تالے میں بند کشمیر کی کوئی خبر نہیں - رویش کمار

کشمیر تالے میں بند ہے۔ کشمیر کی کوئی خبر نہیں ہے۔ باقی ہندوستان میں کشمیر کو لے کر جشن ہے۔ باقی ہندوستان کو کشمیر کی خبر سے مطلب نہیں ہے۔ ایک کا دروازہ بند کر دیا گیا ہے۔ ایک نے دروازہ بند کر لیا ہے۔جموں و کشمیر اور لداخ کے قیام نو کا بل پیش ہوتا ہے۔ ظاہر ہے یہ اہم ہے اور تاریخی بھی۔ راجیہ سبھا میں پیش ہوتا ہے اور غورو خوض کے لیے وقت بھی نہیں دیا جاتا ہے۔

جیسے کشمیر بند ہے ویسے قانون ساز مجلس بھی بند تھی۔ پر کانگریس نے بھی ایسا کیا تھا اس لیے سب نے راحت کی سانس لی۔ کانگریس نے بی جے پی پر بہت احسان کیا ہے۔ سڑک پر ڈھول نگاڑے بج رہے ہیں۔ کسی کو پتہ نہیں کیا ہوا ہے، کیسے ہوا ہے اور کیوں ہوا ہے؟ بس ایک لائن پتہ ہے جو سالوں سے پتہ ہے۔

صدرجمہوریہ گورنر کا اتفاق بتاتے ہیں۔ گورنر دو دن پہلے تک کہہ رہے ہیں کہ مجھے کچھ نہیں پتہ۔ کل کیا ہوگا پتہ نہیں۔ گورنر مرکز کا نمائندہ ہوتا ہے۔ صدر نے مرکز کی رائے کو ریاست کی رائے بتا دیا۔ سائن کر دیا۔ جموں و کشمیر اور لداخ اب ریاست نہیں ہیں۔ دو مرکز حکومتی ریاستوں میں بانٹ دیا گیا۔ گورنر کا عہدہ ختم۔ وزیراعلیٰ کا عہدہ ختم۔ سیاسی حق اور پہچان کی کانٹ چھانٹ ہو جاتی ہے۔ تاریخ بن جاتی ہے۔

باقی ہندوستان خاص طور پر شمالی ہندوستان میں دفعہ 370 کی اپنی سمجھ ہے۔ کیا ہے اور کیوں ہے؟ اس سے مطلب نہیں ہے۔ یہ ہٹا ہے اس کو لے کر جشن ہے۔ اس کے دو اہتمام ہٹے ہیں اور ایک بچا ہے۔ وہ بھی ہٹ سکتا ہے مگر اب اس کا مطلب نہیں ہے۔ جشن منانے والوں میں ایک بات صاف ہے۔ ان کا اب پارلیمانی عملوں کے دستور العمل میں کوئی عقیدہ نہیں۔ وہ نہ عدلیہ کی پرواہ کرتے ہیں اور نہ مجلس عاملہ کی اور نہ مجلس قانون ساز کی۔

اداروں کی تشویش کا سوال مردہ قرار دیاجا چکا ہے۔ لوگ حیات جاودانی حاصل کر چکے ہیں۔ یہ اندھیرا نہیں ہے۔ بہت تیز اجالا ہے۔ سنائی زیادہ دیتا ہے، دکھائی کم دیتا ہے۔ عوام نے جمہوریت کو خارج کر دیا ہے۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

لوگوں کو اپنے درمیان کوئی دشمن مل گیا ہے۔ کبھی وہ مسلمان ہو جاتا ہے، کبھی کشمیری ہو جاتا ہے۔ نفرت کے کئی کوڈ سے لوگوں کی پروگرامنگ کی جا چکی ہے۔ ان کو بس اس سے متعلق لفظ دکھ جانا چاہیے، ان کا ردعمل یکساں طورپر چھلک آتا ہے۔ دفعہ 370 کو لے کر سب نے سیاست کی ہے۔ بی جے پی سے پہلے کانگریس نے غلط استعمال کیا۔ دفعہ 370 کے رہتے مرضی چلائی، اس کو غیر مؤثر کیا۔

