میں نے لکھنا کیسے سیکھا (2) - محمد احمد

اکثر حضرات کا یہ کہنا ہے کہ فن تحریر وہبی علم اور اللہ کی عطا ہے۔ انسان پیدائشی اورفطرتی طور پر اس کی طرف مائل اور معمولی توجہ اور محنت سے اس میں نکھار پیدا ہوجاتا ہے۔ ہمارے استاد محترم فرماتے ہیں یہ فن اصلا تو وہبی ہے، لیکن اس میں کسب کا بھی دخل ہے۔ انسان محنت کرتا رہے اور صاحب قلم حضرات کی نگرانی میں عملی مشق جاری رکھے اور مستقل مطالعہ اور مسلسل لکھنے سے یہ صلاحیت نکھر کر سامنے آتی ہے اور اس میں وقت کیساتھ مزید بہتری آتی رہتی ہے۔

اب اگر اپنی بات کروں میرے اندر یہ ملکہ وہبی عطا ہے، یا کسبِ فیض کا نتیجہ ہے۔ یقینا عطا تو اپنے پروردگار کی ہی ہے، مگر اس میں کسب کا بھی دخل ہے۔ کیونکہ میں لکھنا چاہتا تھا لیکن لکھنا نہیں آتا تھا یا آتا تو طریقہ کار اور تحریر کے آداب سے ناآشنا اور ناواقف تھا۔ اس وجہ سے ہم نے یہ فن باقاعدہ سیکھنے کے لیے جامعۃ الرشید رجوع کیا۔ مفتی ابولبابہ شاہ منصور کا شمار میری آئیڈیل شخصیات میں ہوتا ہے، ان کی شخصیت اور کردار سے بہت متاثر ہوں۔ استاد محترم کا جذبہ ایمانی، خلوص دل، جذبہ اور ولولہ، ایمانی حرارت، انقلابی سوچ اور طلبہ کو یہ فن منتقل کرنے کا درد اور تڑپ کیا کہنے۔

میں اس وقت بھی اپنے ساتھیوں کو عرض کرتا تھا کہ اگر چار پانچ ابولبابہ اور ہوں تو ملک میں کب کو انقلاب آچکا ہوتا۔ طلبہ حضرات کے توجہ کے مرکز و محور بھی حضرت شاہ منصور صاحب تھے، ان کی وجہ سے طلبہ چھٹی کے دن جمعہ کو بھی پڑھنے چلے آرہے تھے۔ ورنہ ہفتے میں ایک چھٹی، اور وہ بھی بندہ پڑھائی میں صرف کرے، دل گردے کا کام ہے۔ ہم نے بھی اپنے دل پر پتھر رکھ کر فیصلہ کیا کہ ہم نے یہ جمعہ کے روز یہ شارٹ کورس کرنا ہے۔

جامعہ دارالعلوم کراچی سے جامعہ الرشید گاڑی میں تقریبا سوا یا ڈیڑھ گھنٹے کا سفر ہے۔ ہمارا جامعہ کراچی کی انتہا پر تھا تو جامعہ الرشید ابتدا میں تھا۔ یعنی انتہا سے ابتداء کا سفر تھا۔ مصیبت یہ پیش آئی ہمارے ہاں سے کوئی گاڑی وہاں تک نہیں جاتی تھی، بیچ میں دو تین گاڑیاں بدلنی پڑتی تھیں۔ کسی نے رہنمائی کی کہ صبح سویرے جو گاڑیاں سبزی منڈی جاتی ہیں، ان پر چلیں جائیں، یہ آپ کو معمار موڑ پر اتاریں گی، پھر چنگچی پکڑ جامعہ الرشید پہنچیں۔ سردی کے ایام چل رہے تھے، صبح کو غضناک ہوا چلتی تھی، اتفاقا اس سال کراچی میں سردی بھی خاصی پڑی تھی۔ ایک مشکل یہ سردیوں میں فجر لیٹ ہوتی ہے اور ادھر سے 8 بجے کلاس میں لازمی پہنچنا ہوتا تھا، اپنی گاڑی میں فجر کا سلام پھیر کر چلیں بھی تو بمشکل آٹھ بجے سبق میں پہنچتے تھے۔

پہلے دن سبق کے لیے فجر کا سلام پھیر کر ساتھیوں کے ساتھ جلدی جلدی سنگر چورنگی کی طرف بڑھے اور سبزی منڈی جانے والی گاڑی پکڑی جو ایک بغیر چھت والی سوزوکی تھی، اب جس کو جہاں کھڑے ہونے کی جگہ مل گئی وہ وہیں لٹک گیا، ادھر سے سوزوکی کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، مزدور، دیگر لوگ اور ہم جیسے طالب علم بھی سوار ہیں۔ ہر ایک کی منزل اور مقصد الگ ہے۔ ادھر سے یخ بستہ ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہیں۔ بس ہماری حالت قابل رحم ہوجاتی تھی۔ (بعد ہمارے ساتھیوں نے اپنی ترتیب بنائی تھی، دارالعلوم سے دو بسیں جاتی تھی)

ایسے لگ رہا ہوتا تھا کہ تن من دھن کی بازی لگا کر ہم یہ فن سیکھنے جارہے ہیں۔ ایک مرتبہ شاہ فیصل پُل پر فُل اسپیڈ میں چلتی گاڑی کا ٹائر نگل گیا، اوپر سے اوَوَر لوڈ گاڑی، خدا نے حادثہ سے بچالیا، گاڑی الٹنے سے بچ گئی ورنہ کوئی زندہ نہیں بچتا۔ گاڑی رکی، ہم نے تیزی سے دوسری گاڑی پکڑی اور مدرسہ جانے کی جلدی تھی۔ اس وقت حادثہ کی نہیں بلکہ سبق میں جانے کی فکر دامن گیر تھی۔ کجھ بزرگ تو پوچھ رہے تھے گاڑی کیوں رکی ہے؟یا سبحان اللہ! بھائی! اللہ تعالی نے حادثہ سے بچالیا شکر کریں۔

ہمارا قصہ یہ تھا کہ زر بھی اپنا خرچ کرنا پڑتا تھا، کورس کی فیس، واپسی میں دارالعلوم پہنچتے تھے تو نماز جمعہ تیار ہوتی تھی۔ اتنا وقت ہوتا تھا کہ وضو کر کے نماز میں شامل ہوجائیں، بعد کھانا بھی اپنا کھانا پڑتا تھا۔ یعنی جان نچھاور، مال قربان، چھٹی کی بھی پرواہ نہیں، پورے ہفتے میں اس ایک چھٹی کا سہارا ہوتا تھا، کپڑے بھی دھونے ہوتے تھے، پورے ہفتے کی نیند کی کسر پوری کرنی ہوتی تھی،گویا ہفتہ بھر کے لیے بیٹری چارج کرنی ہوتی تھی، بس ایک شوق کی تسکین کے لیے یہ سب پاپڑ بیلنے پڑتے تھے۔

وہاں ہمارے آٹھ سے بارہ تک چار گھنٹے ہوتے تھے۔ اب کون سے کون سے گھنٹے کن کن حضرات کے پاس کس چیز کے تھے۔ ان کے پڑھانے کا انداز کیا تھا اور پھر عملی میدان میں اس شارٹ کورس کا کوئی فائدہ بھی ہوا یا نہیں اس کا تذکرہ اگلی قسط میں کریں گے۔ ان شاءاللہ۔