حج وفا کی نشانی - اسریٰ غوری

حرم طواف سے سعی اور منی سے جمرات تک، چپہ چپہ پر خاندان ابراہیم علیہ السلام کی وفا کہ جس کی گواہی رب اعلیٰ نے دی کہ ''ابراہیم تو وہ جس نے وفا کا حق ادا کر دیا''، سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا کا ایمان اور توکل باللہ، اور ننھے اسماعیل علیہ السلام کی ثابت قدمی کی داستان رقم ہے، ان کے قدموں کے نشان ثبت ہیں۔

اس سرزمین کا ذرہ ذرہ خاندان ابراہیم علیہ السلام کی قربانیوں کا چشم دید گواہ ہے۔ سیدنا ابراہیم وفادار ٹھہرے، مگر لمحہ بھر کو رک سوچیں تو سہی کیا کہ کیا یہ وفا کا انعام یونہی مل گیا۔ رب کو پانے کی جستجو سے لیکر آگ میں ڈالے جانے تک، اور شیر خوار ننھے اسماعیل اور جوان بیوی کو مکہ کی سنگلاخ چٹانوں کے درمیان چھوڑے جانے سے لے کر اسماعیل کی گردن پر چھری پھیرنے تک ، وفاؤں کے امتحان ہیں جن سے کہیں بھی ڈگمگائے بغیر ثابت قدمی سے گزر کر ہی وفاداری کا سرٹیفیکیٹ حاصل کیا، خلیل اللہ کا لقب پایا۔

دنیا میں سیدہ ہاجرہ کے توکل باللہ سے بڑی کوئی مثال نہیں ملتی۔ تنہا اک لڑکی اپنے شیر خوار کے ساتھ سنگلاخ اور ہیبت ناک پہاڑوں کے بیچ اجاڑ اور بے آب و گیاہ وادی میں جب اپنے شوہر کے ہمراہ پہنچتی ہے اور شوہر انھیں ساتھ لیے بغیر واپس لوٹنے لگتا ہے تو آوازیں لگاتی پیچھے دوڑتی ہیں.. ابراہیم.. ابراہیم کہاں چلے؟ کہاں چلے ہمیں یہاں تنہا چھوڑ کر ابراہیم..؟ ابراہیم کوئی جواب دیے بغیر پیچھے دیکھنے کی بھی ہمت نہیں پاتے، بس چلتے چلے جا رہے ہیں۔

رب کی بندی آپ ہی سوچتی ہیں کہ ابراہیم تو کوئی بھی کام اپنے رب کے حکم کے بغیر نہیں کرتے، پھر یہ کیسے کرسکتے ہیں؟ سوال کرتی ہیں "ابراہیم! کیا آپ کو رب نے یہ کرنے کا حکم دیا۔" ابراہیم کی مشکل بھی آساں ہوگئی، پیچھے مڑے بنا گردن اثبات میں ہلاتے ہیں۔ اور وہ رب کی بندی وہیں رک جاتی ہے۔ اپنے رب کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کرکے جب کہتی ہے (اللہ ہمیں ضائع نہیں کرےگا) تو رب اپنی اس محبوب بندی کے قول کو، اس کی سنت کو ساری دنیا کے مردوں سے پورا کرواتا اور قیامت تک کے لیے حج اور عمرے کا لازمی حصہ قرار دے کر بتاتا کہ وہ رب اعلی واقعی وفاؤں کو کبھی ضائع نہیں کیا کرتا۔ وہ رب تو سب سے بڑھ وفا نبھانے والا ہے۔ آہ! رب نے کیسا بھرم رکھا اس لڑکی کے بولوں کا۔

سیدنا ابراہیم لوٹ گئے اور سیدہ ہاجرہ ننھے اسماعیل کو لیے چھاتی سے چمٹائے نجانے کتنے پل اپنی جگہ سے ہل بھی نہ پائی ہوں گی، مگر جب چھاتیاں خشک ہوئی ہوں گی اور اسماعیل کے پیٹ میں کچھ نہ اتر رہا ہوگا تو ننھے اسماعیل کو کعبہ کے سامنے لٹا کر صفا سے مروا کی چوٹی تک پانی کی تلاش میں دوڑیں، صفا سے اتریں تو کھائی ہے، ننھا اسماعیل آنکھوں سے اوجھل ہے، تو بے کلی میں وہ گھاٹی دوڑ کر پار کر رہی ہیں، ایک نہیں، دو نہیں، پورے سات چکر اسی بے کلی میں۔ اور پھر جو لوٹیں تو دیکھا اک چشمہ ہے جو ننھے اسماعیل کی ایڑیوں سے پھوٹ پڑا ہے۔ اللہ اکبر ۔۔۔ بے ساختہ کہا زمزم ۔۔ رک جا ۔۔ آقا دوجہاں ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر تمھاری ماں ہاجرہ اس وقت زمزم نہ کہتیں تو یہ پانی پوری دنیا میں پھیل جاتا۔

