خضرِ وقت از خلوتِ دشتِ حجاز آید بروں- اوریا مقبول جان

منظرنامے کس قدر تیزی سے بدل رہے ہیں۔ وقت کی سلور سکرین پر ایک منظر لوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈالتا ہے، لوگ ابھی اسکی حیرانی میں گم ہوتے ہیں کہ ایک زور دار چھپاکے سے سکرین پر اس سے بھی زیادہ حیران کن منظر لوگوں کو نئی حیرتوں کے جہان میں لے جاتا ہے۔ تیزی سے بدلتے ہوئے واقعات کی یہ سلور سکرین دریائے نیل کے ساحلوں سے لے کر خلیج بنگال میں لہریں اچھالتے سمندر تک کے علاقے میں نصب کی گئی ہے۔ یوں تو گذشتہ ایک صدی سے یہ خطہ مختلف انقلابات، حادثات اور سانحات کی زد میں رہا ہے۔ لیکن گزشتہ دہائی میں ان واقعات کی شدت اور وسعت میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ہے، ایسے لگتا ہے جیسے اس پوری سرزمین پر جو زیر زمین لینڈ مائن بچھائی گئیں تھیں وہ اب ایک ایک کرکے کسی آتش فشاں کی صورت پھٹ رہی ہیں۔ یہ لینڈ مائن بھارت میں کشمیر اور مشرق وسطیٰ میں فلسطین کی صورت ایک عرصے سے مسلسل سلگ رہی تھیں۔ پھر آہستہ آہستہ تقریبا ہر خطے میں آتش فشاں ابلنا شروع ہوئے۔

ایران میں عوامی احتجاج نے ریاستی ظلم کے خلاف سینہ سپر ہونے کا راستہ دکھایا اورخطے کا امریکی پولیس مین رضاشاہ ذلت اور رسوائی سے رخصت ہوا۔ صدام آنکھ کا تارا بن گیا ، سکرین پر آٹھ سالہ عراق ایران جنگ کا منظر چلتا رہا، اسی دوران افغانستان میں سوویت یونین اپنے پچھتر سالہ اقتدار کے ڈرامے کی آخری عکس بندی کے لیے داخل ہوا اور کیمونزم پر "اختتام" کی مہر لگوانے کے بعد اپنی سائبیرین ہواؤں کی سردی میں جاکر منجمد ہوگیا، لیکن اپنے پیچھے افغانستان کی سکرین پر خانہ جنگی چھوڑ گیا۔ ایک دن اچانک اس آگ اگلتی سکرین پر پچاس افراد طالبان کی صورت نمودار ہوئے ، پھر آنا فانا ایک فائر فائٹر کی طرح انہوں نے افغان خانہ جنگی کی یہ آگ سرد کردی۔اسکے بعد 1996ء سے 2001 ء تک یہ خطہ کسی ڈرامائی تشکیل کا حصہ نہ رہا، راوی چین لکھتا تھا۔ لیکن ڈرامہ سازوں کی سلور سکرین اتنی سرد ہوجائیگی ، یہ کیسے ممکن تھا۔ گیارہ ستمبر 2001ء کا ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا بلاک بسٹر(Block buster) یعنی کھڑکی توڑ شاہکار سامنے آیا اور افغانستان کی سرزمین پر ایک نہ ختم ہونے والے سوپ اوپیرا (Soap opera)کا آغاز کردیا گیا۔ ایک ایسا ڈرامہ جسکے کرداروں میں سے کردار جنم لیتے ہیں اور کہانی کبھی ختم نہیں ہونے دیتے۔ دہشت گردی، عالمی جہاد، انتہا پسندی، لائف سٹائل پر حملہ، سب کچھ افغانستان کے قصے کی ڈرامائی تشکیل میں لکھ دیا گیا۔

کونسا ملک ایسا تھا جسکے افراد کو افغانستان کے طالبان اور القاعدہ سے منسلک کرکے گوانتاناموبے نہ لے جایا گیا ہو۔ مسلم ممالک تو ایک طرف آسٹریلیا، انگلینڈ اور یورپ کے رہنے والے بھی اس "لذت" سے آشنا کر دیے گئے۔ صدام حسین کا لاڈلا پن اچانک ڈرامائی طور پر ختم ہو گیا اورعراق کی سکرین پر آگ اور دھوئیں کے بادل چھا گئے، قتل و غارت، جنسی درندگی، ابوغریب جیل کے مناظر اور پھر صدام کی پھانسی پر جھولتے ہوئے قرآن پاک کی تلاوت کرتی ویڈیو دکھائی دیتی رہی۔ابھی پورا عراق آگ اور خون میں نہا رہا تھا کہ ایک دم پورے خطے میں ہر جگہ دبائی گئی لینڈ مائنوں نے پھٹنا شروع کردیا۔ مراکش، تیونس، مصر، یمن اور شام میں منظر بدلے تو اردگرد کے کردار بھی اس میں کودنے لگے۔ یمن اور شام کے آتش فشاں آج بھی مسلسل لاوا اگلتے چلے آرہے ہیں۔ لیکن نیل کے ساحل سے لے کر چٹاگانگ کی پہاڑیوں تک کے اس خطے کے عین مرکز میں جو ملک واقع ہے وہ میرے آقا سید الانبیائﷺکی زبانِ مبارک سے ادا ہونے والا لفظ ، اْس دور کا مشہور "خراسان "اور آج کا افغانستان ہے۔

یہ خطہ اس سلور سکرین پر ہر لمحہ بدلتے منظر نامے کا مرکزی علاقہ (Locale) ہے۔ وہ خطہ جسکے بارے میں اقبال نے کہا تھا آسیا یک پیکر آب و گل است ملتِ افغان درآں پیکر دل است از کشادِ او ، کشادِ آسیا وز فساد او ، فسادِ آسیا ترجمہ: "ایشیا ایک پانی و مٹی سے تراشیدہ جسم ہے اور افغان قوم اسی جسم کا دل ہے۔ اگر وہاں امن ہوگا تو پورے ایشیا میں امن ہوگا اور اگر وہاں فساد ہوگا تو پورے ایشیا میں فساد ہوگا"۔ یہ وہی خراسان (افغانستان) ہے جہاں کے غزنی سے سیدنا علی ہجویریؓ المعروف داتا گنج بخش نے برصغیر میں اسلام کی شمع روشن کرنے کے لئے ہجرت کی۔ جسکے بلخ میں آج کے دور کے سب سے مقبول شاعر مولانا روم نے جنم لیا، جسکے غور میں قصیدہ خوانِ سید الانبیائﷺ عبدالرحمن جامی نے زندگی گزاری اور جسکے قندھار میں ملا عمر نے جدید دنیا میں فساد زدہ افغانستان میں ایک پر امن اور انصاف پر مبنی اسلامی ریاست قائم کر کے دکھائی۔ اس مرکز کو تباہ و برباد کرنا اور اسے مسلسل فساد کی زد میں رکھنا منظر نامہ نویسوں کے سکرپٹ کا مرکزی خیال تھا۔ لیکن قضاو قدر کے فیصلے کچھ اور ہوتے ہیں۔ وہ طالبان جو اٹھارہ سال سے اس دھرتی پر لڑ رہے تھے انہوں نے قلم ڈرامہ نگار سے چھین لیا اور اپنے لئے ڈرامے کا انجام خود تحریر کرنا شروع کردیا۔ لیکن جنہوں نے یہ سلور سکرین سجائی ہے وہ اتنی آسانی سے اس منظر نامے کا اختتام نہیں چاہتے تھے۔

اس لیے ایک اور سلگتی لینڈ مائن کو دھماکے سے اڑا دیا گیا اور یہ لینڈ مائن کشمیر ہے۔ لیکن اس دفعہ اسکے اثرات کو قابو میں رکھ کر اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے گذشتہ دس سالوں سے سکرپٹ پر کام کیا گیا تھا۔ کشمیر کی جدوجہد آزادی خصوصا پاکستانی آزاد کشمیر کی آزادی وہ تمغہ امتیاز ہے جو صرف اور صرف پاکستان کے حریت پسند قبائل کے سینے پر سجا ہوا ہے۔ منظر نامہ نگار نے اس قبائلی علاقے کو جس طرح روندا، فساد کا شکار کیا، اور آخر کار انہیں جمہوریت اور معاشی ترقی کی افیون زدہ رشوت دی گئی تاکہ اگر کل کشمیر کا منظر نامہ سلور سکرین پر جلوہ گر ہو توجہاد کی بجائے آہوں، سسکیوں، شہادتوں اور ظلم و بربریت کے جواب میں صرف پارلیمنٹوں کی قراردادوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹوں کے سوا کچھ نظر نہ آئے۔آج کسقدر مطمئن ہے، مرکزی سکرپٹ رائٹر اور علاقائی منظر نامہ نگار کہ جمہوریت، معاشی ترقی، سڑکوں کا جال، تعلیم اور ہسپتال یقیناان قبائل سے وہ روح نکال چکے ہوں گے جو 1947 میں آزاد کشمیر کی آزادی کا پیش خیمہ بنی تھی۔ کسقدر معصوم اور تاریخ سے نا آشنا ہیں یہ لوگ۔

گذشتہ دو سو سالوں میں انگریز سے زیادہ کسی نے اس برصغیر میں ترقی کے کام نہیں کیے۔ کیا انکے نتیجے میں لوگوں نے اسکے خلاف جہاد ترک کیا یا آزادی کا خواب دیکھنا چھوڑ دیا۔ طالبان سے مذاکرات کے عین درمیان کشمیر میں یہ آخری زوردار ایکشن کرنا اسی سکرپٹ کا بنیادی حصہ ہے۔ اس پورے خطے کو عالمی طاقتوں کے لکھے گئے سکرپٹ کے مطابق جمہوریت، عالمی معاشی نظام، ترقی و خوشحالی اور جدید طرز زندگی زندگی کے اصولوں پرہی ازسرنومنظم کرنا ہے تاکہ نئی حد بندیوں میں بھی امت مسلمہ کی بیداری کا جادو نہ چل سکے۔ یہ سکرپٹ بڑی محنت سے لکھا گیا ہے جس میں وہ سب طاقتیں شامل ہیں جو اس سودی عالمی نظام کی بقا چاہتی ہیں۔ جمہوریت، سود، کارپوریٹ سسٹم اور نئی جنسی اخلاقیات میں ڈوبا ہوانظام۔

لیکن یوں لگتا ہے اب قلم ان سکرپٹ رائٹروں سے چھین لیا گیا ہے۔ جسکا آغاز (,خراسان) افغانستان سے ہو چکا۔ اب منظرنامہ جو بھی لکھا جائے وہ صرف اور صرف آنے والے دور کے مرکزی ہیرو کی فتح کی داستان ہی تحریر کرے گا۔ وہ ہیرو جو آئے گا تو حجاز سے لیکن اسکی نصرت اور مدد کے لیے قافلے اس سرزمین سے روانہ ہوں گے۔ اقبال اسی مہدی آخر الزماں کی آمد کا منظرنامہ یوں کہ تحریر کرتے ہیں خضرِ وقت از خلوتِ دشتِ حجاز آید بروں کارواں زین دور و دراز آید بروں ترجمہ: خضرِ وقت (مہدی) دشت حجاز کی حکومت سے ظاہر ہو کر سامنے آجائے گا اور اسکی نصرت و مدد اور اسکی حکومت کے قیام کے لیے قافلہ اس زمین یعنی جنوبی ایشیا کے شمال مغربی حصے برآمد ہوں گے" سلور سکرین پر منظر تیزی سے بدل رہے ہیں۔ آخری منظرنامے کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