اس کھیل میں ریاست کی سیاسی جماعت بھی شامل رہی۔ یا پھر ان کی ناکامیوں کو دفعہ 370 کی ناکامی بتا دیا گیا۔ کشمیر کے مسئلہ کو کافی لپیٹا گیا اور لٹکایا گیا۔ اس میں بہت سے گھپلے بی جے پی کے آنے سے پہلے ہوئے۔ بی جے پی نے بھی سیاست کی مگر کھل‌ کے کہا کہ ہٹا دیں‌گے اور ہٹا دیا۔ 35-A تو ہٹا ہی دیا۔ لیکن کب کہا تھا کہ دفعہ 370 ہٹائیں‌گے تو ریاست ہی ختم کر دیں‌گے؟

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کے دورہ امریکہ کا مثبت پہلو - حبیب الرحمن

یہ سوال تو ہے لیکن جس کے لیے ہے اس کو اس سے مطلب نہیں ہے۔ نوٹ بندی کے وقت کہا گیا تھا کہ دہشت گردی کی کمر ٹوٹ جائے‌گی۔ نہیں ٹوٹی۔ امید ہے اس بار کشمیر کے حالات عام ہوں‌گے۔ اب وہاں کے لوگوں سے بات چیت کا تو سوال ہی نہیں۔ سب کے لیے ایک ناپ کا سویٹر بنا گیا ہے، پہننا ہی ہوگا۔ ریاست کا فیصلہ ہو گیا۔ ریاست کو پتا ہی نہیں۔

کشمیری پنڈتوں کا قتل اور نقل مکانی کا کانٹا آج بھی چبھ رہا ہے۔ ان کی واپسی کا اس میں کیا پلان ہے کسی کو نہیں پتہ۔ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ کوئی پلان نہیں ہے کیونکہ کسی کو کچھ نہیں پتہ۔ یہ وہ سوال ہے جو سب کو لاجواب کرتا ہے۔ کشمیری پنڈت خوش ہیں۔ وادی میں آج بھی ہزاروں کشمیری پنڈت رہتے ہیں۔ بڑی تعداد میں سکھ رہتے ہیں۔ یہ کیسے رہتے ہیں اور ان کا کیا تجربہ ہے؟ کشمیر کے مباحثے میں ان کی کوئی کہانی نہیں ہے۔ ہم لوگ نہیں جانتے ہیں۔

امت شاہ نے دفعہ 370 کو کشمیر کے ہر مسئلہ کی وجہ بتا دیا۔ غریبی سے لےکر بد عنوانی تک کی وجہ۔ دہشت کا تو بتایا ہی۔ روزگار ملے‌گا، کارخانہ آئے‌گا۔ ایسا لگ رہا ہے 1990 کا اقتصادی لبرلائزیشن نافذ ہو رہا ہے۔ اس لحاظ سے یوپی میں بہت بےروزگاری ہے۔ اب اس کو روزگار اور کارخانہ کے نام پر پانچ یونین ٹیریٹری ریاستوں میں کوئی نہ بانٹ دے!

ایک عارضی اہتمام ہٹا کر دوسرا عارضی اہتمام لایا گیا ہے۔ امت شاہ نے کہا ہے کہ حالات عام ہوں‌گے تو پھر سے ریاست بنا دیں‌گے۔ یعنی ہمیشہ کے لیے دونوں یونین ٹیری ٹیری ریاست نہیں بنے ہیں۔ یہ صاف نہیں ہے کہ جب حالات عام ہوں‌گے تو تینوں کو واپس پہلے کی حالت میں لایا جائے‌گا، یا صرف جموں و کشمیر ریاست بنے‌گا۔ ابھی حالات ہی ایسے کیا تھے کہ ریاست کا درجہ ہی ختم کر دیا۔

امید ہے کشمیر میں کرفیو کی مدت لمبی نہ ہو۔ حالات عام ہوں۔ کشمیر کے لوگوں کا آپسی رابطہ ٹوٹ چکا ہے۔ جو کشمیر سے باہر ہیں وہ اپنے گھروں سے رابطہ نہیں کر پا رہے ہیں۔ اس حالت میں جشن منانے والوں کا کلیجہ بتا رہا ہے کہ ہم کیا ہو چکے ہیں۔ایک بھیڑ ہے جو مانگ‌کر رہی ہے کہ آپ استقبال کر رہے ہیں یا نہیں۔ خود بی جے پی دفعہ 370 کی مخالفت کرنے والے جنتا دل یونائٹیڈ کے ساتھ ایڈجسٹ کر رہی ہے۔ مخالفت کے بعد بھی اس کے ساتھ حکومت میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   وقت آگیا ہے پاکستان کا نقشہ پھیلے اور بھارت کا سُکڑے - وزیراعظم آزاد کشمیر

