وزیراعظم صاحب! ذرا احتیاط کیجیے - فضل ہادی حسن

1998ء کی بات ہے، میں اس وقت سنگوٹہ سوات میں زیر تعلیم تھا۔ جماعت اسلامی کی طرف سے ملک میں بھر "استحکام پاکستان ریلی" کے عنوان سے پروگرامات جاری تھے۔ گراسی گراؤنڈ مینگورہ میں استحکام پاکستان ریلی (ملاکنڈ ڈویژن کے لیے) کی تیاریاں ہورہی تھیں۔ جماعت اسلامی کے سابق ایم اے این اور رہنما صابر حسین اعوان سکیورٹی کی ذمہ داریوں کے سلسلہ میں سنگوٹہ آئے ہوئے تھے۔ میں ایک دوست کی وجہ سے ان کے ساتھ سنگوٹہ سے مینگورہ شہر کی طرف جارہا تھا۔ صابر بھائی (کسی شخص کے حوالے سے) بتا رہے تھے کہ فوج نے نواز شریف کو بڑا اعتماد دیا ہوا ہے کہ "آپ (نواز شریف) بڑے خوش قسمت ہیں اور ہیرو بنتے جارہے ہیں، ایٹمی دھماکے کر دیے اور اب آپ کی وزارت عظمی میں کشمیر بھی آزاد ہونے والا ہے"۔ صابر بھائی نے قاضی حسین احمد رح کے حوالہ سے بھی کچھ کہا جس کا اظہار قاضی صاحب نے گراسی گراؤنڈ کے خطاب میں کیا جو تاریخ کا حصہ اور اخبارات کی زینت بھی بن گیا تھا۔

یاد رکھیں!
اس وقت بھی سویلین اور عسکری قیادت ایک "پیچ" پر تھی، ایک (پیدا شدہ) کیفیت کے بعد جنرل مشرف کو تین سال کی ایکسینٹشن 'بھی' مل گئی تھی، باہمی رابطہ اور ہم آہنگی اس مقام پر پہنچ چکی تھی کہ جنرل مشرف کی اپنا پسٹل ہاتھ میں پکڑ کر وزیراعظم کی سیکورٹی کی ذمہ داری نبھانے کی تصویریں اخبارات کی زینت بنی تھیں۔
لیکن پھر جو کچھ نواز شریف کے ساتھ ہوا، وہ پوری دنیا نے دیکھا اور سنا، بلکہ اب بھی اسے سمجھنے کی کوشش ہو رہی ہے، ماسوائے 1996 کے بعد پیدا ہونے والوں کے، جو شاید یہ سمجھنے سے قاصر ہوں گے۔

پھر سب نے دیکھا تھا کہ وہ جنرل مشرف ہی تھے، بطور چیف جو عزائم ان کے تھے، وہ بطور چیف ایگزیکٹو اور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بھی جاری رکھے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کا فارمولہ بھی پیش کر دیا، دہلی کا دورہ بھی کیا اور حریت کانفرنس کی قیادت کو اعتماد میں لینے کے لیے ان سے ملاقاتیں بھی کی تھیں۔ البتہ تحریک آزادی کے روح رواں اور توانا آواز سید علی شاہ گیلانی کی الگ (کشمیر پالیسی سے اختلاف اور دیگر وجوہات پر) ملنے کی شرط اور ملاقات میں بےباک و جلالی مؤقف اختیار کرنے کے بعد مشرف نے وہی پالیسی اپنائے رکھی جو کبھی ہم اپنوں کے ساتھ روا رکھے ہوتے ہیں، (متحدہ جہاد کونسل کی قیادت کو بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے)۔ گیلانی صاحب کو اس موقع پر الگ رکھا گیا۔ حریت کانفرنس کو دو حصوں میں تقیسم کر کے جدوجہد آزادی کو دوہرا نقصان پہنچانے کی دانستہ کوشش بھی کی گئی۔ مجھے یاد ہے جب پاکستانی ٹی وی پر گیلانی صاحب کی جگہ حریت کانفرنس کے میرا واعظ گروپ کو نمایاں کوریج دلوائی گئی جبکہ کشمیری عوام کے خوف اور بامر مجبوری گیلانی صاحب کے لیے "بزرگ کشمیری رہنما" کی اصطلاح متعارف کروائی گئی۔ یقین جانیے اگر گیلانی صاحب پاکستان میں ہوتے، تب یا تو مجرم قرار پاکر پابند سلاسل ہوتے یا گھر میں نظربند۔ خیر قید و بند گیلانی صاحب کے ہاں کوئی معنی نہیں رکھتے۔

یہ بھی پڑھیں:   قانون - ملک ارشد جعفری

اب جب ہم ماضی کا جائزہ لیتے ہیں تو بآسانی دیکھ سکتے ہیں کہ پرویز مشرف کہاں تھا اور کشمیری قیادت کہاں، کشمیر سے وفا کس نے کی اور جفا کس نے؟ مشرف فارمولہ نے کشمیر کاز کو فائدہ کتنا دیا اور نقصان کتنا پہنچایا؟ آج کشمیر کو پھر اس مقام پر لاکھڑا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، آج پھر وہی تاریخ دہرائی جارہی ہے۔ اس بار بھی سویلین اور عسکری قیادت سمیت عدلیہ اور دیگر تمام ادارے ایک پیچ پر کھڑے ہیں، باہمی ہم آہنگی بھی ہے اور اس بار امیر المؤمنین کے بجائے عوامی مقبولیت رکھنے والا نیا لیڈر اور ہینڈ سم وزیراعظم بھی دستیاب ہے۔ اس بار وزیراعظم کو سبز باغ دکھانے کے علاوہ قائداعظم کے بعد پہلی بار پاکستان کے لیے واحد سچے، دیانت دار اور مخلص لیڈر کا "تڑکہ" شامل کر کے شاید وہی غلطی دہرائی ہونے جا رہی ہے جو 1998ء سے لے کر 2007ء کے درمیان کی گئی تھی۔

وزیر اعظم صاحب ذرا احتیاط سے
اس بار کشمیری قیادت کو ایک طرف بےپناہ عوامی حمایت حاصل ہے تو دوسری طرف کشمیری نوجوان اسلحہ کے علاوہ اس دور کی اصل طاقت سوشل میڈیا سے بھی لیس ہے۔ کشمیر کی تقیسم کا فارمولہ جہاں کشمیری قبول نہیں کریں گے، وہاں یہ امکان اور خدشہ ضرور موجود ہے کہ کارگل تنازعہ کی طرح، اس بار بھارت کے حالیہ اقدامات سے کشمیر کا مسئلہ حل ہو یا نہ ہو، لیکن سبز باغ اٹک قلعہ کی "سیر" کا باعث بن سکتے ہیں۔

Comments

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن اسلامک سنٹر ناروے سے وابستہ ہیں۔ جامعہ اشرفیہ لاہور اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہیں۔ ائی آر میں ماسٹر اور اسلامک اسٹڈیز میں ایم فل کیا ہے۔ مذہب، سیاست اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.