’ہم پاکستان پر انڈیا کو ترجیح دینے میں غلط تھے‘ - محبوبہ مفتی

کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ انڈین حکومت جموں و کشمیر کو غزہ کی پٹی کی طرح بنانا چاہتی اور کشمیر کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہتی ہے جو اسرائیل فلسطین کے ساتھ کر رہا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کی جانب سے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو انڈین آئین میں دیے جانے والے خصوصی درجے اور اختیارات کو ختم کرنے کے اعلان کے بعد بی بی سی سے خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ آج کا دن انڈیا کی جمہوریت کے لیے سیاہ ترین دن ہے۔ انڈین وزیرِ داخلہ کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے اعلان پر ان کا کہنا تھا کہ انھیں یہ سن کر بہت دھچکا لگا ہے۔

’میرے خیال میں آج کا دن انڈیا کی جمہوریت کے لیے سیاہ ترین دن ہے اور ہماری سیاسی قیادت، جنھوں نے دو قومی نظریے کو رد کرتے ہوئے سنہ 1947 میں انڈیا کے ساتھ ایک امید لیے الحاق کیا، اب ایسا لگتا ہے کہ ہم پاکستان پر انڈیا کو ترجیح دینے میں غلط تھے۔ حتیٰ کہ پارلیمنٹ بھی جو انڈیا میں جمہوریت کا مندر ہے وہ بھی ہمیں مایوس کر رہی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انھیں کشمیر کا علاقہ چاہیے وہ یہاں کے عوام کے لیے فکرمند نہیں ہیں۔ اب ہم کہاں جائیں، وہ لوگ کہاں جائیں جو اقوام متحدہ میں انصاف کے لیے جاتے تھے۔ میرے خیال میں اس یکطرفہ فیصلے کے برصغیر پر دور رس اور تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ حکومت کا آرٹیکل 370 ختم کرنے کا بنیادی مقصد کیا ہے، پی ڈی پی کی رہنما کا کہنا تھا کہ انہیں کوئی شک نہیں ہے کہ انