ہندوستانی ریاست کے چہرے پر پڑا نقاب اتر گیا - اپوروانند

بھیشم نے کہا تھا،گرو درون نے کہا تھا، اسی نتیجے پر پہنچ کر کرشن نے کہا تھا: ''مریادا مت توڑو، توڑی ہوئی مریادا کچلے ہوئے اجگرسی گنجلکا میں کورو ونش کو لپیٹ‌کر سوکھی لکڑی سا توڑ ڈالے‌گی۔''

(اندھا یُگ، دوسرا شمارہ۔ دھرم ویر بھارتی)

ہندوستانی ریاست نے مریادا توڑ ڈالی ہے۔ ہندوستانی ریاست کے چہرے پر پڑا نقاب اتر گیا ہے۔ تہذیب کی آخری لکیر پار‌ کر لی گئی ہے۔ یہ پھر ثابت ہو گیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے سیاست میں پالیسی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ شائستگی، احساس اور سچ کی، بی جے پی کی سیاست نے دھجیاں اڑا دی ہیں۔

جھوٹ، دھوکہ دہی اور زبردستی اور بےرحمی کو حکومت کرنے کا آرٹ کہا جا رہا ہے۔ بےحیائی کو صاف گوئی اورغنڈہ گردی کو جرأت! تاریخ میں ایسے لمحے آتے ہیں جو سماج کے لیے آئینہ بن جاتے ہیں جن میں وہ اپنی اصلی صورت صاف دیکھ پاتا ہے۔ جو کچھ بھی 5 اگست کو پارلیمنٹ میں ہوا ہے، اس نے ثابت کر دیا ہے کہ بی جے پی کے لیے اکثریت کا مطلب اکثریت پرست اکثریت ہے۔ اس نے ہندوستان کی سیاست میں اندر ہی اندر پل رہے اکثریت پرستی کے زہر کو بھی سطح پر لا دیا ہے۔ وہ زہر ساری جماعتوں کے ذہن میں ہے، یہ شاید بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو پتہ تھا۔ ہندوستان کے مسلمان کو معلوم نہیں تھا، ایسا نہیں ہے لیکن یہ اب کھلے عام بتایا بھی گیا ہے؛ جہاں اس کی تعداد کم ہے، اس کوگھس پیٹھیا اور غیر قانونی کہا جائے‌گا اور جہاں اس کی تعداد زیادہ ہے، اس کو دہشت گرد ٹھہرا دیا جائے‌گا۔

یہ کیا محض اتفاق ہے کہ 4 اگست کو آسام کے لاکھوں مسلمانوں کو نوٹس جاری کیا گیا کہ وہ پھر سے اپنی شہریت کے ثبوت پیش کریں۔ کشمیر پر بات کرنے کے لیے کشمیر کا ماہر ہونے کی ضرورت نہیں۔ آرٹیکل 370 کی باریکیوں اور اس کی تاریخ کو کبھی اور کہیں اور پڑھا جا سکتا ہے۔ آرٹیکل 370 ایک علامت رہی ہے اس بات کی کہ ہندوستانی ریاست اصل میں ایک پروسس ہے، وہ ایک ترقی پذیر رشتہ ہے، کوشش ہے ایک دوسرے کا یقین حاصل کرنے کی۔ وہ ایک سفر ہے، ایک دعوت ہے۔ وہ دھمکی نہیں ہے۔

ملک صرف قوانین کے سلسلے کا نام نہیں، وہ ایک علامتی نظام ہے۔ ہرعلامت کا صاف عملی معنی تلاش کرنا ضروری نہیں، علامت یقین دہانی ہوتی ہے، ملک کو پہچاننے اور اس سے اپنا پن بنانے میں مددگار ہوتی ہے۔ 5 اگست نے ثابت کیا کہ ہندوستان بھی آخرکار اسٹالن کے سوویت یونین اور کمیونسٹ چین کی طرح یہ مانتا ہے کہ ملک کے وسائل پر، آبادیوں پر قبضے کا دوسرا نام ہے۔ ملک کوئی رومانی خیال نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک خط - ڈاکٹر صفدر محمود

کون نہیں جانتا کہ دفعہ 370 جوڑنے کا دھاگا تھی، ہندوستان اور کشمیر کے درمیان دیوار نہیں؟ لیکن جو اس کے خاتمے کی مانگ کرتے رہے ہیں اور جو 5 اگست کے ہندوستانی پارلیمنٹ میں ہوئے فیصلے کا جشن منا رہے ہیں، ان کے لیے دوسروں پر قبضے کا نام ہے۔ اس سے بھی زیادہ ان کے اندر یہ گانٹھ بن گئی ہے کہ یہ مسلمانوں کو خصوصی اختیارات حاصل ہیں۔ جو سوال وہ کشمیر کے لیے اٹھا رہے ہیں، وہ وہ باقی ریاستوں کے لیے نہیں اٹھاتے، جن کو خصوصی اختیارات حاصل ہیں، جہاں آپ جائیداد نہیں خرید سکتے اور جن میں داخل ہونے کے لیے آپ کو اجازت چاہیے ہوتی ہے۔

جموں و کشمیر کو توڑ دیا گیا ہے، اس کے ٹکڑے کر دیے گئے ہیں۔ یہ قانون ساز مجلس میں اکثریت کی جس تلوار سے کیا گیا ہے، وہ کسی اور ریاست کی گردن اور جسم پر بھی گر سکتی ہے، اگر بی جے پی کو وہ پریشان کن معلوم پڑے۔ جو رہنما وفاقی نظام کی دہائی دیتے اور خود اپنی ریاستوں کے لیے خاص پیکیج مانگتے تھکتے نہیں، انہوں نے کشمیر کے ٹکڑے ہونے دیے اور اس سے آزاد ریاست کی حیثیت چھین لینے میں بی جے پی کی مدد کی۔ وہ کیا یہ سوچ رہے تھے کہ ان کی ریاست مسلمان اکثریت نہیں، اس لیے ان کو یہ خطرہ نہیں!

