روحانی سفر - محمد سلیم

برطانیہ سے ادائیگی حج کی خاطر ، سائیکلوں پر سوارآٹھ لوگ، پورے ساٹھ دن کے مسلسل سفر کے بعد، چار ہزار میل کی مسافت طے کرتے ہوئے، سترہ ملکوں سے گزر کر، 3 اگست ہفتہ کو مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ "عربیہ" چینل سے بات کرتے ہوئے ، گروپ لیڈر طاہر حسین اختر نے بتایا کہ ہر قسم کی مشکلات اور پریشانیوں کے باوجود، ان کا یہ سفر سب سے بہترین سفر تھا۔ طاہر حسین نے اپنے سفر کو خوبصورت روحانی سفر کا نام دیا۔

کھلاڑیوں جیسے کپڑے اور سر پر ہیلمٹ پہنے طاہر حسین اختر نے اپنے ساتھ درپیش آنے والی مشکلات کے بارے میں مختصر بتاتے ہوئے کہا : موسموں کی شدت اور ہر لمحہ بدلتی صورتحال، بارشیں، رطوبت، آکسیجن کی کمی، ناہموار اور دشوار گزار راستوں کے ساتھ ساتھ انہیں موذی جانوروں اور سانپوں سے بھی پالا پڑتا رہا۔
پس خبر: واضح رہے کہ ان لوگوں نے خانہ جنگی سے متاثرہ ممالک شام اور عراق سے نہ گزرنے کیلیئے اپنا سفر ان دو ملکوں پر سے جہاز میں سوار ہو کر کیا اور مصر میں اتر کر پھر سے سائیکلوں پر مکمل کیا۔ "ٹور ڈی حج" نامی اس سفر میں انہیں برطانیہ، فرانس، جرمنی، سوئزرلینڈ، لیختینستائن ، آسٹریا، سلووینیا، کروواتیا، بوسنیا، ھرزیگووینا، سربیا، کوسووو، بلغاریہ ، یونان، اور ترکی میں سے گزرنا پڑا۔ ان کے سفر کے دوران، میڈیا پر انہیں بہت پذیرائی ملی اور ہر ملک سے گزرتے ہوئے یہ لوگ وہاں کے اخبارات کی زینت بنے رہے۔ ترکی پہنچنے پر، صدر مملکت جناب طیب اردوگان نے استنبول میں ، انہیں اپنے صدارتی دفتر میں خوش آمدید کہا، ملے اور مہمان نوازی کی۔ ترکی میں اس گروپ کے ایک رکن وسیم نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا: ہم اس سفر کو یادگار بنانا چاہتے ہیں۔ اور ہم لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ کس طرح ہر کام ممکن ہوجایا کرتے ہیں۔

وسیم کا کہنا تھا کہ ہمارے مشن میں ہمارے ساتھ تعاون کرنے والے جان لیں کہ سائیکل کو مارا ہوا ہمارا ہر پیڈل ان کے اجر و ثواب میں اضافہ اور ان کے گناہوں کی بخشش کی طرف ایک قدم ہوگا۔ گروپ میں شریک ایک اور رکن "زین لمبات: کا کہنا تھا کہ ہمارا سفر اس لیئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ ہم اپنے عقیدے پر عمل کرنے کیلیئے سڑک پر موجود ہیں ۔ ہمیں اس سفر میں بہت سارے عظیم لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ واضح رہے کہ یہ آٹھوں لوگ مختلف قسم کے فلاحی کام بھی کرتے رہتے ہیں اور ان کا ہدف پاکستان، سری لنکا اور جنوبی افریقہ کے ملکوں میں پانی کے کنویں، مساجد اور مدارس تعمیر کرنا ہے۔ انہیں اپنے مشن کیلیئے $6,28,600 جمع کرنا ہیں۔