قیامت تک آنے والوں اور "والیوں" کو کیسا سبق سکھا گئیں آپ بی بی ہاجرہ کہ جب توکل باللہ کے زاد راہ کے ساتھ، یقین کے پہاڑوں کی بلندیوں پر چڑھ کر، صبر کی گھاٹیوں سے دوڑتے ہیں، تب کہیں جاکر زمزم پھوٹا کرتے ہیں۔

سوچتی ہوں آج جبکہ دنیا کہ بہترین سنگ مرمر، اعلی ترین ائیر کنڈیشن، خوبصورت ترین بتیاں اور اک ہجوم اس جگہ سے گرز رہا ہوتا ہے، تب بھی لوگ گواہ ہیں کہ اکثریت کا یہ جملہ ہوتا ہے کہ طواف ہوجاتا ہے مگر یہ سعی بہت مشکل ہے۔ مگر رکیے ذرا لمحہ بھر کو تصور تو کیجیے اس اندھیرے کا، اس بیاباں کا، اس وحشت اور ہو کے عالم کا، اس تنہائی کا، اور اس بھوک پیاس کا۔

جب جب ہری بتیوں کے درمیان مردوں کو بھاگتے دیکھتی ہوں تو اپنے "عورت" ہونے پر فخر ہونے لگتا ہے کہ کیسے میرے رب نے اک عورت کی سنت کو مردوں سے پورا کروایا۔
ان بھاگنے والوں میں وہ مرد بھی ہوں گے جو عورت کو جوتی کی نوک پر دھرتے ہوں گے، وہ مرد بھی ہوں گے جو عورت کو کھلونا سمجھتے ہوں گے، وہ بھی جو عورت کو بس اک وقتی ضرورت سمجھتے ہوں گے، وہ بھی جو عورت کی عزت نفس کو پیروں تلے کچل کر گردنوں میں سریا رکھتے ہوں گے۔ جب جب ہری بتیوں سے بھاگتے ہوئے گزرتے ہوں گے تو پتا لگتا ہوگا کہ عورت " شے" کیا ہے؟ ہاں وہ بھی مرد ہوں گے جو عورت کی عزت اور قدر اور محبت کرتے ہوں گے، ان کی نگاہ میں عورت کی قدر و منزلت اور بھی بڑھ جاتی ہوگی۔

کتنا سچا ہے نا رب کا وعدہ، اعمال کی جزا میں عورت مرد کی کوئی تفریق نہیں، اس کی نگاہ میں سب برابر ہیں، اپنے رب سے وفا اک عورت کو بھی کتنے بلند مقام تک پہنچا دیتی ہے اور وہ اپنے رب کی کتنی پیاری ہوجاتی ہے، کہ وہ اس کی سعی کو رہتی دنیا تک قائم رکھتا ہے۔ جب جب سعی سے گزرتی ہوں تو سیدہ ہاجرہ جیسا توکل مانگتی ہوں، تڑپ اٹھتی ہوں کہ یا رب کوئی تو میرا بھی قدم ان کے قدموں کے نشانوں پر رکھوا دینا، یاربی میری بھی محبتوں میں وہ اخلاص، وہ ایقان، وہ ایمان کی حلاوت دے دینا۔

رمی کو جاتے ہوئے اسماعیل کی ثابت قدمی کے نشانوں میں بھی سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی تربیت دکھائی دیتی ہے۔ باپ کے بغیر بیٹے کی کیسی تربیت کی کہ اس ننھی سی عمر میں کہ جب اپنا بھی صحیح سے شعور نہیں ہوتا، اللہ کا ایسا تعارف، ایسی محبت اور ایسا ایمان اپنے دودھ کے ساتھ بیٹے کی رگوں میں منتقل کیا کہ جب اس ننھی جان سے وہ قربانی مانگی گئی جو بڑے بڑوں کو ہلا ڈالے تو ماں کے دودھ میں اترے اس توکل اور ایمان باللہ نے ایسا ثابت قدم رکھا کہ ذرا بھی تامل نہ کرنے دیا اور وہ ننھا بچہ یہ کہتے ہوئے باپ کے ساتھ نکل کھڑا ہوا کہ اے اباجان جان آپ مجھے صابروں میں سے پائیں گے۔

فلک نے کب اس سے پہلے ایسی قربانی کا منظر دیکھا تھا کہ اک تنہا پرورش کرنے والی ماں خود اپنے ہی ہاتھوں اپنے جگر گوشے کو قربانی کے لیے پیش کر رہی ہے، اور بوڑھا باریش باپ اپنے بڑھاپے کے سہارے کو اوندھے منہ لٹائے، بنا لرزے، ہاتھ میں چھری پکڑے عزیز جان ٹکڑے کے گلے پر رکھے ہوئے ہے، اور بیٹا قربانی، صبر اور استقامت کی انتہاؤں کو شرماتے ہوئے آنکھوں پر پٹی باندھے زمین پر لیٹا ہے۔

