کشمیر تاریخ کی سب سے بڑی نسل کشی کی آزمائش پر - رمشا جاوید

تاریخ گواہ ہوگی جب ریاست مدینہ جیسی نام نہاد ریاست کا دعوی کرنے والے ہمارے وزیر اعظم عمران خان نے بھارت کو سلامتی کونسل کا رکن بنانے کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا شروع کیا تھا اس وقت ہی امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے صاف طور پر اسے کشمیریوں کی پیٹ پر چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دے دیا تھا۔ یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ بھارت گزشتہ 71 سال میں چار لاکھ سے زیادہ کشمیریوں کو شہید کرچکا ہے۔

ہمارے وزیر اعظم وہاں ہونے والی سفاکی کا ہر ہر حربہ و طریقہ معلوم ہوجانے کے باوجود اور اپنا پرانا نعرہ جو میاں نواز شریف کی بھارت دوستی پر وہ لگایا کرتے تھے کہ "مودی کا جو یار ہے غدار ہے۔" لگانے کے باوجود بھی جب کرسی پر بیٹھے تو انہوں نے پاکستان کی تاریخ کا سب سے پہلا اور گھٹیا کام ہی بھارت کو سلامتی کونسل کا رکن بنانے کی حمایت میں کیا۔اور ثابت کردیا کے وہ تو میاں نواز شریف سے بھی زیادہ مودی کے یار ہیں۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پاکستان کی محبت میں مرنے والی ۔۔ گولیوں اور بارود کی بوچھاڑ میں سبز ہلالی پرچم لہرانے اور پاکستان کا نعرہ بلند کرنے والی ہماری کشمیری عوام کی شہادتوں میں تیزی آگئی کیونکہ بھارت نے اپنا رنگ دکھاتے ہوئے مزید پچیس ہزار فوجی کشمیر میں بھیج دیے ہیں اور مقبوضہ کشمیر سے بیس ہزار سے زائد سیاحوں اور طلبہ کو واپس چلے جانے کا حکم بھی صادر کردیا۔کشمیر کی صورت حال بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے اور وہاں خوف و ہراس کی ایک فضا قائم ہوچکی ہے۔ ایسے میں حکومت پاکستان سمیت عالمی برادری کی خاموشی شرمناک ہے۔ ایک جانب اگر دل خون کے آنسو رو رہا ہے تو دوسری جانب اپنے کشمیریوں کی حالت زار دیکھ کر دل ضمیر کی اس مار سے پاک ہے کہ "یا اللہ تیرا شکر ہے کے ہم نے اپنے ووٹ اور رائے کی حفاظت کرتے ہوئے آج خود کو ضمیر کی مار سے بچا لیا۔

یہ بھی پڑھیں:   میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا - حبیب الرحمن

" ہر انسان اپنی امیدوں اور اپنے خوف سے پہچانا جاتا ہے۔ مسلمانوں کی امید بھی خدا ہوتا ہے اور خوف بھی ۔ اس لحاظ سے مسلمان سے زیادہ "امیر" کوئی نہیں۔ جبکہ کافر سے زیادہ "غریب" کوئی نہیں کہ اس کی امید بھی دنیا ہوتی ہے اور خوف بھی دنیا۔ عمران خان نے عوام کو ریاست مدینہ کا نام لیکر بےوقوف بنایا پھر ووٹ کے بعد بھارت کے آگے سجدہ ریز ہوکر انہوں نے اپنی "امید اور خوف" کا اظہار کرتے ہوئے اپنا چھپا مقصد بھی ظاہر کردیا۔ انہوں نے کشمیروں پر وہ ظلم کیا ہے کہ ان کا حال بھی دیگر زمینی خداؤں سے بدتر ہوگا۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ کشمیریوں نے کبھی اپنی تاریخ میں مسلح جدوجہد نہیں کی تھی، مگر " پاکستان سے رشتہ کیا ۔۔۔۔ لاالہ الا اللہ " کے نعرے میں اتنی جان تھی کہ اس نے کشمیریوں کی تاریخ کو بدل کر رکھ دیا۔ خود بھارت کہتا تھا ؎ "کشمیر کی آزادی کی تحریک کی پشت پر پاکستان ہے، ورنہ یہ تحریک چند پفتوں میں ختم ہوجائے۔" نظریے کی طاقت ایسی ہی ہوتی ہے مگر عمران خان اور ان کے سرپرست نے بھارت کے آگے سجدہ ریز ہوکر کشمیریوں کی قربانیوں کا مزاق اڑایا ہے۔ اور بدقسمتی سے اس میں سعودی عرب بھی شریک تھا۔

اب کشمیریوں کی آزادی، پاکستانی غیرت مند جوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ ہمیں حکمرانوں سے کوئی امید نہیں ۔۔ اب وقت آگیا ہے کہ 71 سال سے جاری اس آگ و خون کے دریا کے آگے بند باندھا جائے۔ کشمیر کی گلیوں میں مسلمانوں کا نہیں بھارتیوں کا خون بہے۔ اللہ نے مدد کا وعدہ مسلمانوں سے کیا ہے۔ تین سو تیرہ کا لشکر وہی غالب آتا ہے جہاں امید بھی خدا ہو اور خوف بھی خدا کا ہو۔ بھارت نے کشمیریوں کی بدترین نسل کشی کی ایک بار پھر ناپاک سازش کی ہے۔ یہ وقت فیس بک پر بیٹھ کر اجتماعی دعا کا نہیں بلکہ میدان میں نکل کر کافروں کو سبق سکھانے کا ہے۔ ہم کیوں بار بار اپنی تاریخ کو پڑھ کر آہیں بھریں کہ "کاش کوئی آئے اور مسلمانوں کی مدد کرے۔" سید علی گیلانی نے مسلمانوں کے نام یہ پیغام دیا ہے کہ "اگر آپ سب یونہی خاموش رہے اور ہم سب مار دیے گئے تو اللہ کے حضور آپ سب کو جوابدہ ہونا پڑے گا۔ کیونکہ بھارت انسانی تاریخ کی سب سے بڑی نسل کشی شروع کرنے جارہا ہے۔" اور اللہ کے آگے شرمندہ ہونے سے بہتر ہے کے آج مسلمان متحد ہوجائیں۔ اور تاریخ کو یاد کرنے کے بجائے تاریخ کو دہرائیں۔ ایک ایسی تاریخ جس میں جسم پر ٹاٹ کے کپڑے ہوں، پیٹ روزوں کی کثرت سے پیٹھ سے چپکا ہو، رعب اور حاکمیت انداز و بیاں سے ٹپکتی ہو ، اور تلوار کی نوک کافروں کے سینے میں گھسی ہو۔