حج اور قربانی کے حوالے سے چند فقہی مسائل کا جواب - مفتی منیب الرحمٰن

حج اور قربانی کا موسم شروع ہو چکا ہے، ا س حوالے سے چند اہم سوالات ہیں، اختصار کے ساتھ ان سوالات کے جوابات پیشِ خدمت ہیں، مثلاً : کیا آسٹریلوی گائے کی قربانی جائز ہے؟، کیونکہ سنا ہے کہ دودھ دینے کی صلاحیت میں اضافے کے لیے ان کی افزائشِ نسل حرام جانور سے کرائی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں یہ بات ذہن نشین رہے کہ فقہی رائے کا مدار سنی سنائی باتوں پر نہیں ہوتا، بلکہ حقائق و شواہد پر ہوتا ہے۔ مسلَّمہ فقہی قاعدہ ہے: ’’یقین شک سے زائل نہیں ہوتا ‘‘، تاہم اگر یہ بات درست بھی ہو تو یہ گائیں حلال ہیں، ان کا گوشت کھانا اور دودھ پینا جائز ہے، کیونکہ جانور کی نسل کا مدار ماں پر ہوتا ہے۔ علامہ مرغینانی لکھتے ہیں :’’اور جو بچہ پالتو مادہ اور وحشی نر کے ملاپ سے پید ا ہو، وہ ماں کے تابع ہوتا ہے، کیونکہ بچے کے تابع ہونے میں ماں ہی اصل ہے، حتیٰ کہ اگر بھیڑیے نے بکری سے ملاپ کیا، تو ان کے ملاپ سے جو بچہ پیدا ہوگا، اس کی قربانی جائز ہے ‘‘۔ اس کی شرح میں علامہ محمد بن محمود حنفی لکھتے ہیں: ’’کیونکہ بچہ ماں کا جُز ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بچہ آزاد یا غلام ہونے میں ماں کے تابع ہوتا ہے (یہ عہدِ غلامی کا مسئلہ ہے )، کیونکہ نر کے وجود سے نطفہ جدا ہوتاہے اور وہ قربانی کا محل نہیں ہے، اور ماں (مادہ) کے وجود سے حیوان جدا ہوتا ہے اور وہ قربانی کا محل ہے، پس اسی کا اعتبار کیا گیا ہے۔ (فتح القدیر ، ج: 9، ص : 532) ‘‘۔

ہمارے بہت سے لوگ مغربی ممالک میں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں، وہ اپنی قربانی اپنے آبائی وطن میں کرانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کا ایک سبب تو یہ ہے کہ وہاں بعض صورتوں میں اُن ممالک کے قوانین کی وجہ سے قربانی کرنا دشوار ہوتا ہے، اور دوسرا یہ کہ وہاں مستحقین دستیاب نہیں ہیں، لہٰذا وہ کسی رشتہ دار یا دینی مدرسہ یا رفاہی ادارے کو وکیل بنا کر قربانی کی رقم پاکستان بھیج دیتے ہیں تاکہ قربانی مستحقین تک پہنچ جائے۔ اس میں ان امور کا خیال رکھنا ہوگا: جس دن پاکستان میں کسی ایسے شخص کی قربانی بطور وکیل کی جا رہی ہے، جو امریکہ یا کینیڈا میں مقیم ہے، توضروری ہے کہ اس دن وہاں قربانی کے ایام ہوں (یعنی دس تا بارہ ذوالحجہ) اور یہاں بھی وہ قربانی کا دن ہو، خواہ وہ یہاں کے اعتبار سے عید کا پہلا دن ہو یا دوسرا یا تیسرا، کیونکہ بعض اوقات امریکہ یا کینیڈا میں عید ایک دن پہلے ہو جاتی ہے۔ البتہ وقت میں مقامِ ذبح کا اعتبار ہوگا، جن شہروں یا قصبات میں نماز عید ہوتی ہے، وہاں دس ذوالحجہ کو پہلی نمازِ عید کے بعد قربانی کی جائے گی، تین دن اور دو راتیں ایام قربانی ہیں، ہمارے فقہائے کرام نے رات کو قربانی کرنے کو مکروہ لکھا تھا اور اس کی علت رات کا اندھیرا ہے، لیکن اب بجلی کی روشنی کے سبب وجہِ کراہت مرتفع ہوچکی ہے۔