آپ طریقہ کار پر سوال اٹھا دیں تو گالی دینے والوں کا دستہ ٹوٹ پڑے‌گا۔ وہاں بہار میں بی جے پی وزیر کےعہدے کی سُکھ بھوگتی رہے‌گی۔ کشمیر میں زمین خریدنے کی خوشی ہے۔ دوسری ریاستوں سے بھی ایسے اہتمام ہٹانے کی خوشی منانے کی مانگ کرنی چاہیے۔ ان آدیواسی علاقوں میں جہاں پانچویں فہرست کے تحت زمین خریدنے کی بندش ہے وہاں بھی نعرہ لگ سکتا ہے کہ جب تک یہ نہیں ہٹے‌گا ہندوستان ایک نہیں ہوگا۔

تو کیا ایک ہندوستان کی مانگ کرنے والے اپنے اس نعرے کو لےکر شمال مشرق کی ریاستوں میں بھی جائیں‌گے یا پھر کشمیر تک ہی محدود رہیں‌گے؟طریقہ تو اچھا نہیں تھا، دعا کیجئے نتیجہ اچھا ہو۔ لیکن مقصد ٹھیک نہ ہو تو نتیجہ کیسے اچھا ہو سکتا ہے۔ کشمیر کو اس کی کافی قیمت چکانی پڑ رہی تھی۔

شاید کشمیر کو باقی ہندوستان کی آدھی-ادھوری جانکاری کا منڈیر نہ بننا پڑے۔ کیا ایسا ہوگا؟ کسی کو کچھ پتہ نہیں ہے۔ کشمیری لوگوں کی فکر کی جانی چاہیے۔ ان کو گلے لگانے کا وقت ہے۔آپ عوام ہیں۔ آپ کے بیچ سے کوئی میسیج بھیج رہا ہے کہ ان کی بہو-بیٹیوں کے ساتھ کیا کریں‌گے۔ اگر آپ واقعی اپنے جشن کے تئیں ایماندار ہیں تو بتائیے اس ذہنیت کے لوگوں کو لےکر آپ کا جشن کیسے شاندار ہو سکتا ہے؟

جشن مناتے ہوئے لوگوں کا دل بہت بڑا ہے۔ ان کے پاس بہت سے جھوٹ اور بہت-سی ناانصافیوں سے منھ پھیر لینے کی ہمت ہے۔ دلیل اور حقیقت اہم نہیں ہے۔ ہاں اور نہ ضروری ہے۔لوگ جو سننا چاہتے ہیں وہی کہیے۔ کئی لوگوں نے یہ نیک صلاح دی ہے۔ کشمیر بھیڑ کی پروگرامنگ کو ٹرگر کر سکتا ہے اس لئے خاموش رہنے کی صلاح دی گئی۔

تاریخ بن رہی ہے۔ ایک کارخانہ کھلا ہے۔ اس میں کب کون-سی تاریخ بن‌کے باہر آ جائے کسی کو پتہ نہیں چلتا ہے۔ جہاں تاریخ بنی ہے وہاں خاموشی ہے۔جہاں جشن ہے وہاں پہلے کی کسی تاریخ سے مطلب نہیں ہے۔ جب مطلب ہوتا ہے تو تاریخ کو اپنے حساب سے بنا لیتے ہیں۔

ایوان میں امت شاہ نے کہا کہ نہرو کشمیر ہینڈل کر رہے تھے، سردار پٹیل نہیں۔ یہ تاریخ نہیں ہے مگر اب تاریخ ہو جائے‌گی کیونکہ امت شاہ نے کہا ہے۔ ان سے بڑا کوئی مؤرخ نہیں ہے۔نوٹ-لطیفہ بنانے والوں کو بتائیے کہ کشمیر ایک سنگین مسئلہ ہے۔ پنشن کا مسئلہ نہیں ہے۔ ان میں اور فحش میسیج بھیجنے والوں میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں کو کشمیر کے لوگوں سے مطلب نہیں ہے۔

( رویش کمار این ڈی ٹی وی سے وابستہ سینئر اینکر پرسن ہیں، یہ مضمون کے فیس بک پیج پر شائع ہوا ہے۔)