ایک حوصلہ مند خاتون کی موت - مسعود ابدالی

امریکہ میں نسلی و صنفی مساوات کی علمبردار، ادیبہ، ناول نگار، استاد اور محقق محترمہ ٹونی موریسن انتقال کرگئیں۔ ایک فاقہ کش مزدورکے گھر میں جنم لینے والی ٹونی امریکہ کی پہلی سیاہ فام خاتون ہیں جنھیں نوبیل انعام دیا گیا۔

ٹونی کے والد جارج ویفورڈ کا تعلق امریکی ریاست جارجیا کے اس علاقے سے تھا جہاں آج بھی سیاہ فام لوگوں کودوسرے بلکہ تیسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ جب جارج صرف 6 سال تھے ، نسل پرست سفید فاموں نے انکے محلے پر حملہ کیا اور دو سیاہ فام دکانداروں کو مارتے مارتے مارڈالا۔ ہجوم کے ہاتھوں اس المناک انداز قتل کو بلوائی خیرہ کشی یا Lynching کہتے ہیں۔اس خوفناک منظر کو دیکھ کر جارج فوری طور جارجیا سے ریاست اوہایو (Ohio)کے شہر لورین آگئے جہاں انھوں نے ویلڈر کی حیثیت سے مزدوری کرکے اپنے اور بیوی بچوں کاپیٹ پالنا شروع کیا۔ لیکن بدقسمتی نے انکا یہاں بھی پیچھا نہ چھوڑا۔ جب انکی بیٹی ٹونی صرف صرف 2 سال کی تھی تو انکے گھر کو آگ لگادی گئی۔ جارج بڑی مشکل سے اپنے بیوی بچوں کی جان بچانے میں کامیاب ہوئے۔ جارج ویفورڈ ایک راسخ العقیدہ مسیحی تھے انھوں نے اپنی بیٹی کو زبور سے حضرت داود کے حمدیہ ترانے یادکرادئے ۔ انجیل وزبور کے مطالعے سے ٹونی کے ادبی ذوق کو جلا ملی اور انھوں نے اسکول میں تعلیم کے دوران ہی بچوں کی کہانیاں لکھنی شروع کردیں جنھیں پزایرائی نصیب ہوئی۔

ہائی اسکول کے بعد ٹونی نے جامعہ ہوارڈ Howard سے ماسٹر اور اسکے بعد نیویارک کی جامعہ کورنیل Cornell سے انگریزی ادب میں پی ایچ ڈی کیا۔

احباب کی وضاحت کیلئے عرض ہے کہ Howard اور Harvard دو الگ جامعات ہیں۔جامعہ ہارورڈ ریاست Massachusetts میں ہے جبکہ Howard دارالحکوت واشنگٹن میں جہاں طلبہ کی اکثریت سیاہ فاموں پر مشتمل ہے۔تعلیم کی تکمیل کے بعد ٹونی نے ہیوسٹن کی ٹیکساس سدرن یونیورسٹی (TSU) میں دوسال درس و تدریس کے فرائض انجام دئے جسکے بعد وہ جامعہ Howard سے وابستہ ہوگئیں۔
اسی دوران ٹونی نے جمیکا کے ایک کاروباری سے شادی کرلی لیکن صرف چھ سال بعد طلاق ہوگئی۔ علیحدگی کے وقت ٹونی حاملہ تھیں۔ گویا ٹونی کی آزمائش کا سلسلہ جاری رہا۔
اسی دوران امریکہ کے مشہورطباعتی ادارے رینڈ م ہاوس Random House نے انھیں شعبہِ ناول کا مدیر مقرر کیا۔یہ ایک انتہائی اہم منصب تھا کہ کسی بھی مسودےکے قابل اشاعت ہونے کا فیصلہ مدیر کی ذمہ اری ہے اور ٹونی اس منصب پر فائز ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون تھیں۔ دو ننھے بچوں کے ساتھ انھوں نے نہ صرف ادارت کی ذمہ داری نبھائی بلکہ وہ نوجوان سیاہ فام ادیبوں اور ناول نگاروں کی حوصلہ افزائی بھی کرتی رہیں۔
ان کی کوششو ں سے اس دوران رینڈم ہاوس نے سیاہ مصنفین کے درجنوں ناول شائع کئے۔ انھیں کی کوششوں سے محمد علی (کلے) کی سوانحمعری منظرِ عام پر آئی۔ انکا بڑا کارنامہ نادر تصاویر اور مستند دستاویزات سے مزین Black Book کی اشاعت ہے جس میں سیاہ فاموں کی تاریخ کا احاطہ کیا گیا ہے۔
انھیں مصروفیتوں کے دوران انکا پہلا ناول Bluest Eye کے نام سے شایع ہوا۔ یہ ایک سیاہ فام لڑکی کی سرگزشت ہے جو پاک و ہند کی ان بچیوں سے مماثلت رکھتی ہے جنھین انکے سانولے رنگ کی وجہ سے بدصورت سمجھا جاتا ہے اور'کالی کلوٹی' کا طعنوں سے طاری ہونے والا احساس کمتری انکی فطری صلاحیتوں کو فنا کردیتا ہے۔ نیلی آنکھیں امریکہ میں حسن کااستعارہ ہے جو اس ناول کی ہیروئن کیلئے حسرت کی علامت تھا۔

پانچ سال بعد انکا ناول Sulaشایع ہوا جو دو غلام سیاہ فام خواتین کی کہانی ہے جنھوں نے آزادی کیلئے لازوال جدوجہد کی۔
انکا ناول Beloved بے حد مشہور ہوا۔ یہ دراصل ایک سیاہ فام کنیر Margret Garner کی سچی کہانی ہے جو بھاگنے میں کامیاب ہوگئی تھی لیکن اسکے مالک نے اسے گھیر لیا۔ مارگریٹ نے اپنی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور خودکشی سے پہلے اپنی شیرخوار بچی کو قتل کردیا لیکن اس سے پہلے کہ وہ خود کو ہلاک کرتی مالک نے اسے دوبارہ گرفتار کرلیا۔ اس کہانی پر فلم بھی بنی ہے۔ انکے ناول Songs of Solomon کو بھی بہت پزایرائی ملی۔ اس کتاب کا مرکزی مضمون امریکہ کی متنوع ثقافت ہے۔ افریقہ سے پکڑکر لائے جانیوالے سیاہ فام غلاموں کی گفتگو کے حوالے سے مکہ و مدینہ کا ذکر بھی ہے جس سے اس تاریخی حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے کہ افریقہ سے امریکہ لائےجانیوالے غلاموں میں مسلمان بھی تھے۔ ٹونی موریسن کو نوبیل انعام کے علاوہ امریکہ کا سب سے بڑا اعزاز تمغہ آزادی بھی عطا ہوا۔ انتقال کے وقت ٹونی کی عمر 88 برس تھی۔