کیا عدلیہ قانون سازمجلس کے ذریعے کی گئی اس کھلی اندھیرگردی کو درست کرے‌گی؟ اس کا حال کا ریکارڈ تسلی نہیں دیتا، وہ چاہے آدھار کا معاملہ ہو، یا آسام میں این آر سی کا یا ایودھیا کا۔ افضل گرو یا یعقوب میمن کے لیے عدالت کے پاس ویسی دلیل نہ تھی جو دارا سنگھ کے لیے استعمال کی گئی۔

یہ مجموعی طور پر ان معاملوں کے بارے میں تو سچ ہے ہی، جہاں ریاست کے تشدد کو چیلنج دیا جاتا ہے، اس سے زیادہ ان معاملوں میں بھی، جن کا رشتہ کسی نہ کسی طرح مسلمانوں سے ہے۔ نجی آزادی سے عدالت کو تب دقت ہونے لگتی ہے جب وہ کسی مسلمان کی ہو، یہ ہادیہ کے سیاق و سباق میں اس کے رویے سے مسلمانوں کو بتا دیا گیا تھا۔ وہ انھیں غور کرکے فیصلہ لینے لائق بالغ نہیں مانتا، ان کے لیے نظم وضبط اور سرپرست کی ضرورت ہے، ایسا اس مقدمہ نے ثابت کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   مذہبی کارڈ ہی کیوں؟ حبیب الرحمن

کشمیر کے ٹکڑے کرکے صرف وہیں کے نہیں، ہندوستان بھر‌ کے مسلمانوں کو کہا گیا ہے کہ ان کو آئینی طریقے سے ذلیل کیا جا سکتا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے بارے میں ہمیں معلوم تھا لیکن 5 اگست کو اکثریت پسندوں کے نالے سے جو گندگی ابل ابل‌کر باہر پھیل رہی ہے، کہیں اندر چھپی ہوئی جو فحاشی برہنہ رقص کر رہی ہے اور جو تہوار منایا جا رہا ہے، اس نے محمد علی جناح کے خدشے کو سچ ثابت کر دیا ہے۔

اس میں مہانگروں کی تمام جماعت بھی شامل ہے جو گلوبلائزیشن کی خوبی گناتے نہیں تھکتی اور اس کے فائدے بھی لیتی ہے۔ یہ ثابت ہو گیا کہ تعلیم، ادب، آرٹ، راشٹرواد کے زہر سے خالی نہیں۔ لیکن یہ بھی کہا جانا چاہیے کہ ابھی جو مٹھائیاں کھائی جا رہی ہیں، ان کا زہر اس ملک کے خون میں کینسر کی طرح پھیل جائے‌گا۔

5 اگست کی قانون سازمجلس نے ایک جھٹکے میں کشمیر میں مکالمہ کو بےکار اور حماقت بھرا ٹھہرا دیا ہے۔ اس کو ریکارڈ کرنا چاہیے کہ ہندوستان کی قانون ساز مجلس نے چالاکی کے ساتھ ساتھ طاقت کے تشدد کو ایک اصول کے طور پر قائم کر دیا ہے۔ یہ اصول اس کو بھاری پڑے‌گا، لیکن اس سے زیادہ جو یہ کہا جا رہا ہے کہ کشمیر کی آبادی کی صورت بدل دی جائے‌گی۔ پھر روس اور چین کی یاد دلاتا ہے، جو تبّت کی آزادی چاہتے ہیں اور اس کے نقصانات کی تنقید کرتے ہیں، ان کی زبان کشمیر کے ہندوازم کے امکان سے چٹ پٹا رہی ہے۔ ان سب کی لالچ ان پر بھاری پڑے‌گی۔

کنّڑ قلمکار یو آر اننت مورتی اپنے گردہ خراب ہونے اور ڈائلیسس پر رہنے کے باوجود 2014ء میں دلّی آئے، اپنے وطن کو محتاط کرنے کہ وہ ایک خودکش قدم اٹھانے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، NEVER GIVE POWER TO A BULLY (کسی غُنڈے کے ہاتھ میں طاقت نہیں دینی چاہیے) وہ تحفظ نہیں دیتا، آپ کو بزدل بنا دیتا ہے۔ اپنی بزدلی سے شرمندہ آپ وہی بن جانا چاہتے ہیں اور اس لیے اس کے لٹھیت یا بھاٹ بن‌ کے رہ جاتے ہیں۔ کہتے ہیں ادیب نجومی ہوتا ہے۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ دیر کتنی بھی ہو کمزور کی آہ ظالم پر واپس بجلی کی طرح گرتی ہے۔ آج ہندوستان اب ہمیشہ خدشہ کے سائے میں جینے کو مجبور ہے۔

(بشکریہ دی وائر، مضمون نگار دہلی یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔)