مکہ مکرمہ میں ایک زیارتی مقام – مسجد بیعت - محمد سلیم

قدیم اسلامی ممالک میں جو چیز انہیں دوسرے ملکوں سے ممتاز بناتی ہے وہ ان کے قدیم فن تعمیر کے شاہکار عمرانی فن پارے ہوتے ہیں جو انہیں دیگر ملکوں پر برتری دیتے ہیں۔ یہ شاہکار اکثر و بیشتر ان کی تاریخی مساجد ہی ہوتی ہیں جو ان کے اسلام میں سفر کا حال بیان کرتی ہیں۔

مکہ میں بھی یہی کچھ ہے مگر دیگر اقوام عالم سے بہت ہی مختلف۔ یہاں کی مساجد ادھر کے لوگوں کے فن تعمیر کا حال نہیں بناتیں۔ بلکہ سیدھا سیدھا آقا دو عالم سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے نسبت ، تعلق اور آپ سے جڑی تاریخ بتاتی ہیں۔

مکہ مکرمہ میں منی کے مقام پر موجود مسجد "البیعۃ" ایک ایسی ہی تاریخی مسجد ہے جو ہمارے آقا علیہ السلام کی سیرت کا ایک باب سنبھالے کھڑی ہے۔ منی میں جتنے ترقیاتی کام ہوئے ہیں یا جتنے بھی ردوبدل اور تبدیلیاں لائی گئی ہیں یہ عظیم مسجد آج بھی اپنی بنیادی تعمیر کے ساتھ بلند کھڑی اپنی عظمت کی تاریخ بتاتی ہے۔ مسجد بیعت منی میں بڑے شیطان سے آدھے کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔ اس کی موجودہ حالت ایک ایسی نماز پڑھنے والی جگہ کی سی ہے جس پر چھت نہ ہو۔ محراب موجود ہے جس کے ساتھ لگی ہوئی دیواریں جو منی سے شمال کی طرف پڑتی ہیں۔ تاہم اس مسجد کا جنوبی حصہ جبل ثبیر کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ اس جگہ کو شعب انصار یا شعب بیعت کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اس مسجد میں تاریخ بناتے دو پتھر بھی نصب ہیں جن میں ایک پر لکھا ہوا ہے: امیر المومنین عبداللہ پر اللہ اپنا کرم کرے جس نے اس مسجد کو تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ یہ پتھر عباسی خلیفہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مسجد کی ساری لمبائی محراب سے لیکر باہر والے دروازے تک 38 ہاتھ بنتی ہے۔

مکہ میں تاریخی مقامات کی حفاظت کے محکمے میں متعیین ایک افسر ڈاکٹر فواز نے "العربیہ" اخبار کو تفاصیل بتاتے ہوئے کہا کہ جس جگہ یہ مسجد تعمیر ہوئی ہے یہ وہ مقام ہے جہاں پر سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے انصار سے بیعت لی تھی۔ اس موقع پر سیدنا عباس رضی اللہ تعالی عنہ بھی موجود تھے جنہوں نے اس بیعت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اسی وجہ سے عباسی خاندان کے دوسرے خلیفہ امیر المومنین ابو جعفر المنصور نے اس جگہ پر سن 144 ھجری میں سیدنا عباس رضی اللہ تعالی عنہ کی تعظیم اور ان کی دین اسلام میں خدمات کی یادگار کے طور پر ایک مسجد بنانے کا حکم دیا تھا۔ اور تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ سن 629 ھجری میں عباسی خلیفہ مستنصر نے اسے دوبارہ تعمیر کرایا تھا۔

ڈاکٹر فواز کا یہ بھی کہنا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے دنوں یا حج سے پہلے یہاں پر لگنے والے بڑے بازاروں میں آئے ہوئے دور و دراز کے عرب قبائل کے لوگوں سے ملا کرتے تھے۔ یہ بازار عموماً عکاظ، مجنۃ، ذی المجاز، عرفات اور منی میں آباد ہوتے تھے۔ ایسے مواقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو دین کی دعوت دیتے اور انہیں شیطان کے بہکاوے میں آنے سے منع فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسم ان سب مقامات پر جاتے اور لوگوں سے کہتے: اے فلاں قبیلے والو؛ میں تمہاری طرف بھیجا ہوا اللہ کا رسول ہوں جو تمہیں حکم دیتا ہے کہ بس ایک اسی کی ہی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ ٹھہراؤ، میرے اوپر ایمان لے آؤ اور جو کچھ میں تمہیں کہہ رہا ہوں اسے سچ جانو۔

ڈاکٹر فواز کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس پیغام کو یثرب سے آئے ہوئے قبائل جلدی تسلیم کر لیا کرتے تھے کیونکہ انہیں یہودیوں کے ساتھ رہ رہ کر اور ان کی قربت کی وجہ سے اس بات کا علم ہو چکا تھا کہ جلد ہی ایک نبی کا ظہور ہونے والا ہے۔