کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت - حامد کمال الدین

خدانخواستہ کہیں پر جنگ ہو جائے تو اُس سے نمٹنا ایک طرف، وہاں بد دلی، افراتفری اور ہائے دہائی والوں کے ساتھ پورا اترنا ہی ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔ تصور کریں، مریض کے ساتھ کسی وقت مریض کےلیے آئے ہوئے لواحقین کو بھی سنبھالنا پڑ جائے!

سوشل میڈیا قومی یکسوئی پیدا کرانے کے لیے بےشک ایک بڑی نعمت ہو سکتا ہے؛ اور اس کا ایسا ہی کوئی استعمال کرنے کی تدبیر بھی رہنی چاہیے۔ لیکن اگر یہ بد دلی، افراتفری کی آواز بن جاتا ہے تو بجائے خود ایک آفت ہوگی اور پہلے سے موجود مصائب پر ایک نیا اضافہ۔

کشمیر کے معاملہ میں سوشل میڈیا پر ہمیں''ففتھ کالم'' کا کردار نہیں نبھانا۔ رہے سہے امکانات کو ہوش اور تحمل کے ساتھ بروئے کار لانے کے سوا، عمل کی دنیا میں ہمارے لیے کچھ نہیں، باتوں کی دنیا میں جو کچھ بھی ہو۔

ایک ’’ملامتی فرقہ‘‘ اپنے طور پر یہاں سرگرم ہے جس کے بیانیہ کا لب لباب یہ ہے کہ ہمارے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے تھا! اس سے ذرا ہٹیں، تو پارٹیوں کے باہمی حساب کتاب برابر کرنے والی ذہنیتوں کو میں اس وقت یہاں فُل سوِنگ full swing میں دیکھ رہا ہوں۔ یعنی موقع اچھا ہے نجانے پھر آئے نہ آئے! ان کو بھی چھوڑیے، فرسٹریشن کا شکار ایک خاصی بڑی خلقت، جن کا پارٹیوں سے کچھ لینا دینا نہیں، محض ’ہائے دہائی‘ کی ایک طبعی کیفیت کے زیر اثر ان غیر استحکامی لہجوں کے فروغ کا ذریعہ بن رہی ہے۔

حالانکہ یہ واضح ہے، کشمیر پر اب عملاً جو بھی کرنا ہے، وہ اچھے یا برے، یہاں کے فیصلہ سازوں نے ہی کرنا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہم عام لوگ کشمیر کا جتنا بھی ’حق‘ ادا کر لیں، اور خواہ آسمان سے تارے کیوں نہ توڑ لائیں، عمل کے میدان میں ایک پتہ بھی ہلنا ہے تو انھی برسر اقتدار طبقوں کے کسی اقدام یا فیصلے سے۔ تو پھر کس قدر حوصلہ اور تحمل درکار ہے یہاں! کسی کسی وقت آپ کا بڑا اچھا پوائنٹ بھی ہوتا ہے، شک نہیں، لیکن وہ ایک ہی بات آپ ان فیصلہ سازوں کو چِڑا کر بھی کر سکتے ہیں اور عین وہی بات ان کو تحریک اور حمیت دلانے کے انداز میں بھی۔ نتائج میں بہتری کا اگر کوئی امکان ہے تو صرف دوسری تدبیر سے۔ اور میرا خیال ہے آپ فی الوقت کچھ نتائج ہی پیدا کرنا چاہتے ہیں، نہ کہ نرے تبصرے! آپ کی سمجھداری کا اصل امتحان یہاں یہ ہوگا کہ اپنی سوشل میڈیا قوت کو کام میں لا کر آپ ان سے کچھ فیصلے اور اقدامات کروانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ کام کو خراب کرنا، اور اگر وہ خراب ہو تو مزید خراب کر لینا کبھی مشکل نہیں ہوتا! دانشمندی کا امتحان یہ کہ وہ اسے کچھ نہ کچھ سلجھا لے۔ اپنے گھر میں ایک چھوٹے بچے سے کام لینے تک کا ایک ڈھنگ ہوتا ہے یارو، ورنہ وہ آپ کی نہیں سنتا، آپ کا اپنا برخوردار!

یہ بھی پڑھیں:   کیا کہنے - زرین تارڑ

’71‘ اور ’کارگل‘ وغیرہ کچھ ’’اسباق‘‘ ہیں جن کا ضرور ذکر ہونا چاہیے۔ نہ کہ کچھ دل آفرین ’’کوسنے‘‘ جو آپ کی ٹائم لائن پر جس قدر ’لائک‘ اور ’شیئر‘ ہوں گے، اسی قدر تیزی سے مسئلۂ کشمیر کا حل نکلتا چلا آئے گا!

کوئی یہ نہ سمجھے، میرا اس جانب توجہ دلانا اربابِ اقتدار کی بابت میری کسی خوش فہمی پر کھڑا ہے۔ میرا اپنا نہیں خیال، اس وقت آپ کو جو قیادتیں دستیاب ہیں، وہ قوم کو کسی یکسوئی سے ہمکنار کروا سکتی ہیں۔ اقتدار نہ اپوزیشن، ’’پارٹیوں‘‘ سے اوپر ہو کر کبھی’’قوم‘‘ کے طور پر دیکھنا اور سوچنا ان میں سے شاید ہی کسی کو نصیب ہو۔ ہماری آزمائش بیرونی نہیں سراسر اندرونی ہے، ایک نہیں ہزار ہا پہلوؤں سے۔ لیکن بطور قوم اس وقت میری آزمائش انہی کے ساتھ ہے، خواہ مجھے پسند ہو یا ناپسند۔ فی الوقت جو ہونا ہے، انہی کے کسی فیصلے اور اقدام سے ہونا ہے۔ لہٰذا مجھے جو بھی زور لگانا اور جو بھی قسمت آزمائی کرنی ہے، وہ فی الحال انہی سے کچھ کروانے کا ہدف سامنے رکھ کر کرنی ہے۔ کچھ انیس بیس کا فرق بھی لانا ہے تو فی الحال انھی کی راہ سے، کیونکہ کشمیر ایسے ایک مسئلہ کو ہماری اپنی کسی اچھل کود سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا، خواہ وہ ہم سوشل میڈیا پر کر لیں یا کہیں اور۔ جو چیز مجھے اس وقت محسوس ہو رہی ہے وہ یہ کہ ’’قوم‘‘ کے طور پر دیکھنا اور سوچنا اور قومی حساسیتوں کے اندر سے ایک راہ نکالنے کا ایک ذمہ دارانہ اسلوب لے کر آنا صرف حکومت اپوزیشن نہیں، ہم سوشل میڈیا اور مذہبی بیٹھکوں میں اظہارِ خیال فرمانے والے ’’قوم کے حقیقی دردمندوں‘‘ کو بھی کم ہی نصیب ہے، الا ما شاء اللہ۔

جزع فزع سے بھلا قوموں کے مسئلے حل نہیں ہوتے، اور الجھتے ہیں۔ اللہم ألھِمۡنَا رُشۡدَنا، وأعِذۡنَا مِنۡ شُرُورِ أنۡفُسِنَا