ایک فقہی مسئلہ یہ ہے کہ جو شخص کسی بھی سبب سے حج کے موسم (شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ) میں حرم میں پہنچ گیا تو اس پر حج فرض ہو جائے گا اور حج فرض ادا نہ کیا تو گنہگار ہوگا۔ اب پاکستان سے لوگ رمضان المبارک میں عمرے کے لیے جاتے ہیں اور بعض اوقات فلائٹ میں نشست نہ ملنے کی وجہ سے انھیں شوال کے ابتدائی دنوں تک مجبوراً رکنا پڑ تا ہے اور اب خود سعودی حکومت شوال کے مہینے میں عمرے کے ویزے جاری کرتی ہے۔ پس سوال یہ ہے کہ کیا ان پر حج فرض ہو جائے گا اور نہ کرنے کی وجہ سے گنہگار ہوں گے، حالانکہ اُن کے پاس حج تک کے لیے قیام وطعام کے لیے پیسے نہیں ہوتے، مزید یہ کہ سعودی حکومت کے نزدیک ان کا قیام غیر قانونی ہوتا ہے اور قانون کی گرفت میں آنے کی صورت میں انہیں سزا ہو سکتی ہے یا ملک بدر کیا جا سکتا ہے اور بعض صورتوں میں لوگ غیر قانونی طور پر رک جاتے ہیں اور بھیک مانگتے ہیں۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ وہ واپس اپنے وطن چلے آئیں، اُن پر حج فرض نہیں ہوا اور حج اد اکیے بغیر واپس آنے کی صورت میں وہ گنہگار نہیں ہوں گے، کیونکہ حج صاحبِ استطاعت پر فرض ہے اور ایامِ حج تک رکنے اور مصارفِ حج ادا کرنے کی ان کے پاس استطاعت ہی نہیں ہے، اور اگر اُن کے پاس تکمیلِ حج تک سعودی عرب میں قیام اور دیگر مصارفِ حج کی استطاعت تو ہے، لیکن سعودی حکومت ان دنوں میں وہاں قیام کی اجازت نہیں دیتی، تو غیر قانونی طور رکنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ کیونکہ جب ہم کسی ملک کا ویزا لے کر جاتے ہیں تو اس کے ضمن میں اُس ملک کے قوانین کی پابندی کا عہد بھی شامل ہوتا ہے اور قانون شکنی کی صورت میں سزا یا بےتوقیری کے ساتھ ملک بدری کی نوبت بھی آسکتی ہے، لہٰذا یہ شرعاً ناجائز ہے۔ رسول اللہ ﷺکا فرمان ہے : ’’مؤمن کے لیے روا نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے، صحابہ نے عرض کیا: (یا رسول اللہ!) کوئی شخص اپنے آپ کو کیوں ذلیل کرے گا؟، آپ ﷺنے فرمایا: وہ اپنے آپ کو ایسی صورتِ حال سے دوچارکرے، جس سے عہدہ برا ہونے کی وہ طاقت نہیں رکھتا، (اور انجامِ کار اسے ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ) (ترمذی : 2254)‘‘۔ الغرض مؤمن کے لیے عزتِ نفس اور اپنے شخصی وقار کا تحفظ ضروری ہے۔

جو شخص بیک وقت حج وعمرے کا احرام باندھے اور عمرہ ادا کرنے کے بعد احرام ہی میں رہے، اور حج ادا کرکے احرام کھولے، اسے قارِن (یعنی قِران کرنے والا) کہتے ہیں، اور اگر کوئی عمرہ کی نیت کرے اور عمرہ ادا کر کے احرام کھول دے اور پھر مکہ مکرمہ سے آٹھ ذوالحجہ کو حج کا احرام باندھ کر منیٰ جائے اور حج مکمل کرے، تو اسے تمتُّع اور ایسے شخص کو مُتَمَتِّعْ کہتے ہیں۔ تمتع اور قران کرنے والے پر دو عبادات (عمرہ وحج) کی سعادت سے سرفراز ہونے پر شکر انے کا دَم (قربانی) واجب ہے اور اسے دمِ تمتُّع اور دمِ قِران کہتے ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ قارِن چونکہ عمرہ ادا کرنے کے بعد بدستور اِحرام میں رہتا ہے اور مُحرِم ہوتا ہے، اس لیے اگر اس سے کوئی جنایت سرزد ہوجائے، تو جرم کی نوعیت کے اعتبار سے اس پر دو دم یا دو صدقے ہوں گے۔ ’’ہدایہ ‘‘ میں اسی طرح ہے۔ لیکن اس مسئلے میں قدرے تفصیل ہے، اگر قارِن نے اِحرام کی کسی جنایت کا ارتکاب کیا، جیسے سلا ہوا لباس پہن لیا یا بال کٹائے یا ناخن تراش لیے یا خوشبو استعمال کی، تو اسے دمِ قران (شکرانے کی قربانی) کے علاو ہ جرم کی نوعیت کے اعتبار سے دوکفارے (خواہ دم ہو یا صدقہ ) دینے ہوں گے، کیونکہ یہ جنایت عمرے اور حج دونوں کے احرام سے متعلق ہے، تو جز ا بھی دو ہوں گی اور اگر اس سے ایسی جنایت سرزد ہوئی جس کا تعلق صرف عمرے یا صرف حج کے واجبات سے ہے تو دمِ قران کے علاوہ صرف ایک اضافی کفّارہ (خواہ دم ہو یا صدقہ) دینا ہوگا، جیسے صرف عمرے کا طواف بےوضو کیا، یا جنابت کی حالت میں کیا، یا عمرے کی سعی چھوڑ دی اور اسی طرح حج کا طواف جنابت کی حالت میں یا بےوضو کیا، یا مغرب سے پہلے عرفات سے نکل گیا، یا حج کی سعی یا رمی چھوڑ دی، یا رمی سے پہلے حلق کر لیا یا قربانی کر لی (اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بیک وقت ان ساری جنایات کا ارتکاب کیا بلکہ ان میں سے کسی ایک کا ارتکاب کیا) تو صرف ایک کفّارہ ہو گا، کیونکہ ان اُمور کا تعلق صرف حج سے ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اگر بالفرض ایک ہی حج میں ایک سے زائد جنایات کا ارتکاب کر دیا، تو پھر جنایات کے مطابق اُتنے ہی دم یا صدقے دینے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   قربانی کی تاریخ - صائمہ عبدالواحد

ایسا شخص جو قربانی کرنے کا ارادہ رکھتاہے، وہ یکم ذو الحجہ سے عیدالاضحی کے دن تک یا جس دن قربانی کرے گا، اُس وقت تک ناخن اور بال نہ ترشوائے، اِس حکم پر عمل کرے تو بہتر ہے، نہ کرے تو مضائقہ نہیں کہ یہ مستحب ہے واجب نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے ذو الحجّہ کا چاند دیکھ لیا اور وہ قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تو جب تک قربانی نہ کرلے، بال اور ناخنوں سے کچھ نہ لے یعنی اِنہیں نہ ترشوائے۔ ( ترمذی: 1523) ‘‘۔ احادیث مبارکہ میں طہارت و نظافت کے احکام میں ناخن تراشنے، مونچھیں پست کرانے، بغل اور زیرِ ناف بال صاف کرنے کے لیے جو انتہائی مدت بیان کی گئی ہے، وہ چالیس روز ہے، اِس سے زائد مدت تک چھوڑے رہنا مکروہِ تحریمی ہے، حدیث میں ہے: ’’حضرت انس بیان کرتے ہیں: مونچھیں کاٹنے، ناخن ترشوانے، بغل کے بال لینے اور زیرِ ناف بال دور کرنے کے لیے یہ میعاد مقرر کی گئی کہ چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑیں۔ ( مسلم :599)‘‘۔

