توڑ دیتا ہے بت ہستی کو ابراہیمی عشق - زرافشاں فرحین

زمانے میں کچھ کردار لازوال و بے مثال ہی نہیں باعث تقلید افتخار بھی ہوتے ہیں۔ انھی میں سے ایک کردار جسے ہر مذہب آسمانی کے پیروکاروں نے اپنا رہبر و رہنما تسلیم کیا، بلکہ آفاقی دین اسلام میں بھی تا ختم آدمیت انبیاؑ کا جد امجد قرار دیا گیا، ذات اقدس سیدنا حضرت ابراہیم ؑ کا ہے. جن کی زندگی کا درخشاں آفتاب تا قیامت اہل ایمان کے لیے باعث تقلید و روشن مثال ہے۔

حضرت ابراہیم ؑجن کی زندگی میں آنے والی آزمائیشیں اپنی نوعیت کے اعتبار سے سختی کے انتہا درجے پر ہی نہیں بلکہ ان آزمائشوں پر آپ کا صبر و ثبات بھی اس اعلی درجے کی ارفع مقبولیت پر نظر آتا ہے، جہاں عقل دنگ رہ جاتی ہے، الفاظ ختم ہوجاتے ہیں۔ قدرت خود گویا ہوجاتی ہے کہ بتا تیری رضا کیا ہے؟ سیرت کردار میں وہ کیا چیز تھی جس نے یہ اعلی مقام آپ کو عطا کیا۔


بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

عقل ہے محو تماشاء لب بام ابھی


نمرود کے دربار میں توحید کی دعوت کا علم لے کر حضرت ابراہیمؑ کھڑے ہیں۔ موت کا فیصلہ سنایا جا چکا ہے۔ آگ دہکائی جا رہی ہے۔ دیکھنے والی آنکھیں اشکبار ہیں۔ دل دھڑک رہے ہیں۔ حق شناس حضرت ابراہیمؑ کی طرف نگاہیں جمائے منتظر ہیں کہ مشیت خداوندی اپنے نبی، اپنے رسول عاشق رب العالمین کے لیے کیا فیصلہ کرتی ہے۔ اور آپ تبسم فرما رہے ہیں کہ جو میرے رب کی رضا ہے، میری رضا ہے۔ قانون فطرت مجبور ہوجاتا ہے اس ادا پر اور آگ گل وگلزار بن جاتی ہے۔ وہ آگ جس کا کام جلانا تھا، راحتوں مسرتوں کا ڈھیر بن جاتی ہے۔ قانون فطرت حضرت ابراہیم کے انداز عشق پر آخر قربان کیوں! کیسے؟

ہم سب جانتے ہیں حضرت ابراہیم نے اپنے بت پرست خاندان میں روایت سے ہٹ کر بغاوت کی۔ آخر کیسے ان ہاتھوں سے تراشیدہ پتھر کے بےجان بتوں کو اپنا رب مان لیں جو خود اپنے نفع و نقصان پر قادر نہیں۔ حسب روایت خاندان، برادری، قبیلہ سب سیدناابراہیمؑ کے خلاف ہوجاتے ہیں، اور یہ بھی آپ کا ہی حوصلہ ہے کہ سب کی مخالفتوں کے باوجود حق کی تلاش میں کمربستہ رہتے ہیں۔ مضطرب دل لیے ڈھونڈ رہے ہیں کہ کہاں ہے وہ ہستی جسے اپنا رب مان لوں، جس کا سہارا تھام لوں۔ تارے کو دیکھا، سورج کو جانچا، چاند کی ٹھنڈی میٹھی روشنی بھی دل کو نہ بھائی۔ یہ رب نہیں ہوسکتے کیونکہ رب فانی نہیں ہوتا، رب تو وہ ہے جو زندگی دینے والا ہو، نہ کہ وہ خود فنا ہونے والا ہو۔ بےچینی دل ہجرت پر مجبور کرتی ہے۔گھر کی قربانی، اقربا سے دوری، اپنا وطن چھوڑنا اور دربدر کی خاک چھاننے کے لیے سرگرداں آزردہ دل بالآخر محبوب کی تلاش میں منزل تک پہنچ ہی جاتا ہے۔ نبوت کے اعلیٰ منہج پر سرفراز ہو کر سکون پاتا ہے کہ میرا رب مجھے مل گیا، حالانکہ رب نے اس متلاشی روح کو خود اپنی بارگاہ میں قبول کر لیا تھا۔ اور قبولیت کا ایسا درجہ عطا کیا جو محبت الہی کا معیار مطلوب قرار پایا۔

