کشمیر مانگو گے۔۔۔ محمد حنیف

لندن کے ایک ریڈیو سٹیشن کے سیاسی ٹاک شو سے فون آیا کہ آپ مسئلہ کشمیر پر ہم سے بات کریں گے؟ میں نے ایک کشمیری صحافی اور مصنف کا نام دیا کہ وہ سری نگر کی جم پل ہیں اور بہتر بات کر سکتے ہیں۔

مجھے بتایا گیا کہ ان سے بات ہو چکی، ہمیں پاکستان کا نقطہ نظر چاہیے۔ میں نے کہا کہ پاکستان کا نقطہ نظر حکومت دے چکی، فوج دے چکی، میں تو اپنا چھوٹا سا نقطہ نظر دے سکتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ مجھے بہت دکھ ہوا۔ کشمیریوں کی آزادی تو پہلے ہی چھن چکی تھی، اب اِن سے اُن کا انٹرنیٹ بھی چھن گیا، موبائل فون سروس بھی چھن گئی، اور تو اور لینڈ لائن والے فون بھی بند ہیں۔ سکول بند، دفتر بند، گلی گلی میں مورچے اور اوپر سے یہ احساس کہ کوئی کچھ نہیں کر سکتا اور وادی کی پوری آبادی کو قید کر کے ان کی قسمت کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔

اس پر پروڈیوسر نے کہا لیکن دیکھیں نہ بہت سے انڈین خوش ہیں، بالی وڈ کے ستارے مبارکباد دے رہے ہیں۔ میں نے کہا اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ جشن فتح منایا جا رہا ہے اور وہ بھی ایک مفتوحہ قوم کو دوبارہ فتح کر کے۔

پروڈیوسر صاحبہ نے فرمایا لیکن یہ بھی تو دیکھیں کشمیر میں اتنی غربت ہے، بے روزگاری ہے، اب وہاں پر جائیداد کی خرید و فروخت پر پابندی نہیں ہوگی تو باہر سے لوگ آئیں گے، زمینیں خریدیں گے، کاروبار کریں گے، خوشحالی آئے گی۔

مجھے تھوڑی افسوس ناک قسم کی ہنسی آئی اور میں نے کہا کہ آپ نے فلسطین کے علاقے بیت الخلیل کا نام سنا ہے یا غرب اردن کا تو سنا ہی ہو گا۔ میں نے کہا کہ وہاں بھی خوشحالی ایسے ہی لائی گئی تھی۔ اس سے پہلے کہ آپ کو اس خوشحالی کا حال سناؤں، یہ اعتراف کرتا ہوں کہ میرا کشمیر کے بارے میں تقریباً اُتنا ہی علم ہے جتنا بچوں کو ہوتا ہے کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور جن کو شہ رگ کا مطلب میٹرک کرنے کے بعد سمجھ آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا کہنے - زرین تارڑ

دو چار کشمیری دوست ہیں، اُن کے ساتھ استصواب رائے کرتا رہتا ہوں کہ کیا چاہتے ہو، اکثر جواب یہی ملتا ہے کہ فی الحال تو انڈیا اور پاکستان دونوں ہماری جان چھوڑ دیں تو ہم بیٹھ کر سوچیں کہ کیا چاہتے ہیں۔ انھی میں سے ایک دوست نے بتایا کہ جس طرح کی غربت آپ کو انڈیا کے دوسرے حصوں میں نظر آتی ہے، کشمیر میں نہیں ہے۔ کوئی کشمیری بھوکا نہیں سوتا اور ہر کشمیری کے سر پر چھت موجود ہے۔ وجہ سادہ سی ہے کہ آبادی کم ہے اور زمین زرخیز۔

فلسطین کے شہر بیت الخلیل یا ہیبرون پر بھی قدرت مہربان تھی۔ حضرت ابراہیم کا مزار وہاں پر ہے اور اُن کو عیسائی، یہودی اور مسلمان سب ہی اپنا دادا پیغمبر مانتے ہیں۔ میری 20 سال پہلے حاضری ہوئی تو ایسا لگا کہ یہاں پر ہر روز لال شہباز قلندر کے سائز والا میلہ لگتا ہے۔ دنیا کے ہر کونے سے زائرین آ رہے ہیں۔ ایک ہی کھوکے سے آپ صلیب خریدیں، قرآنی آیات والی خنجر بھی، یہودیوں والی ٹوپی بھی اور بیلی ڈانسروں والا زیور بھی۔ میں بہت خوش ہوا کہ دنیا میں ایک ایسا شہر بھی ہے جو حضرت ابراہیم کی برکت پر چل رہا ہے۔

پھر کچھ خبریں آئیں کہ قانون میں کچھ تبدیلی کر کے وہاں پر چند سو یہودی آبادکاروں کو گھر دیے گئے ہیں اور پھر ان کی حفاظت کے لیے آٹھ دس ہزار اسرائیلی فوجی منگوائے گئے ہیں۔ پانچ سال قبل دوبارہ جانے کا موقع ملا تو سارے بازار بند، کوئی زائرین ہیں، نہ کوئی بندہ نہ بندے کی ذات، ہر گھر کے آگے ایک فوجی کھڑا ہے۔ حضرت ابراہیم کے مزار والی مسجد جانے کی اجازت مانگی تو بتایا گیا کہ اس کو تو ہم نے کب کا تالا لگا دیا ہے۔

انڈین بھی اسرائیل کے نقشِ قدم پر چل کر کشمیریوں کا پانی چرائیں گے، ان کے سیب کے باغوں پر تیزاب سپرے کریں گے۔ اور اگر کوئی کشمیری نوجوان غائب ہونے سے یا جیل جانے سے بچ گئے تو وہ ان نئے ہوٹلوں میں بیرے کی نوکری پکڑ لیں گے۔ یوں آئے گی خوشحالی۔

یہ بھی پڑھیں:   کرتارپوربارڈر،ہم اپنی روایتوں کے امین ہیں! محمدعنصرعثمانی

جب تک ہمیں کشمیر والی شہ رگ کا مطلب سمجھ آتا ہے ہم ایک اور نعرہ سیکھ لیتے ہیں۔ دودھ مانگو گے، کھیر دیں گے، کشمیر مانگو گے، چیر دیں گے۔ یہاں کسی نے کچھ نہیں مانگا، چیر کر کشمیر لے لیا ہے۔ ہمارے وزیراعظم کبھی کبھی بے ساختہ سچ بول دیتے ہیں تو کل انھوں نے جو کہا کہ کیا اب میں انڈیا پر حملہ کر دوں؟ یہی ہمارا سچ ہے، اپنے دل سے پوچھ لیں۔