امام احمد رضا قادری لکھتے ہیں: ’’اگرکسی شخص نے ۳۱ دن سے کسی عذر کے سبب یا بلاعذر نہ ناخن تراشے ہوں، نہ خط بنوایا ہو کہ ذوالحجہ کا چاند طلوع ہوگیا، تو وہ اگرچہ قربانی کا ارادہ رکھتاہو، اس مستحب پر عمل نہیں کرسکتا کہ اب دسویں تک رکھے گا تو ناخن و خط بنوائے ہوئے اکتالیسواں دن ہوجائے گا، اور چالیس دن سے زیادہ نہ بنوانا مکروہِ تحریمی ہے، اور مستحب کی رعایت کرنے کے لیے واجب کو ترک نہیں کیا جاسکتا۔ ردالمحتار میں ہے: ذوالحجہ کے دس دنوں میں ناخن کاٹنے اور سرمنڈانے کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ سنّت کو مؤخر نہ کیا جائے جبکہ اس کے متعلق حکم وارد ہے، تاہم تاخیر واجب نہیں ہے۔ تو یہ بالاجماع استحباب پر محمول ہے اور وجوب کی نفی استحباب کے منافی نہیں ہے ، لہٰذا مستحب ہے۔ ہاں! اگر استحباب پر عمل اباحت کی مدت میں تاخیر کا باعث بنے جس کی انتہا چالیس روز ہے، تواستحباب پر عمل کو ترک کردے۔ (فتاویٰ رضویہ ،جلد20، ص:354،بتصرف)‘‘۔ بہتر اور افضل یہ ہے کہ جو مسلمان قربانی کا ارادہ رکھتے ہیں، اُنہیں ذوالحجہ کے چاند سے ایک دو دن پہلے طہارت یعنی ناخن تراشنے، مونچھیں اور ضرورت سے زیادہ بال کٹوالینے چاہییں تاکہ مستحب پر عمل کرنے میں ترکِ سنّت لازم نہ آئے۔

ہماری قدیم کتبِ فقہ میں لکھا تھا: مکہ الگ مقام ہے، منیٰ و عرفات و مزدلفہ الگ مقامات ہیں، لہٰذا جب حجاجِ کرام ۸ ذوالحجہ کو مکۂ مکرمہ سے مِنیٰ کی طرف جائیں گے تو اگر کوئی حاجی اس سے پہلے مکہ میں پندرہ دن کے لیے مقیم نہیں تھا، تو وہ مسافر ہوگا اور ان مقامات پر قصر نماز پڑھے گا۔ لیکن اب چونکہ بلدیہ مکۃ المکرمہ کی حدود وسیع ہو چکی ہیں اور منیٰ و عرفات و مزدلفہ حدودِ بلدیہ میں آچکے ہیں، لہٰذا اب یہ مکۂ مکرمہ میں شامل ہیں اور الگ مقامات نہیں ہیں۔ مکۂ مکرمہ میں رہنے والے علمائے کرام نے اس مسئلے کی جانب متوجہ کیا، لہٰذا ہم نے یہ فتویٰ دیا: ’’اگر حج سے پہلے مکۂ مکرمہ میں قیام، ایامِ حج میں منیٰ و عرفات و مزدلفہ میں قیام اور بعدالحج مکۂ مکرمہ میں قیام کی مجموعی مدت کم از کم پندرہ دن یا اس سے زیادہ بنتی ہو تو ان تمام دنوں میں وہ پوری نماز پڑھے گا، کیونکہ اس پر سفرکا نہیں، بلکہ اِقامت کا حکم عائد ہوگا۔ پاک و ہند کے کئی علماء نے اس رائے کو اختیار کیا ہے۔

ہمارے مفتیانِ کرام میں سے علامہ مفتی محمد رفیق حسنی صاحب نے بھی اسی مؤقف کو اختیار کیا ہے اور انہوں نے مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے استفسار کے جواب میں سابق امامِ حرم شیخ عبداللہ بن سبیل کے مندرجہ ذیل مکتوب کاحوالہ دیا ہے: ’’ہمارے لیے جو ظاہر ہے وہ یہ کہ آج جب کہ مکۂ مکرمہ کی عمارات نے منیٰ کی حدود کا احاطہ کر لیا ہے اور وہ عرفات تک پھیل گئی ہیں، اس بنا پر منیٰ عرفات وغیرہ مکۂ مکرمہ کے محلوں میں سے ایک محلہ ہے، سو مکہ سے منیٰ جانے والے کو مسافر شمار نہیں کیا جاتا، اس بنا پر حاجی کے لیے جائز نہیں ہے کہ منیٰ میں قصر کرے اور نہ اس کے لیے عرفات میں نمازوں کا جمع کرنا جائز ہے، یہ مسئلہ اُن علماء کی رائے کے مطابق ہے جو یہ کہتے ہیں کہ منیٰ میں قصر کی علّت مسافر ہونا ہے، کیونکہ منیٰ جانے والا حدودِ مکہ سے خارج نہیں ہوا۔ البتہ جن علماء کا کہنا یہ ہے کہ منیٰ وغیرہ میں قصر ایک مستقل عبادت ہے، جیسا کہ مالکیہ کا مذہب ہے، سو آپ پر مخفی نہیں کہ حکم ثابت ہے۔ رہا آپ کا یہ سوال کہ آیا سعودی عرب کی حکومت ان دونوں مقامات کے ساتھ ایک شہر جیسا معاملہ کرتی ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ منیٰ مکۂ مکرمہ کے محلوں میں سے ایک محلہ ہے، صرف اتنی بات ہے کہ حکومت کا منیٰ میں عمارتیں بنانے سے منع کرنا مصلحتِ عامہ کی بنا پر ہے، کیونکہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ منیٰ کا مالک ہو اور منیٰ و دیگر مَشاعر (مزدلفہ وعرفات) میں سے کوئی شے اس کے ساتھ خاص ہو، کیونکہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے : منیٰ ہر اس شخص کے لیے جائے قرار ہے جو پہلے وہاں پہنچے‘‘۔ علامہ علی القاری نے لکھا ہے: ’’مالکیوں کا مذہب یہ نہیں ہے کہ قصر فی نفسہٖ عبادت ہے، بلکہ اُن کا مذہب یہ ہے کہ نمازوں کو جمع کرنا نُسُک ہے اور یہ سفر کے ساتھ خاص نہیں ہے، غیرِ مسافر بھی عرفہ میں نمازیں جمع کر سکتا ہے‘‘۔

مفتی محمد شریف الحق امجدی لکھتے ہیں: ’’جو لوگ مکۂ معظمہ میں حج کی نیت سے حاضر ہوں اور بشمول منیٰ و عرفات مکۂ معظمہ میں بلکہ حج کے بعد کے ایام بھی ملا کر پندرہ دن سے کم قیام کا ارادہ رکھتے ہوں، تو وہ مکۂ معظمہ میں بھی قصر پڑھیں گے اور منیٰ وغیرہ میں بھی اور جو حضرات ان تمام ایام یعنی ایامِ حج سے پہلے مکۂ مکرمہ میں قیام، ایامِ حج اور حج کے بعد مکۂ مکرمہ میں قیام کے ایام کو ملا کر مکۂ معظمہ میں پندرہ دن یا اس سے زائد قیام کا ارادہ رکھتے ہوں، وہ مکۂ معظمہ میں بھی پوری نماز پڑھیں گے حتیٰ کہ منیٰ، عرفات اور مزدلفہ ہر جگہ پوری پڑھیں گے۔ (نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری ،ج:2،ص: 650،بتصرف)‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   عید الاضحی سنت ابراہیمی زندہ کرنے کا دن - رانا اعجازحسین چوہان

یہ سوال کہ حجاجِ کرام جب حج پر مکۂ مکرمہ چلے جاتے ہیں، تو منیٰ میں قارِن اور مُتَمَتِّع دمِ قران اور دمِ تمتُّع دیتے ہیں یعنی شکرانے کی قربانی کرتے ہیں۔ قارِن اُسے کہتے ہیں جو بیک وقت عمرے اور حج کا احرام باندھے اور عمرہ ادا کرنے کے بعد اِحرام کے اندر ہی رہے اور حلق کر کے احرام کھولے۔ مُتَمَتِّع اُسے کہتے ہیں جو اپنے میقات سے عمرے کا احرام باندھ کر جائے، عمرہ ادا کرنے کے بعد احرام کھول دے اور آٹھ ذوالحجہ کو حج کا احرام باندھ کر منیٰ کی طرف جائے، کیونکہ قارِن اور مُتمتّع عمرہ اور احرام دونوں عبادات کی سعادت حاصل کرتے ہیں، اس لیے اُن پر شکرانے کی قربانی واجب ہے، جسے بالترتیب ’’دمِ قران‘‘ اور ’’دمِ تمتُّع‘‘ کہتے ہیں۔

