مسلمان ممالک پاکستان کی مدد کو کیوں نہیں آتے؟-وسیم گل

یہ سوال اکثر پاکستانیوں کے زہنوں میں پیدا ہوتا رہتا ہے اور سے جڑے کئی مزید سوالات بھی ابھرتے رہتے ہیں۔
—————————————-

جہاں تک میں سمجھا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلم اکثریتی خطے اب باقاعدہ قومی ریاستوں (nation states) کی شکل اختیار کرچکے ہیں اور کوئی بھی قومی ریاست کسی دوسری ریاست کے معاملے میں پالیسی بناتے وقت اپنے مفادات کو سب سے زیادہ اہمیت دیتی ہے۔

وہ دیکھتی ہے کہ

۱۔ دوسری ریاست کا ساتھ دینے سے خود اس کے دشمنوں میں اضافہ تو نہیں ہوگا؟

۲۔ مادی، سیاسی، سفارتی سطح پر اسے کون کون سے فوائد یا نقصانات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے؟

۳۔ جس دوسری ریاست کے ساتھ دینا ہے کیا وہ خود بھی کوئی مضبوط و مستحکم موقف رکھتی ہے یا ڈانواں ڈول ہے؟

۴۔ کیا دوسری ریاست ماضی میں اس کے ساتھ کبھی کھڑی ہوئی یا آیندہ کھڑی ہوگی؟

۵۔ دوسری ریاست کا کسی معاملے میں ساتھ دینے سے اس معاملے کے متوقع نتائج مثبت ہوں گے یا نہیں؟
————————————-

دیکھا جائے تو گزشتہ چالیس سال میں

خود پاکستان نے بھی انہی نکات کو مدنظر رکھ کر دوسری قومی ریاستوں کے ساتھ معاملات کئے ہیں۔

مثلاً

۱۔ اسی کی دہائی میں افغانستان پر روسی حملے کے بعد پر افغانوں کا ساتھ اپنے تحفظ یا امریکہ۔یورپ۔عرب دنیا سے مالی مفادات کے لیے دیا۔

۲۔ نائن الیون کے بعد امریکی دشمنی کے خوف اور امریکہ سے مالی مفادات کے لیے افغانستان کی بجائے امریکہ کا ساتھ دیا۔

۳۔ ایسٹ تیمور کے معاملے پاکستان نے انڈونیشیا کا ساتھ نہیں دیا۔

۴۔ بوسنیا، چیچنیا، آج کل ایسٹ ترکستان، ماریطانیہ، جنوبی سوڈان غیرہ کہیں پر بھی پاکستان نے مسلم ممالک کا ساتھ نہیں دیا۔

۵۔ عراق کیخلاف دو جنگوں میں پاکستان امریکا کے ساتھ کھڑا رہا۔

اگر پاکستان نے کبھی کسی مسلم ملک کا ساتھ دیا بھی تو وہ مفادات کی خاطر ہی تھا۔
——————

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر، عملی قدم کا وقت ہے - صبا احمد

دراصل پاکستانی مسلمان فرد اور ان سے تشکیل پانے والی “امت” کے تصور اور ایک “قومی ریاست” کے تصور کو درست طور پر سمجھنے کی بجائے دونوں کو گڈ مڈ کر دیتے ہیں۔

امت کے تصور سے ایک بین الاقوامی کمیونٹی پھوٹتی ہے جو اسلام کی بنیاد پر ایک دوسرے کے لیے سوچتی اور بوقت ضرورت مدد کو دوڑتی ہے خواہ مادی لحاظ سے فائدہ ہو یا نقصان۔

مغربی تصور زندگی سے پھوٹنے والی قومی ریاستیں اپنا مفاد عزیز رکھتی ہیں۔ وہ صرف مادی فوائد کو پیش نظر رکھتی ہیں خواہ مسلمان مٹ جائیں اور اسلام کا نام لیوا باقی نہ رہے۔

یہ دو الگ الگ تصورات اور ان کا اظہار ہے جنہیں سمجھنا، ان کے تضادات، ان کے آپس میں اشتراک کے امکانات وغیرہ ایک طویل و وسیع مضمون ہے۔
—————————-

واپس سوال کی طرف پلٹتے ہیں:

مسلمان ممالک پاکستان کی مدد کو کیوں نہیں آتے؟

تو اس کا جواب ہے:

کیوں کہ پاکستان بھی ان کی مدد کو نہیں جاتا۔
—————————

مسلم عوام کا معاملہ و رویہ ان کی قومی ریاستوں سے مختلف ہے لیکن وہ بھی انفرادی طور پر کچھ نہیں کر سکتے سواۓ اپنی ریاست/حکومت سے مطالبات کرنے کے۔