ترک قومی اسمبلی کشمیر پر قرارداد منظور کرے گی - اسپیکر مصطفیٰ شنَ توپ

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی گھناؤنے اقدام کو عالمی سطح پر اٹھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے آج ترکی کی قومی اسمبلی کے اسپیکر مصطفےٰ شَن توپ کو ٹیلی فون کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی تازہ صورت حال اور بھارتی جارحیت کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں۔

اس موقع پر ترکی کی قومی اسمبلی کے اسپیکر مصطفےٰ شَن توپ نے کہا کہ وہ کشمیر کی صورتِ حال کا بڑے قریب سے جائزہ لے رہے ہیں۔ ترک عوام، ترک اراکین اسمبلی، ترک وزیر خارجہ اور سب سے بڑھ کر ترک صدر رجب طیب ایردوان کو کشمیر کی صورتِ حال پر سخت تشویش لاحق ہے۔

ترکی کی قومی اسمبلی کے اسپیکر مصطفےٰ شَن توپ نے کہا کہ وہ جلد ہی ترکی کی قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر سے متعلق کشمیری عوام کے حق میں قرارداد منظور کر نے کے لیے پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی اگرچہ چھٹیوں پر ہے لیکن ان کی کوشش ہوگی کہ وہ یکم اکتوبر یعنی چھٹیاں ختم ہونے سے قبل پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کریں، ایسا نہ ہونے کی صورت میں وہ چھٹیوں کے فوراً بعد ہی قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کی قراداد کو منظور کیا جاسکے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے اس موقع پر ترکی کی قومی اسمبلی کے اسپیکر کے نام ایک خط بھی لکھے جانے سے آگاہ کیا جو جلد ہی ان کی خدمت میں پیش کردیا جائے گا۔ اسد قیصر نے بھارت کی جانب سے کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے بارے میں اس کے خطے پر پڑنے والے منفی اثرات سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے گھناؤنے اقدام نے خطے کی گھمبیر صورتحال کو مزید سنگین کر دیا۔دنیا کی منتخب پارلیمان بھارت کے انسانیت سوز جرائم کے خلاف آواز بلند کریں۔

یہ بھی پڑھیں:   قائداعظم، اسلامی نظام اور ہمارے سیاستدان - میر افسر امان

اسپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ آرٹیکل 35۔الف اور آرٹیکل 370 کا خاتمہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ تاریخی دھوکہ ہے۔ آرٹیکل 35۔الف اور 370 کے تحت مقبوضہ وادی کے حتمی تصفیے تک عوام کو خود مختاری حاصل تھی اور اب ان کے خاتمے سے کشمیر میں پیدا ہونے والی صورت حال سے حالات کے مزید خراب ہونے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کشمیری عوام کو گزشتہ پانچ دنوں سے جاری کرفیو کی وجہ پیدا ہونے والی مشکلات اور حراست میں لیے جانے والے سیاستدانوں کے بارے میں بھی آگاہی فراہم کی اور کہ بھارت کے غاصبانہ اقدام نے کشمیر کے عوام کو واحد قومیت اور ریاست میں ملکیتی حقوق سے محروم کر دیا ہے۔ بھارتی آئین کشمیر کے پر امن حل کے سلامتی کونسل کی قراردادوں کا کاربند تھا۔