کچھ دنوں میں امن معاہدے پر دستخط ہونے کے امکانات ہیں - طالبان

قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ اگر امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات اسی طرح چلتے رہے تو کچھ ہی دنوں میں امن معاہدے پر دستخط ہونے کے امکانات ہیں۔ دوحہ میں بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سہیل شاہین نے کہا کہ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے اور ہم آخری نکات پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں امید ہے کہ کچھ دنوں میں وہ نکات بھی حل ہو جائیں گے۔ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ تمام نکات حل ہو جائیں گے لیکن امید ہے۔ '

جن نکات پر بات چیت ہو رہی ہے اس حوالے سے ایک سوال کے جواب میں طالبان کے ترجمان نے کہا کہ چونکہ مذاکرات ہو رہے ہیں اس لیے وہ نہیں بتا سکتے لیکن وہ اتنا بتا سکتے ہیں کہ ’تمام نکات ٹائم لائن اور عمل درآمد کے بارے میں ہیں۔'

امن مذاکرات میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے انھوں نے کہ وہ آزادانہ طور پر امریکہ سے مذاکرات کر رہے ہیں لیکن مذاکرات میں دوسرے ممالک کے کردار کی قدر کرتے ہیں۔

افغانستان میں محرم کے بغیر عورتوں کے گھر سے نکلنے کے حوالے سے سہیل شاہین نے کہا کہ انھوں نے ماسکو کانفرنس میں بتایا تھا اور دوحہ میں طالبان کی ٹیم کے رکن اور مشہور عالم دین شیخ دلاور نے اس حوالے سے وضاحت کی ہے۔ انھوں نے کہا اسلام میں عورتوں کو دیے گئے تمام حقوق عورتوں کو مہیا ہوں گے۔ طالبان سے متعلق افغان شہریوں بالخصوص عورتوں کے خدشات کے حوالے سے طالبان ترجمان نے کہا کہ طالبان عورتوں کے بنیادی حقوق، جن میں تعلیم کا حق، ملازمت کا حق اور تجارت کا حق دیں گے۔

پاکستان سے دعوت
اُن کا کہنا تھا کہ ابھی تک پاکستان کی طرف سے تحریری دعوت نامہ نہیں ملا ہے، اور جب بھی دعوت نامہ موصول ہوگا، اُن کا وفد پاکستان کا دورہ کرے گا۔ خیال رہے کہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے امریکہ کے حالیہ دورے میں کہا تھا کہ جب وہ پاکستان واپس جائیں گے تو طالبان سے ملیں گے تاکہ وہ افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہو جائیں۔ افغان طالبان پر ماضی میں متعدد بار یہ الزام لگ چکا ہے کہ پاکستان اُن کی حمایت کر رہا ہے۔ تاہم حال ہی میں پاکستان بار بار یہ کہہ چکا ہے کہ اُن کا طالبان پر ماضی کی طرح اثر و رسوخ نہیں رہا۔