سوال یہ ہے کہ آخر یہ حضرت ابراہیمؑ کی محبت و عشق بلاخیز کبھی بےیقینی و تذبذب کا شکار ہو کر شکست سے دوچار کیوں نہ ہوئی۔ وہ کیا تھاجس نے رب کی حقیقت کو جان کر کبھی شک میں مبتلا نہ ہونے دیا اور نہ ہی انجام کی فکر میں مبتلا کیا۔


توڑ دیتا ہے بت ہستی کو ابراہیمی عشق

ہوش کا دارُو ہے گویا مستی تسنیم عشق


سیدنا ابراہیم نے اپنے ہاتھوں سے تراشیدہ بت ہی نہیں توڑے تھے بلکہ اپنی ذات کی نفی، اپنی میں کی قربانی، اپنے نفس، اپنی خواہشات، دل کی پسند ناپسند ہر شے کو اپنی محبت میں قربان کر دیا تھا۔ کیا ان کا دل نہ تڑپ گیا ہوگا جب اپنی بستی، اپنے قبیلے کو چھوڑ ا۔ اپنی آبائی مٹی سے دوری اختیار کی ہوگی تو کیا وطن کی محبت نے پیروں میں زنجیر نہ ڈالی ہوگی؟ اور اس وقت جب اپنے لخت جگر کو بارگاہ الہی میں قربان کرنے کی رسم محبت ادا کی تھی تو کیا پدرانہ جذبات ابھر ابھر کر راستے کی رکاوٹ نہ بنے ہوں گے؟ ہر باپ دل پر ہاتھ رکھے تو گواہی دے سکتا ہے کہ جگر گوشے کی گردن پر چھری رکھنا بھی کسی قیامت سے کم نہیں۔ مگر سیدنا ابراہیم ؑ نہ صرف خود اس امر کے لیے تیار ہیں بلکہ بیوی اور بچے کی تربیت بھی ان خطوط پر استوار کر چکے ہیں کہ حضرت ہاجرہ بھی روایتی ماں کا کردار ادا کر کے رونا پیٹنا، شکوہ کرنا کجا اس قربانی کے لیے تیار ہیں، اور ننھے اسماعیل ؑ بھی تسلیم و رضا کا پیکر والد محترم کی اس عظیم نیکی میں قدم بقدم حاضر جان لیے موجود ہیں۔


یہ فیضان نظر تھا یا مکتب کی کرامت تھی

سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندگی


ذرا غور کریں سیدنا ابراہیم ؑ کی ذات صرف خود اپنے محبوب کے عشق میں ہی گرفتار نہیں ہے بلکہ اپنی ذات سے وابستہ شریک حیات اور اپنے معصوم جگر گوشے کو بھی کم سنی میں ہی اس عشق حقیقی سے روشناس کروا چکی ہے۔ آج ہم عمر رسیدگی میں آ کر بھی اپنی نسل کو اپنے رب حقیقی کی محبت سے متعارف نہیں کروا پاتے ہیں، کجا کہ یہ نسل قربانی کے لیے تیار ہو، جان کی قربانی کے لیے۔

یہاں خاتون محترم حضرت ہاجرہؑ کا کردار بھی لائق تحسین و آفرین ہے، جن کی تربیت اور معاونت نے حضرت ابراہیم کو اس عظیم نیکی پر ثبات رکھنے کے لیے حوصلہ بن کر سہارا دیا۔گویا انبیاؑ کو بھی نیکیوں کا صبر و ثبات خاتون کی معاونت کے ساتھ ہی نصیب ہوا ہے۔ یہ خاتون چاہے حضرت ہاجرہ ہوں، حضرت عیسیؑ کے لیے حضرت مریم ؑ ہوں، حضرت موسیؑ کی والدہ ہوں یا خاتم النبین ﷺ کے لیے حضرت خدیجہ ہوں۔ تاریخ شاہد ہے کہ ابراہیم ؑجیسا عشق حقیقی بہ مشرف و باعصمت خواتین کے کرداروں میں بھی بدرجہ اتم نظر آتا ہے اور امت کے لیے مثال بن جاتا ہے۔

یہ اعلیٰ اوصاف کے حامل کردار تھے جنھوں نے اپنی میں کو قربان کیا اور ایک وہ کردار بھی ہے کہ جو اپنی میں کی وجہ سے راندہ درگاہ ہوا۔ ابلیس ملعون میں، میں کی تکرار کرتا رہا۔ میں آگ سے بنا ہوں اور انسان خاک کا پتلا۔ میں سجدہ کیوں کروں؟ یہ میں ہی آج انسان کو ذلت و پستی کا مقدر عطا کرتی ہے۔ یہ میں چنگیز خان کی ہو یا ہلاکو خان کی، ہٹلر کی ہو یا شاہ رنگیلے کی، مشرف کی ہو یا کسی شریف کی، جب میں حاکم الہی سے ٹکراتی ہے تو ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جاتی ہے، ذلت و مسکنت کا شکار ہوجاتی ہے۔ شاید نہیں یقینا اسی لیے اس میں کی قربانی ہر سال امت کے لیے سنت قرار پائی۔ دنبے یا بکرے کی گردن پر چھری پھیر کر اپنی میں کو قربان کردیں تو کچھ بعید نہیں یہ جہاں رنگ و بو دوبارہ اپنی آب و تاب کے ساتھ امن و سلامتی کا مظہر بن جائے۔

عہد حاضر میں حضرت ابراہیم کا کردار اور سیرت بہترین رول ماڈل ہے۔ امت مسلمہ فی نفسہ اور من حیث القوم آج جس درد و کرب اور ذلت وپستی کا شکار ہے، اگر سیرت ابراہیم کے اوصاف حمیدہ کو اپنا شعار بنا لے تو ہم اس تاریک ترین دور سے نکل کر امن پا سکتے ہیں۔ آئیے ہم سوچیں اور اپنے لیے طے کریں کہ میں سب سے پہلے اپنی ذات کی اصلاح کروں۔ اپنی میں کا تکبر، رائے کا اصرار، اپنی رائے کا تسلط چاہے وہ بیوی پر ہو، شوہر پر ہو، والدین پر ہو یا اولاد پر ہو، دوست احباب پر ہو یا دوسروں پر، کسی بھی جگہ اس میں کو مسلط نہ ہونے دیں۔

اور میں ہی نہیں ہم بہ حیثیت قوم، برادری، خاندان ،تمام لسانی، مذہبی، علاقائی تعصبات سے بالاتر ہو کر انسانوں پر، اپنے ہی جیسے کمزور لوگوں پر، جابر و قاہر آقا نہ بن جائیں۔ انسان دوسرے انسانوں کو غلام نہ سمجھے، نہ بنائے بلکہ احترام آدمیت پیدا کریں۔ اور سب سے بڑی خوبی حضرت ابراہیم کی یہ تھی کہ بس اپنے رب کے ہو کر رہو۔ اور اسی رب حقیقی سے وابستہ ہوجاؤ، ہر غلامی کا طوق اپنی گردن سے اتار پھینکو اور صرف رب کائنات کے ہوجاؤ۔

قل ان صلاتی و نسکی و محیای ومماتی للہ رب العامین یہ کلمات اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم کو سکھائے تھے اور ہر سال عید قربان ہمیں اس بات کی یاد دہانی کرواتی ہے کہ مؤمن مسلم اپنی ذات کی ہر قربانی اپنی زندگی و موت، ہر سانس صرف اپنے رب سے وابستہ کر لیتا ہے اور اگر آج امت مسلمہ اس کلیے پر عمل پیرا ہوجائے تو وہی فلاح و کامرانی کا مقدر بن جائے جس کا وعدہ اس امت سے کیا گیا ہے۔


آج بھی ہو جو ابراہیمؑ کا ایماں پیدا

آگ کرسکتی ہے انداز گلستاں پیدا