کیا یہی وقت ہے جب کشمیر کا سودا کیا جا رہا ہے؟ بیرسٹر ایم ایم حسین

امام ابو حنیفہ کے بقول نیت کا حال اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جان سکتا کیونکہ یہ دل کا معاملہ ہے . لیکن حقائق کی بنیاد پر اسکا تعین کیا جاتا ہے تاکہ جان بوجھ کر کیے جانے والے جرائم میں اس کے مطابق سزا دی جا سکے۔ جیسے قتل عمد میں سزا کا تعین نیت سے منسلک ہے۔ حقائق سے پہلے ہم آرٹیکل 370 اور دفعہ 35-A کو سمجھتے ہیں۔

آرٹیکل 370 تھا کیا؟
تقسیمِ برصغیر کے وقت جموں و کشمیر کے حکمران راجہ ہری سنگھ نے پہلے تو خودمختار رہنے کا فیصلہ کیا تاہم بعدازاں مشروط طور پر انڈیا سے الحاق پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ اس صورتحال میں انڈیا کے آئین میں شق 370 کو شامل کیا گیا جس کے تحت جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ اور اختیارات دیے گئے۔ تاہم ریاست کی جانب سے علیحدہ آئین کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ جس پر سنہ 1951 میں وہاں ریاستی آئین ساز اسمبلی کے قیام کی اجازت بھی دے دی گئی

*دفعہ 35-A کیا ہے*
انڈیا کے آئین میں جموں و کشمیر کی خصوصی شہریت کے حق سے متعلق دفعہ 35-A کا مسئلہ کشمیر سے بھی پرانا ہے۔ اس قانون کی رُو سے جموں کشمیر کی حدود سے باہر کسی بھی علاقے کا شہری ریاست میں غیرمنقولہ جائیداد کا مالک نہیں بن سکتا تھا، یہاں سرکاری نوکری حاصل نہیں کرسکتا اور نہ کشمیر میں آزادانہ طور سرمایہ کاری کرسکتا ہے۔ تاہم اب کسی بھی انڈین شہری کو یہ تمام حقوق حاصل ہوں گے۔* یہی بات محبوبہ مفتی نے کہی ہے کہ اس کے خاتمے سے دو قومی نظریہ کی مخالفت ناکام ہو گئی مطلب اب غیر مسلم وہاں ہر قابض ہو جائیں گے۔

یہ قوانین ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ نے سنہ 1927 سے 1932 کے درمیان مرتب کیے تھے اور ان ہی قوانین کو سنہ 1954 میں ایک صدارتی حکمنامے کے ذریعہ آئین ہند میں شامل کر لیا گیا تھا۔ کشمیریوں کو خدشہ ہے کہ آئینِ ہند میں موجود یہ حفاظتی دیوار گرنے کے نتیجے میں تو وہ فلسطینیوں کی طرح بے وطن ہو جائیں گے، کیونکہ غیر مسلم آبادکاروں کی کشمیر آمد کے نتیجے میں ان کی زمینوں، وسائل اور روزگار پر قبضہ ہو سکتا ہے۔ یہ خدشہ صرف کشمیر کے علیحدگی پسند حلقوں تک محدود نہیں بلکہ ہند نواز سیاسی حلقے بھی اس دفعہ کے بچاؤ میں پیش پیش رہے ہیں۔آپ اب دیکھیں کہ یہ تبدیلی اسرائیل طرز کی ہے۔ اور یہ سب نیازی کی حکومت کے بعد ہو رہا ہے ۔ کیا بنگلہ دیش کی طرح ایام اور نیازی ہتھیار ڈال چکا؟ اب کشمیر میں مسلمانوں کی زمین مجبوراً یا جعلی سازی سے خریدی جائے گی ۔ جیسا کہ فلسطین میں یہودیوں کو بسایا جا رہا ہے۔
۳۵اے آرٹیکل ختم ہونے کی وجہ سے کشمیر کو جو تحفظ تھا وہ ختم ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نئی پارٹی کا قیام،کشمیریوں کے ساتھ دھوکے کی ایک لمبی تاریخ پر نظر - رضوان سُلطان

۱-اسرائیلی تعلق سمجھنا ہو تو پاکستان میں اسرائیلی طیارے کی خفیہ آمد کو یاد رکھنا ہو گا جب نیازی دور میں ایسا ہوا۔ اس وقت مکمل پلان طے ہوا۔ عمران کا اپنے سابقہ سالے جمائما کے بھائی کی لندن میں الیکشن کمپین کو مت بولیں۔

۲۔ اس کے بعد کشمیر پر ھندوستان کا ہوائی حملہ اور پاکستان کا ہندوستانی پائلٹ کو فورا چھوڑ دینا اور مودی کا یہ کہنا کہ میں نے دھمکی دی ۔

۳۔ پائلٹ کی رہائی کی بنیاد پر مودی کا الیکشن میں کامیاب ہونا اور وزیراعظم عمران خان نیازی صاحب کا مودی کو کشمیر کے حل کے لیے بہترین انتخاب قرار دینا ۔

٤-چین کو حافظ سعید کے خلاف قرار داد پر ٹیکنیکل اعتراض ختم کرنے کا کہنا اور پھر اس قرار داد کا منظور ہونا اور اس بنیاد پر ھندوستان کا کہنا کہ پاکستان کشمیر میں دہشت گردی کا ذمہ دار ہے ۔

۵- سلامتی کونسل میں ھندوستان کی سیٹ کے لیے نیازی کی حکومت کا ھندوستان کی حمایت کرنا اور اسکے حق میں ووٹ دینا

٦-حافظ سعید کا امریکی دورہ سے پہلے گرفتار کرنا اور ٹرمپ کا اس پر کریڈٹ لینا کہ معاملہ طے شدہ طریقے پر چل رہے ہیں۔

۷۔ امریکہ کی ثالثی کی بات کر نا اور کامران خان جو آج کل ایکسٹیشن کا وکیل بنا ہوا ہے اسکا یہ کہنا کہ امریکی ثالثی کی آفر اسی لیے تھی کہ مودی یہ اقدام کرے گا ۔
اگر ان تمام حقائق کا جائزہ لیا جائے اور عمران خان نیازی کی یو ٹرن اور فریب والی پالیسی دیکھی جائے تو واضح بات ہے کہ اسرائیلی مشاورت ( جو کہ اسرائیلی جہاز کی آمد پر مکمل ہوئی )اور امریکہ کی تائید کے بعد کشمیر کا سودا کیا جا چکا ہے۔

عمران خان نے قرضہ بھی لیا ، ڈالر بھی مہنگا کیا جبکہ اسد عمر خود کہہ چکا یہ غلط ہے۔ آئی ایم ایف کو وزارت خزانہ اور سٹیٹ بینک بھی حوالے کیا جا چکا۔ عقل مند اور باشعور افراد ان حقائق کی روشنی میں جان سکتے ہیں کہ پاکستانی عوام کو تبدیلی کے نام پر بے وقوف بنایا جا رہاہے لیکن یہ احساس دلانا ہی مشکل ہے۔ *مارک ٹوین نے درست کہا کہ بے وقوف بنانا آسان ہے لیکن یہ باور کرانا کہ بے وقوف بنایا جا رہا ہے بہت مشکل ہے*۔