فقہ حنفی کا ایک موقف یہ ہے کہ مسافراورحاجی،خواہ اہلِ مکہ میں سے ہو، پر عید الاضحی کی قربانی واجب نہیں ہے، لیکن بعض علماء کا محتاط موقف یہ ہے کہ اگرحج سے پہلے، ایامِ حج اور بعدالحج کی مدت ملاکر مکۂ مکرمہ میں قیام پندرہ دن یا اس سے زائد ہو جائے تو صاحبِ نصاب ہونے کی صورت میں اُس پر عیدالاضحی کی قربانی واجب ہوگی، البتہ اس کے لیے یہ وسعت ہے کہ چاہے تو یہ قربانی حرم میں دے اور چاہے تو اپنے وطن میں کسی کو اپنا وکیل بناکر قربانی ادا کرے۔

فقہِ حنفی میں عرفات میں غروبِ آفتاب کا یقین ہوجانے پر مزدلفہ روانہ ہو، وہاں پہنچ کر مغرب و عشاء کی نماز ایک ساتھ ادا کرے اور پھر طلوعِ فجر سے قبل مناسب وقت تک آرام کرنا سنت ہے کہ آپ ﷺ نے امت کی آسانی کے لیے اس رات تہجد کی نماز بھی ادا نہیں فرمائی۔ صبح صادق کے بعد اور سورج کے طلوع ہونے سے پہلے تک مزدلفہ کی حدود میں وقوف واجب ہے، اگر نہیں کرے گا تو دم لازم آئے گا۔ البتہ بیماری، کمزوری یا بڑھاپے کے سبب ضُعف لاحق ہو تو صبح صادق سے پہلے جاسکتا ہے۔ علامہ نظام الدین لکھتے ہیں: ’’اگر مزدلفہ کی حدود سے طلوعِ فجر سے پہلے چلا گیا، تو اس پر دم لازم ہے، کیونکہ اس نے وقوفِ مزدلفہ کو ترک کیا، لیکن اگر اُسے کوئی عذر درپیش ہے یا بیمار ہے یا ضعیف ہے اور ازدحام کا خوف ہے اور وہ رات ہی کو چلا گیا تو اس پر دم واجب نہیں ہے۔ اَلسِّرَاجُ الْوَہَّاج میں اسی طرح ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری، ج: 1، ص:231)‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ آج کل ازدحام بھی عذر ہے۔ ’’حضرت عبداللہ بن عمر اپنے گھر کے کمزور افراد کو پہلے منیٰ بھیج دیا کرتے تھے‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں: ’’میں اُن لوگوں میں سے تھا جن کو نبی ﷺ نے مزدلفہ کی رات میں کمزور افراد کے ساتھ منیٰ روانہ کردیا تھا۔ (صحیح البخاری:1676-78)‘‘۔ لہٰذا اگر ضعیف لوگ یا کم عمر بچے یا عورتیں بیماری اور کمزوری کے سبب یا ازدحام کے خوف سے صبح صادق سے پہلے مزدلفہ سے منیٰ چلے جائیں تو عذر کی بنا پر اُن کو اجازت ہے اور اُن پر دم واجب نہیں ہوگا۔

ایک مسئلہ اکثر دریافت کیا جاتا ہے کہ جس عورت کو شوہر یا محرم کی رفاقت میسر نہ ہو، آیا وہ عورتوں کے گروپ میں شامل ہو کر حج یا عمرے پر جا سکتی ہے۔ اس کی بابت فقہِ حنفی کا اصولی مسئلہ تو یہی ہے کہ سفرحج و عمرہ کا ہو یا دیگر مقاصد کے لیے، اگر اس کی مسافت اٹھانوے کلومیٹر کے برابر ہے، تو عورت شوہر یا محرم کی رفاقت کے بغیر سفر نہیں کرسکتی۔ لیکن عورتوں کو مشکلات درپیش ہیں کہ یا تو وہ کسی محرم کا خرچ برداشت کریں یا اس عذر کے سبب حج و عمرے پر جانے سے محروم رہیں۔ نیز ہمارے فقہائے کرام نے اس مسئلے پر بھی بحث کی ہے کہ اگر عورت کو شوہر یا محرم کی رفاقت دستیاب نہیں ہے، اور وہ اپنی زندگی میں فریضۂ حج ادا نہیں کرسکتی، تو کیا اس پر حجِ بدل کی وصیت کرنا یا کسی کو فرض حجِ بدل کے لیے بھیجنا لازم ہے۔ فقہائے کرام میں سے جن کا مؤقف یہ ہے کہ عورت کے لیے محرم کی رفاقت حج کے فرض ہونے کی شرط ہے، اُن کے نزدیک اس پر نہ کسی کو حجِ بدل پر بھیجنا اور نہ اس کی وصیت کرنا لازم ہے، البتہ جن کا مؤقف یہ ہے کہ عورت کے لیے شوہر یا محرم کی رفاقت حج کے ادا کرنے کی شرط ہے، تو اُن کے نزدیک اس کے لیے فرض حجِ بدل کرانا یا اس کی وصیت کرنا لازم ہے، ورنہ گناہگار ہوگی۔

امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اگر ثقہ عورتوں کی ایک جماعت حج یا عمرے پر جا رہی ہے، توجس عورت کو شوہر یا محرم کی رفاقت میسر نہیں ہے، وہ اُن کے ساتھ جا سکتی ہے۔ بعض حالات میں ہمارے فقہائے کرام نے دفعِ حرج اور یُسر کے لیے دوسرے ائمہ کے مذہب پر عمل کی اجازت دی ہے، اور ہمارے معاصر فقہاء میں سے مفتی محمد رفیق حسنی نے لکھا ہے: ’’اب احناف کو موجودہ دور میں امام شافعی کے مذہب کے مطابق فتویٰ دینا چاہیے، اگر ثقہ خواتین عورتوں کا کوئی گروپ ہو تو وہ عورت جسے شوہر یا محرم کی رفاقت میسر نہیں ہے، اُن کی رفاقت میں فریضۂ حج ادا کرلے۔ (رفیق المناسک ،ص: 481)‘‘۔

ہماری رائے میں اب مفتیانِ کرام کو اس مسئلے پر غور کرنا چاہیے، اس کا ایک سبب تو یہ ہے کہ ماضی کے مقابلے میں سفر آسان ہے، بس یا ہوائی جہاز میں عورتوں کو ایک ساتھ بٹھا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح جو لوگ ٹورسٹ گروپوں میں یا سرکاری اسکیم میں حج پرجاتے ہیں، اُن میں بھی عورتوں کو الگ کمرے میں ٹھہرایا جاتا ہے اور اس میں مردوں کے ساتھ اختلاط نہیں ہوتا۔ سو بجائے اس کے کہ گروپ لیڈر جھوٹ کا سہارا لے کر کسی مرد کو کسی عورت کا محرم ظاہر کرے، بعض مخصوص صورتوں میں اس رخصت پر غور کرنا چاہیے، یعنی جواں عمر خواتین کے لیے عمومی اجازت دینا حکمتِ دین کے منافی ہے۔ سعودی حکومت نے تو لبرل ازم کی رو میں شریعت سے ماورا کافی آزادیاں دے دی ہیں، چنانچہ حال ہی میں انہوں نے اکیس سالہ لڑکی کو والدین کی معیت کے بغیر پاسپورٹ بنانے اور سفر کی اجازت دے دی ہے۔

ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ہندوستان کی بعض ریاستوں میں گائے کا ذبیحہ ممنوع ہے، حقیقی ذبیحہ تو دور کی بات ہے، محض شک کی بنیاد پر مسلمانوں کی جان کے درپے ہو جاتے ہیں، اس لیے جہاں جان اور آبرو کا خطرہ ہو، انہیں چاہیے کہ گائے کی قربانی سے احتراز کریں، اور بھینس، اونٹ یا بکرے دنبے کی قربانی کے ذریعے سنتِ ابراہیمی کو ادا کریں۔