سنت ابراہیمی - عظمیٰ ظفر

ارشد صاحب اپنے بیٹے کا ویزا لگ جانے کی خوشی سب سے پہلے اپنے دیرینہ دوست ابرہیم کو سنانے کے لئے صبح سے بے چین تھے مگر وہ گھر پر موجود نہیں تھے ،،نا ہی ان کا اکلوتا بیٹا طارق گھر پر تھا مگر شام کو حسب عادت وہ پارک میں واکنگ ٹریک پر موجود تھے. ارشد صاحب لپک کر ان کے ساتھ ہولئیے . ابراہیم صاحب نے جب انھیں دیکھا تو گرمجوشی سے ان سے معانقہ کیا۔

ابراہیم صاحب: "السلام علیکم! کیا حال ہیں جناب بہت خوش نظر آرہے ہیں۔" ارشد صاحب: "وعلیکم السلام،
جی ہاں، جی ہاں خوشی کی بات ہے بھئی کاشف میاں کا ویزہ آگیا امریکہ کا اگلے ہفتے روانگی ہے شکر ہے رب کا اب ہم بھی سکون کا سانس لیں گے ملک کے حالات روز بروز خراب ہوتے جارہے ہیں نوکری بھی ڈھنگ کی نہیں ملتی لڑکوں کو۔" ابراہیم صاحب: "اللہ مبارک کرے صاحبزادے کا جانا بہت پریشان تھے آپ اس سلسلے میں۔"ارشد صاحب: "بس بھائی کیا بتاؤں! بڑی مشکل سے پیسے جمع کیے تیرے میرے کے آگے قرض کےلیے ہاتھ پھیلائے بیگم نے تو اپنی سونے کی چوڑیاں بھی بیچ دیں ۔ اب کاشف میاں وہاں جائیں،، چھوٹی موٹی نوکری بھی ہوجائے تو سب دل درد دور ہو جائیں گے۔ یہاں کے پیسوں میں تو دال روٹی پہ ہی گزارا ہوتا ہے۔"(کاشف میاں بہ مشکل انڑ پاس تھے اور ٹیکنیشن کا کورس کر رہے تھے)۔ابرہیم صاحب: "میرے خیال سے تو اچھی بھلی نوکری پہ لگ گیا تھا ٹیکنیشن کا کورس مکمل کرلیتا تو میں اپنے باس سے بات کرلیتا فیکڑی میں لگ جاتا (باہر جاکر کیسی نوکری کرے گا انھیں بخوبی اندازہ ہورہا تھا) بلا وجہ آپ اسے دوسرے ملک بھیج رہے ہیں اس کی شادی کر دیتے مناسب وقت ہے جوان لڑکے کو ایسے ملک آزاد بھیج رہے ہیں محظ کمائی کے لئیے ۔"

ارشد صاحب: "کیا بات کر رہے ہیں میرے بھائی!! شادی کیسے کرے گا ابھی وہ بہنوں نے لسٹ بنالی سامان کی جو وہ امریکہ سے منگوانا چاہتی ہیں بھائی سے، پہلے بیٹیوں کے فرض سے فارغ ہوجاؤں پھر سوچیں گے ابھی تو وہ خود بھی تیار نہیں اور پھر میں بھی یہی چاہتا ہوں چار پیسے جمع کرلے دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئ اور ہم ابھی تک اسی محلے میں ہیں۔" ابراہیم صاحب: "بہرحال جیسے آپ کی مرضی۔"(وہ دونوں ٹریک کے دو چکر لکا چکے تھے اب سستانےکے لئیے قریب بینچ پر بیٹھ گئے)۔ارشد صاحب: " ارے ہاں یاد آیا وقت ملے تو کاشف میاں کو ٹکٹ وغیرہ کے بارے میں سمجھا دیجیے گا میں صبح آیا تو آپ گھر پر موجود نہیں تھے کہاں گئے تھے اتنی دھوپ اور گرمی میں۔(ارشد صاحب کے قدموں پر فٹ بال آکر لگی تو انھیں غصہ آگیا) " کیسے بچے ہیں کہیں سکون سے بیٹھنے نہیں دیتے۔"
ابراہیم صاحب: (مسکراتے ہوئے فٹ بال اٹھا کر بچے کی جانب اچھال دی)" میں دراصل طارق کو لے کر *سنت ابراہیمی* ادا کرنے گیا تھا اس لئیے موجود نہیں تھا گھر پہ۔" ارشد صاحب: (اجھپنے سے دیکھتے ہوئے)" کیا کہہ رہے ہو بھائی؟ *سنت ابراہیمی!!؟؟* ابھی تو سال پڑا ہے بقرعید آنے میں کس کی قربانی کرنے چلے گئے تھے بِنا موسم." ابراہیم صاحب: (مسکراتے ہوئے) "قربانی تو ہر موسم میں ہوتی ہے جناب! بس ارادہ قوی ہونا چاہیے میں طارق کا داخلہ کروانے گیا تھا مدرسہ میں خفظ کے ساتھ عالم دین کا کورس بھی کرے گا وہیں رہائش کا بندوبست بھی کروا دیا ہے۔"

