیاروں نے اسے مزید خوفناک بنا دیا ہے۔ گزشتہ فروری میں کشمیری خودکش بمبار نے بھارتی فوجی قافلے پر حملہ کر کے، انتہائی تناؤ والا فوجی بحران پیدا کیا تھا جو فضائی جنگ کا سبب بن گیا تھا۔ اس سے قبل کے ایک واقعے کے بعد سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے کشمیر کو دنیا کا خطرناک ترین خطہ قرار دیا تھا۔

بھارتی حکومت کو اندازہ تھا کہ وہ کتنا خوفناک آگ لگانے والا کام کر رہی ہے، اسی لئے پیر کے اس اعلان سے پہلے ہزاروں اضافی فوجی وہاں متعین کیے، بڑے سیاسی لیڈروں کو اپنے گھروں میں مقید کر دیا، سیاحوں کو کشمیر چھوڑنے کا حکم دیا، اسکول اور انٹرنیٹ سروسز کو بھی بند کر دیا۔ حکومت نے دعوی کیا کہ وہ کسی ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کی روک تھام کے لیے یہ سب کر رہی تھی، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی اور اسک ی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی ہندو قوم پرستی کی گہری جڑیں رکھتی ہے، اور انہوں نے کبھی بھی اس بات کو چھپانے کی کوشش نہیں کی کہ وہ بھارتی آئین کی دفعات جو کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتی ہیں، کو منسوخ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اسے ایک تاریخی غلطی کا مداوا سمجھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکی نے امریکہ کو سرنڈر کرنے پر مجبور کر دیا - محمد شاکر

وہ ”غلطی“ 1947ء میں تقسیم ہند کے ساتھ شروع ہوئی جس میں راجہ کے زیر حکمرانی جموں و کشمیر کی حیثیت کا فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ پاکستان اور بھارت، دونوں نے اسے ہتھیانے کی کوشش کی، اس کا نتیجہ پاکستان کے پاس ایک تہائی اور بھارت کے پاس دوتہائی کشمیر آگیا۔ درمیان میں ایک مسلح اور گولیوں کے نشانات سے چھلنی لائن آف کنٹرول ہے۔ بھارتی کشمیر کو بھارتی قبضہ تسلیم کرنے کے عوض میں نسبتا خود مختاری دی گئی تھی۔

اقوام متحدہ نے کشمیری عوام کو ایک ریفرینڈم کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا کہا تھا، لیکن وہ کبھی نہ ہوسکا۔ بعد کے سالوں میں (اکثر پاکستانی حمایت یافتہ) مسلمان مزاحمت کار بھی کھیل میں شامل ہو گئے اور کشمیر میں بھارتی فوجوں پر اور بعض اوقات انڈیا کے اندرونی علاقوں تک حملے شروع کر دیے (بشمول 2008ء کے بمبئی حملے جس میں 160 افراد مارے گئے)۔

ان ناہموار حالات میں بھارت کی تازہ ترین کارروائی نے فوری ردعمل اور مزاحمت کے عزم کے اظہار کا موقع دیا۔ کشمیری بالخصوص کشمیر کی زمین غیر کشمیریوں کو خریدوفروخت پر پابندی، جو کہ دیگر بھارتی باشندوں کو کشمیر میں جائیداد خریدنے سے روکنے کے لیے ہے، ختم کرنے کی وجہ سے طیش میں ہیں۔

کشمیر کی سابقہ وزیر اعلی محبوبہ مفتی کے مطابق اگر ہماری شناخت کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا تو بہت بڑا فساد ہوگا۔ پڑوس میں پاکستان میں بھی فوری رد عمل دیا گیا۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق ”پاکستان اس غیرقانونی فیصلے کی مزاحمت کے لیے ہر ممکنہ قدم اُٹھائے گا“۔ پاکستانی حزب اختلاف کے لیڈر شہباز شریف کے مطابق ”کشمیر ہماری شہ رگ ہے اگر کوئی ہمارے شہ رگ پر ہاتھ ڈالے گا اسے دردناک انجام دیکھنا پڑے گا“۔

اس تنازعے کے بین الاقوامی اثرات بھی ہیں، صدر ٹرمپ کے دور حکومت کے دوران امریکہ نے اپنے طویل المدت اتحادی اور امریکی امداد وصول کرنے والے ملک پاکستان سے اپنی نوازشات بھارت کی طرف مبذول کر دیں۔ امریکی حکومت اسے چین کے خلاف اہم مہرہ سمجھتی ہے۔ دوسری طرف چین پاکستان کا اتحادی اور مالی سپورٹر بن گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جہاد کا نعرہ کشمیریوں کی موت؟ حبیب الرحمن

اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ یہ آئینی تبدیلی بھارتی سپریم کورٹ کے سامنے فیصلے کے لیے پیش ہو لیکن آگ تو لگ ہی چکی ہے۔ امریکہ اور چین کشمیر کو اپنے جھگڑے کا یرغمالی نہ بننے دیں اور دیگر طاقتیں جو پاکستان و انڈیا پر اثر رسوخ رکھتی ہیں، کو ہنگامی طور پر جو کچھ ان کے بس میں ہے، کریں، تاکہ بھارت کی اس حماقت کو خطرناک اور ناقابل پیش گوئی علاقائی بحران میں تبدیل ہونے سے روکا جاسکے۔

نیویارک ٹائمز ایڈیٹوریل بورڈ (ایڈیٹوریل بورڈ کی رائے بورڈ، ایڈیٹرز اور پبلشرز کی مجموعی رائے پر مشتمل ہوتی ہے)
ترجمہ : اعظم علی