ایک ایک کو روک رہا ہے شیطان۔ سب سے پہلے اسماعیل کو زندگی کی قیمت بتا رہا ہے، زندگی تو اک ہی بار ملتی ہے، کیا کرنے جا رہے ہو؟ ننھے ابھی دیکھا ہی کیا ہے؟ لوٹ جاؤ، مگر یہ کیا؟ جواب میں ننھے اسماعیل سے پتھر کھا رہا ہے اور پتھر کا ہوگیا ہے۔

پھر ایک اور شیطان ہے جو سیدہ ہاجرہ میں مامتا جگا رہا ہے۔ کیسی کرم جلی ہے جو اپنے ہاتھوں اپنے تنہا جگر گوشے کو ذبح کروانے چلی ہے؟ ہوش میں آ، کیسی ماں ہے؟ مگر ابھی بات بھی پوری نہ کر پایا تھا کہ حاجرہ نے پتھر مارے اور آگے بڑھ گئی۔ وہ بھی پتھر کا ہوا۔

مگر وہ شیطان ہی کیا جو باز آجائے۔ اب اگلا بڑا شیطان ابراہیم کے پاس پہنچا، بولا ۔۔۔۔ ارے برسوں نہ پوچھا بیٹے کو، اب آئے تو بیٹا ہی ذبح کرنے پر تل گئے ہو، کیسے سنگ دل باپ ہو، رک جاؤ لوٹ جاؤ، بیٹے سے بڑھ کر کون ہے بھلا؟ مگر ابراہیم نے پتھروں سے جواب دیا اور وہ بھی پتھر کا ہو رہا، اور ابراہیم آگے بڑھ گئے۔

بیٹا زمین پر اوندھا پڑا ہے، چھری گردن پر ہے، ماں آنکھیں موندھے دم سادھے کھڑی ہے کہ کب زمین جگر گوشے کے لہو سے بھر جائے۔ کائنات کی ہر چیز اس وفا پر حیران ہے کہ کب ایسا منظر پہلے کبھی دیکھا تھا۔ ندا آتی کہ ابراہیم کا خاندان آزمائش پر پورا اترا۔ اللہ نے جبریل کو جنت سے دنبہ دے کر بھیجا کہ میرے اسماعیل کی گردن کے بدلے یہ دنبہ فدیے میں ہماری طرف سے ہے۔ آپ ہی آزمائش میں ڈالنے والا رب آپ ہی آسمان سے فدیہ بھیج کر اسماعیل کو چھڑوا رہا ہے۔ سبحان اللہ سبحان اللہ

یہ منظر میری آنکھوں نے دیکھے، یقین جانیے میں پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ ہائے کیسا تھا یہ خاندان؟ کیسی مٹی سے گندھے تھے یہ نفوس؟ جی چاہا ان پہاڑوں سے پوچھوں کہ تم تو چشم دید گواہ ہو، کچھ تو بتاؤ مجھے، اس صبر و استقامت، اس ایمان، اس محبت باللہ کی داستاں کے بارے میں کچھ تو سناؤ۔ ایسا لگا جیسے پہاڑوں نے میری صدا سن لی تھی جیسے وہ بولنے لگے تھے۔ حج حج پکارنے والو! کچھ خبر بھی ہے کہ حج وفاداروں کی وفا کی سنت ہے، کیوں ہر سال رب لاکھوں لوگوں سے یہ سنت دہرواتا ہے؟ کیوں بھلا؟ کچھ تو سوچو۔ حج وفا سکھاتا ہے وفا۔ لا کا صحیح مفہوم بتاتا ہے۔ وہی لا جو تم سیکنڑوں ہزاروں بار زباں سے دہراتے ہو۔ ارے اس کی تشریح ہے ۔۔۔ حج ۔۔۔ نہیں ہے کوئی بھی الہ سوائے اللہ کے۔ اسی کے ہوجاؤ، اسی کا ہوجانے میں نجات ہے۔

رمی کرنے گئے تو رک رک وہ قدم ڈھونڈھنے لگتی جہاں سے اسماعیل گزرے۔ یاربی ہماری نسلوں کو بھی اپنی ایسی محبت دے دیجیے۔ یا ربی کہیں تو ایمان کے چھینٹے پڑ جائیں۔ کچھ تو لے کر لوٹوں۔ ایمان، ایقان، محبت اور وفا دامن میں بھر لوں۔ کچھ تو صدقہ اس خاندان کی قربانیوں کا نصیب ہو۔ کچھ تو وفا سیکھ کر لوٹیں۔ آمین

Comments

اسری غوری

اسری غوری

اسری غوری معروف بلاگر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں، نوک قلم بلاگ کی مدیرہ ہیں، حرمین کی زیارت ترجیح اول ہے، اسلام اور مسلمانوں کا درد رکھتی ہیں اور اپنی تحاریر کے ذریعے ترجمانی کرتی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.