ارشد صاحب: ہائیں ہائیں!!! ابراہیم تم تو بالکل ہی سٹھیا گئے ہو!!! میڑک میں پوزیشن لی ہے طارق نے، تم اس کا ایڈمیشن اچھے کالج میں کروانے کے بجائے مستقبل خراب کروانے لے گئے؟؟؟ انجینئر بن سکتا ہے باہر کسی ملک میں پڑھنے بھیج دو،،،، بچے کو کوئی شاندار مستقبل بن جائے گا تو نوکری بھی اونچی جگہ ملے گی کیسا غلط فیصلہ کیا تم نے۔"(انھیں یہ بات بلکل پسند نہیں آئی تھی)۔تم تو خود اتنے سال رہ کر آئے ہو باہر سے کیوں بیٹے کو قربان کر رہے ہو اپنی مرضی کے آگے۔" ابراہیم صاحب:"جی بالکل ! میں باہر کی چکاچوند سے خوب واقف ہوں اسی لئیے اپنے بیٹے کا مستقبل داؤ پر نہیں لگانا چاہتا اسے پہلے دین کی سمجھ بوجھ آجائے پھر وہ دنیا میں مستقبل بھی بنالے گا جہاں تک بات ہے قربانی کی تو یہ بھی سنت ہے۔ ابراہیم علیہ السلام نے کب دیکھا تھا کہ بیٹے کو کہاں سیٹل کرنا ہے دنیا بنانی ہے یا آخرت؟ اللہ کی راہ میں قربانی بیٹے نے بھی بخوشی دینا چاہی تھی پھر دیکھا اللّٰہ نے کیسا سرخرو کیا!! رہتی دنیا تک یہ سنت ابراہیمی چلتی ریے گی میرے بھائی اللہ کی راہ میں صرف مال نہیں اولاد بھی لگائی جاتی ہے اور یہ قربانی میرے بیٹے نے بھی اپنی مرضی سے دی ہے .

میں تو صرف سنت ابراہیمی ادا کرنے گیا تھا چند سال دین کی تعلیم پڑھ لے گا تو دنیا کی تعلیم میں ہر راہ اس کے لئیے آسان ہوجائے گی وہ جو قدم اٹھائے گا نیکی کے لئیے ہی اٹھائے گا میں ایسے ملک میں اپنے بیٹے کا ایمان خراب ہونے نہیں بھیج سکتا۔ دنیا ہی کمانی ہے تو دین کے ساتھ کمائے گا پھر آخرت بھی سنور جائے گی ان شاءاللہ!! یہ وقتی قربانی مجھے مہنگی نہیں پڑے گی البتہ تم ایک بار پھر سوچ لو؟؟؟؟ چلو اذان بھی ہوگئی"(ابراہیم صاحب نے ارشد صاحب کے کندھے کو ہلکا سا تھپتھپایا اور مغرب کی نماز کے لئیے اٹھ کھڑے ہوئے کیونکہ وہ نفس کی قربانی کے لیے بھی تازہ دم ہوچکے تھے)۔