13 سے 19 سال کے بچوں کے لیے چند کار آمد باتیں - جاوید اختر ارائیں

خضر اور میران جب ٹین ایج میں داخل ہوئے تو انہیں کچھ باتیں خاص طور پر سمجھائی گئیں، مثلاً سب سے پہلے اور سب سے زیادہ اصرار اس بات پر رہا کہ اپنے ناخن ہمیشہ صاف ستھرے اور درست انداز میں کاٹ کر رکھنا، اس لیے کہ لوگ سب سے پہلے آپ کے ناخن دیکھتے ہیں۔ صرف دیکھتے ہیں، کہتے کچھ نہیں مگر نمبر کٹ جاتے ہیں..!

دوسری بات ڈیڈورنٹ ضرور لگایا کرو، آپ کے پاس سے کوئی بری سمیل نہیں آنی چاہیے، کیونکہ اس سے آپ کے دوست، اسکول فیلو، ساتھ سفر کرنے والے ہم سفر، آفس کولیگ سخت پریشان ہوسکتے ہیں، لیکن وہ بولیں گے کچھ نہیں، کیونکہ یہ بہت پرسنل معاملہ ہے۔

اس کے بعد اپنے دانت بہت اچھی طرح صاف رکھنا، منہ سے آنے والی بدبودار سانس آپ کے مخاطب کو سخت ناگوار گزرتی ہے، مگر لوگ بولیں گے نہیں۔ آپ کو کہہ نہیں سکتے کہ کہیں آپ ناراض نہ ہوجائیں لیکن اس سے متعلق ناگواری سے سوچتے ضرور ہیں۔

گردن اور کان کی صفائی بہت توجہ سے کرنی ہے۔ ناک کے بال ہر ہفتے کاٹنے ہیں۔ گردن بہت اچھی طرح مل کر دھونی ہے کوئی میل نظر نہ آئے کیونکہ کوئی اس بارے میں سمجھاتا نہیں ہے۔ دیکھتا ضرور ہے اور خاموش رہتا ہے۔ پھر ناک کان منہ میں انگلیاں نہیں ڈالنی، ناخن نہیں چبانے، بار بار ناک چہرا سر نہیں کھجانا، ضرورت ہو تو بہت نفاست سے سلیقے سےایسا کرسکتے ہیں۔ مثلاً ناک میں خارش ہو رہی ہے تو انگلی سے نہیں، الٹے ہاتھ کی پشت سے آہستہ سے کھجا سکتے ہیں۔ سیدھے ہاتھ سے تو ہرگز نہیں، جس سے آپ نے کسی سے ہاتھ ملانا ہے۔ اس سے بہتر ہے رومال یا ٹشو پیپر ضرور ساتھ رکھنا۔ اسی طرح غیر ضروری طور پر جسم کے مخصوص حصوں کو کبھی ٹچ نہ کرنا۔

یہ بھی پڑھیں:   بابا بلھے شاہ کی نگری میں پھر خوف کے سائے - رانا ظفر اقبال

چند مزید ہدایات یاددہانی کے لیے
شلوار ہو یا پینٹ، انڈروئیر ضرور پہنو، گھر سے باہر جاتے وقت۔ منہ اٹھائے جھاڑ جھنکار روانہ مت ہو۔ اپنا منہ ہاتھ دھو کر، بال بنا کر، درست لباس، اچھے شوز پہن کر جاؤ۔ چاہے قریب کی مارکیٹ سے کچھ سامان ہی کیوں نا لانا ہو۔ جوتے کی پالش اور صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ آپ کی شخصیت کے بارے میں لباس سے زیادہ آپ کے جوتے بتاتے ہیں۔ آدھے پونے پاجامے، ادھوری شرٹس سخت معیوب لگتی ہیں۔ خاص طور پر مسجد جاتے ہوئے شلوار قمیض میں ہونا چاہیے۔ آدھے بازو کی چھوٹی شرٹ اور جینز کی پینٹ بہت مناسب لباس نہیں۔

گھر کے اندر کا لباس بھی باوقار ہونا چاہیے۔ ماں باپ اور بہنوں کے کمروں میں کبھی دروازہ بجائے بغیر نہیں جانا۔ بہنوں کے کمرے میں بلاوجہ نہیں بیٹھنا۔ اپنے میلے کپڑے خود دھونا سیکھو۔ انھیں بے نیازی کے ساتھ واش روم میں چھوڑ کر مت آؤ۔ اپنی ضرورت کی پرسنل چیزیں اپنی الماری میں رکھیں۔

جب یہ ٹین ایج میں داخل ہوئے تو بازار سے ریزر بلیڈز لا کر دیے اور اپنے بازو پر بال صاف کر کے سمجھایا کہ کس طرح اپنے جسم کے اندرونی حصوں کے بال ہر ہفتے صاف کرنے ہیں۔

اپنی اور دوسروں کی پرسنل اسپیس کا بہت خیال رکھنا۔ پرسنل اسپیس ناپنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اپنا ہاتھ پورا بازو کھول لیں، یہ اندازاً ڈھائی سے تین فٹ بنتا ہے۔ نہ کبھی کسی کی پرسنل اسپیس میں جائیں، یعنی تین فٹ دور رہ کر بات کریں، نہ کسی کو زیادہ قریب آنے دیں۔ یقیناً سفر میں، کار، بس، جہاز کی سیٹ کا معاملہ ذرا مختلف ہے، لیکن اس کے بھی آداب ہیں اور سفر کے سب آداب سیکھنا چاہییں۔ بچوں کو سمجھایا ہے کہ کسی کو فون کریں یا کسی کے پاس جائیں، سب سے پہلے ایک سانس میں یہ چار باتیں بتا دیں۔ سلام، نام، جگہ، کام، یعنی پہلے سلام کریں، پھر اپنا اور اپنے ادارے کا نام بتائیں، پھر آنے کا مقصد بتا کر اجازت لیں کہ آپ سے بات ہوسکتی ہے..؟ میں اندر آسکتا ہوں..؟ یا کرسی پر بیٹھ سکتا ہوں..؟ اجازت ملے تو ٹھیک ورنہ پھر کبھی سہی..! بغیر اجازت کسی کی میز سے ایک بال پین یا ٹشو تک نہیں اٹھانا کیونکہ "یہ جرم کے زینے کا پہلا قدم ہے۔"

یہ بھی پڑھیں:   بلوچستان کے نوجوان اب بھی لائبریری کے لیے کوشاں ہیں - گہرام اسلم بلوچ

ایک بات جو اکثر بتائی کہ بیٹا کسی سے فون پر بات کریں یا کسی کے پاس جائیں، اپنے چہرے پر ہلکی سی حقیقی مسکراہٹ ضرور رکھیں۔ یہ مسکراہٹ آپ کے لیے بے شمار دروازے کھول دیتی ہے۔ کسی سے ہاتھ ملاؤ تو پورا ہاتھ ملاؤ، گرم جوشی سے اس کے ساتھ ساتھ نظریں بھی ملاؤ، یہ نہیں کہ منہ ادھر ہاتھ ادھر، بات کسی اور سے..!

وطن کے سارے بچوں کو میں اپنا بچہ ہی سمجھتا ہوں۔ ان بچوں کی اچھی تربیت ان کے لیے ہمارا سب سے اچھا تحفہ ہے۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں