لکھنا کیسے شروع کریں؟ تزئین حسن

اگر آپ مطالعہ کے عادی ہیں تو آپ کو لکھنے کا شوق ضرور ہو گا۔ لکھنے کے معاملہ میں ہمارا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ اس کے لیے تین چیزیں ضروری ہیں: ایک تو یہ کہ لکھا جائے اور دوسری اہم بات یہ کہ لکھا جائے، اور تیسری اس سے اہم بات یہ کہ لکھا جائے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیسے؟

لکھنے کے شائق بےشمار افراد کے ذہن میں یہ سوال موجود ہوتا ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے دور میں ایسا نہیں ہے کہ ہمارے پاس آئیڈیاز یا مواد کی کمی ہے، یا اپنے مؤقف کے حق میں ہمارے پاس دلائل نہیں ہیں، لیکن ایک نیا لکھنے والا پھر بھی اپنے آپ کو ایک دوراہے پر کھڑا پاتا ہے کہ لکھنا کیسے شروع کیا جائے؟

معلومات اور دلائل کو منظم اور مربوط کر کے سوچ کو تحریر کی شکل کیسے دی جائے؟ صنف اور موضوع کا انتخاب، موضوع پر سوچ بچار، تحقیق اور مواد اکھٹا کرنا، موضوع کے لیے تعارف کا انتخاب، مواد کو منظم کرنا، اور اختتام تک کہانی کی شکل ایسے دینا کہ قاری کو ساتھ لے کر چلا جائے، کیسے ممکن ہو؟ ہم سب لکھنے کے عمل کے آغاز میں ایک ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ آئیے جائزہ لیں کہ ان مراحل سے آسانی سے کیسے نمٹا جا سکتا ہے۔

آپ لکھنا چاہتے ہیں تو صنف کا انتخاب آپکے لئے مشکل نہیں ہونا چاہیے۔ اگر آپ کی دلچسپی فکشن یعنی افسانے یا کہانی میں ہے تو سو لفظوں کی کہانی اور افسانچہ سے لیکر ناول تک پر طبع آزمائی کی جا سکتی ہے۔ اور اگر آپ نان فکشن یعنی حقیقی زندگی پر لکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو خبروں، اخباری مضامین، اداریوں، یادداشتوں، خودنوشت، تاریخی مضامین اور سفرناموں سے لے کر شخصی خاکوں تک کا میدان آپ کے لیے ہے۔ بس یہ یاد رہے کہ فکشن میں بندہ آزاد ہوتا ہے، جبکہ نان فکشن میں سچ اور سچ کے سوا کچھ نہیں کا اصول لاگو ہوتا ہے اس لیے احتیاط شرط ہے۔

پرانے لکھنے والوں کے پاس عموماً آئیڈیاز کی کمی نہیں ہوتی مگر نئے لکھاری کا سب سے پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ کیا لکھا جائے۔ اس کا ایک سادہ سا جواب یہ ہے کہ "کچھ بھی"، مگر ہماری تجویز ہے کہ لکھنے کا آغاز اپنے آئیڈیاز کی ایک لسٹ سے کیا جائے جس پر آپ لکھنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں تو آپ کے پاس موضوعات کی کمی نہیں ہونی چاہیے۔ ایسا کوئی بھی موضوع جس میں آپ کی دلچسپی ہو، جس کے لیے آپ پر جوش ہوں یا جس میں آپ کی معلومات دوسروں سے زیادہ ہوں یا جس موضوع پر آپ اپنی بات دوسروں تک پہنچانا چاہتے ہوں۔ اپنے ذوق کے مطابق ہم مختلف موضوعات پر اپنی رائے رکھتے ہیں، جو بسا اوقات دوسروں سے الگ ہوتی ہے۔ اگر موضوعات کی بہتات کی وجہ سے فیصلہ کرنا مشکل ہے تو آپ قلم اٹھائیں اور ان تمام موضوعات کی لسٹ بنائیں جن پر آپ لکھنا چاہتے ہیں۔ اب ان سب میں سے ایک موضوع کا انتخاب کریں، باقی موضوعات کو بھی تلف نہ کریں ،کوشش کریں اس لسٹ کو موبائل یا کمپیوٹر پر آن لائن محفوظ کر لیں۔ اگر خالی صفحہ کاٹ خانے کو دوڑتا ہے تو ان مشقوں سے فائدہ اٹھائیں۔

یہ بھی پڑھیں:   میں نے لکھنا کیسے سیکھا (2) - محمد احمد

یاد رکھیں آپ کا مضمون چاہے فکشن یعنی افسانہ ہو یا نان فکشن یعنی حقیقت پر مبنی ہو، فی الوقت اس کے لیے سٹوری یا کہانی کا لفظ ہی مستعمل ہے، اور اسے اس طرح ترتیب دینا ہوتا ہے کہ قاری ایک دلچسپ کہانی کی طرح آغاز سے اختتام تک آپ کے ساتھ چلتا رہے۔ موضوع اور مکمل تحریر میں یعنی آپ کی فنشڈ پروڈکٹ میں یہی فرق ہے۔

اب جس موضوع کا انتخاب کیا ہے اسے ایک یا دو جملوں میں بیان کریں اور اسے مضمون کی شکل دینے کے لیے آوٹ لائن بنائیں۔ بعض نئےلکھاری ایک موضوع میں بہت سے دوسرے مضامین لے آتے ہیں اور تحریر بے ربط ہو جاتی ہے۔ اس سے بچنے کے لیے بھی ضروری ہے کہ موضوع کا فوکس ایک جملے میں اوپر لکھ لیا جائے۔ بعد میں اس میں کمی بیشی کی جا سکتی ہے لیکن یہ ذہن کو فوکس کرنے میں مدد دے گا۔

بعض لکھاری بغیر آؤٹ لائن یا پلاننگ کے بھی بہت اچھا اور رواں لکھتے ہیں۔ اگر آپ کا شمار بھی ان میں ہوتا ہے تو بہت اچھا ہے، لیکن پروفیشنل طریقہ کار یہی ہے، اور اس کے بہت سے فائدے بھی ہیں۔ کم از کم نئے لکھاری ضرور اس کی عادت ڈالیں۔ تحریر کو منظم اور مربوط کرنے میں اس سے بہت مدد ملتی ہے، اور یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ مضمون کے لیے مناسب مواد موجود ہے یا نہیں۔ کبھی کبھی ضرورت سے زیادہ مواد ذہن میں ہو تو موضوع سے ہٹی ہوئی باتوں کو الگ کرنے کے لیے بھی آوٹ لائن مفید رہتی ہے۔

اگر مواد کافی ہے تو بھی اور نہیں ہے تو بھی آپ کو مزید ریسرچ کرنے کی ضرورت ہر دو صورتوں میں ہے، خصوصاً اگر آپ کا میدان نان فکشن ہے۔ معیاری فکشن لکھنے کے لیے بھی ریسرچ بہت ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   میں نے لکھنا کیسے سیکھا (2) - محمد احمد

تحریر کے لیے ایک اچھا آغاز سوچیں۔ یہ کوئی دلچسپ واقعہ یا کہانی بھی ہو سکتی ہے اور کسی معروف آدمی کا کوئی قول بھی اور کوئی ایسا سوال بھی جو لوگوں کو سوچنے پر اور آگے پڑھنے پر مجبور کرے۔ یاد رکھیں اگر آغاز میں آپ نے قاری کی توجہ حاصل کرلی تو آدھا میدان مار لیا، کیونکہ اگر قاری کو آغاز پسند نہیں آتا تو وہ پہلا پیرا ختم ہونے سے پہلے ہی مضمون کو چھوڑ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے آغاز دلچسپ ہونا بہت ضروری ہے۔

اسی طرح مضمون یا افسانے کا مناسب اختتام بھی بہت ضروری ہے۔ بعض لکھنے والے پورا مضمون لکھنے کے بعد اختتام پر آ کر الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں کہ ختم کیسے کیا جائے۔ اس مشکل کا ایک حل سوچ بچار ہے کہ آپ گھر یا باہر کے دوسرے کام کرتے ہوئے آغاز اور اختتام پر غور کرتے رہیں۔ تخلیقی کام غور و فکر کے بغیر ممکن نہیں۔ اس کے علاوہ ریسرچ کرتے ہوئے بھی اختتامیہ سے متعلق مواد کو الگ کرتے رہیں۔ نان فکشن میں اختتام پورے مضمون کا خلاصہ بھی بیان کرتا ہے۔

اگلے مضمون میں ہم آپ کو برین اسٹورمنگ یعنی موضوع پر سوچ بچار کرنا اور آؤٹ لائن بنانا سکھائیں ۔ یاد رہے اگر آپ لکھنا چاہتے ہیں یا سمجھتے ہیں کہ آپ میں تخلیقی صلاحیت ہے تو آپ کو اس صلاحیت کی نشونما کے لیے با قاعدہ پلاننگ کرنی ہوگی اور تسلسل کے ساتھ کرنی ہوگی۔یہ کام آپ کے اوقات کے ساتھ ہمت اور ڈسپلن کا متقاضی ہے۔