کشمیر، رومان کا عہد تمام ہوا - عامر ہزاروی

کوئی ہم سے پوچھے کہ فریب کی دنیا کتنی خوبصورت ہوتی ہے۔ رومان میں جینا کس قدر آسان تھا۔ شعور کی چار باتیں اور کتابوں کے کالے اوراق پڑھ کر دماغ کو جہنم بنایا ہے۔ فریب کی دنیا خوبصورت تھی۔ خوابوں میں رہنا اچھا تھا۔ کچا دماغ ہی بہترین ہوتا ہے۔ جذباتی فضا اور خون گرم کر دینے والے نعرے ہی اچھے ہوتے ہیں۔ نہ کوئی سوچ، نہ عقل سے لینا دینا اور نہ ہی کوئی رنج و الم، شعور نے نیند چھینی ہے، کتابوں نے من جلایا ہے، معلومات نے اضطراب پیدا کیا ہے، کاش میں کچھ نہ جانتا۔

جب بچے تھے تو پہلا خواب خلافت کا دکھایا گیا۔ بتایا گیا کہ طالبان سادہ لوگ ہیں، مٹی کے گھروں میں رہتے ہیں، بود و باش سے دور ہیں، ان کے امیر المومنین انتہائی سادہ اور درویش ہیں۔ افغانستان میں دور عمر لوٹ آیا ہے۔ اگر ایک لڑکی قندھار سے کابل تک کا سفر کرے تو کوئی اس کی طرف آنکھ اٹھا نہیں دیکھتا۔ لوگ نمازوں کے وقت دکانیں کھلی چھوڑتے ہیں۔ طالبان کی نصرت کے لیے آسمانوں سے فرشتے اترتے ہیں، کئی لوگوں نے آنکھوں سے نصرت اترتی دیکھی ہے۔ کتابیں لکھی گئیں، ترانے تخلیق کیے گئے۔ چیخ اٹھے ہیں یہود و نصاری سبھی، طالبان آ گئے جیسے ترانے سنے۔ اسلام کا ہیرو نمبر ون میرا شیر اسامہ بن لادن جیسے نغمے کانوں میں گونجتے رہے۔ زلفیں، داڑھی، دھاری دار رومال، کالی پگڑی، محبت کی علامت تھی، کسی مجاہد کو دیکھنا ثواب سمجھا جاتا تھا۔

پھر بھارتی قید سے مولانا مسعود اظہر رہا ہوئے۔ ان کی تقاریر تن بدن میں آگ لگا دیتیں۔ ان کا رونا، ان کی دہائیاں آنکھوں میں آنسوؤں کا سبب بنتیں۔ اس وقت یہ ترانے سنتے، کشمیر جل رہا ہے مسلمان تیرا جذبہ ایمان کہاں ہے؟ جذبوں کی صداقت زندہ ہے ایمان کی حرارت زندہ ہے، اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤ گے۔ یہ سب جذبات کی ترجمانی کرتے تھے۔ میرے ایک اہل حدیث دوست تھے جو حافظ سعید کے کارکن تھے، وہ اور میں مولانا مسعود اظہر اور احسان الہی ظہیر کی تقاریر سنتے تھے، وہ مجھے کہتے دیوبندیوں کو اللہ نے مسعود اظہر دیے ہیں اور ہمیں احسان الہی ظہیر، لیکن ہمارا ہیرا دنیا سے چلا گیا۔ ہم اکھٹے آنسو بہاتے اور گاؤں کے پہاڑ پر بیٹھے نعرہ تکبیر بلند کرتے اور یہ خواب دیکھتے کہ اب کشمیر کی باری ہے، اب کشمیر آزاد ہو گا ،اب دہلی پر اسلام کا پرچم لہرائے گا، اور مجاہدین کا خون رنگ لائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ دفاعی نہیں تباہی کے اسباب ہیں - حبیب الرحمن

اسی رومان کی بدولت ہمارے گاوں کے کئی نوجوان شہید ہوئے۔ ہمیں ان کی داستانیں سنائی جاتیں کہ وہ کس طرح بہادری سے لڑے، کس دلیری سے انہوں نے جان لٹائی۔ ہندو کشمیری ماوں کی عزتیں پامال کر رہے تھے، ان سے برداشت نہ ہوا۔ ایک نوجوان کے بارے میں بتایا جاتا کہ وہ بڑا زیرک ہے، وہ بھارتیوں کو مار دیتا ہے اور ان کے ہاتھ نہیں آتا، بھارتی اس سے خوف کھاتے ہیں۔

میری عمر کا ایک نوجوان جو کرکٹ کا بہترین کھلاڑی تھا، وہ کشمیر گیا اور واپس نہ لوٹا۔ میری اس سے دوستی تھی، سولہ سترہ سال کی عمر میں ہی جان دے بیٹھا۔ مجھے آج تک اس کا رنج ہے۔ میری آنکھوں کے سامنے جب اس کا معصوم چہرہ آتا ہے تو میری آنکھیں برس پڑتی ہیں۔ ان لوگوں کا خون مقدس تھا، خیال تھا یہ خون رنگ لائے گا، یہ چھینٹے ضائع نہیں جائیں گے۔

آج مجھے ماننا پڑے گا کہ میرے خواب ٹوٹ گئے۔ میرے جیسے بہت سے لوگ مایوس ہوئے ہوں گے۔ آج وہ بھی کہتے ہوں گے بچپن اچھا تھا۔ آج صرف کشمیری جوانوں کا خون ہی ضائع نہیں ہوا میرے پاکستانیوں کا خون بھی ضائع ہوا ہے۔

اب یہ بات سچ لگتی ہے کہ کشمیری ہمارے کچھ نہیں لگتے۔ ریاستوں کی نہ بہن ہوتی ہے نہ کوئی اسلامی بھائ۔، ریاستوں کے مفادات ہوتے ہیں۔ ریاستوں کے سینے میں دل بھی نہیں ہوتا۔ ریاست کے لیے آنسو کوئی معنی نہیں رکھتے۔ ریاستوں کے لیے خوبصورتی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ ریاستوں کے لیے بندے مروانا عام سی بات ہے۔

آج مسعود اظہر و حافظ سعید بند کر دیے گئے، کمانڈر عبد الجبار مار دیے گئے، کشمیر شہ رگ والا بیانیہ بھی گیا۔ اب بتایا جا رہا ہے کہ کشمیر کو مزید قتل گاہ نہیں بننا چاہیے۔ کشمیریوں کے گھروں میں قبروں کی مزید جگہ نہیں۔ امکانی حل قبول کر لینا چاہیے۔ آج لبرل، سیکولر، مذہبی طبقے کی نمائندگی کرنے والے سبھی ایک پیج پر ہیں۔ لبرل و سیکولر لوگوں نے صرف بات کی، اہل مذہب نے جانیں دیں۔ ہمارے خواب ٹوٹے تب ہم ایک پیج پر آئے، اب پلوں کے نیچے بہت سا خون بہہ چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کرونا وائرس پاکستان میں - عبدالسلام

ہم نے ابھی جانا کہ افغانی نمک حرام ہیں۔ اب پگڑی، داڑھی، مجاہد دہشت گرد ہیں۔ اب طالبان دنیا کے تقاضوں کو سمجھنے لگ گئے ہیں۔ اب ہمارے قائدین بھی امن پسند اور جمہوریت کے داعی بن گئے ہیں۔ اب وہ یہ بات سمجھنے لگے ہیں کہ ریاست جب اٹھائے اٹھ جانا چاہیے، ریاست جب بٹھائے تو بیٹھ جانا چاہیے۔ پالیسی وہی ہے جو ریاستی ہے۔ خلافت، آزادی، دہلی پر قبضے کی باتیں، کشمیر کی مائیں بہنیں سب ماضی کا حصہ اور قصہ تھیں۔ یہ قصہ تمام ہوا۔ اک عہد تھا جو ختم ہو گیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون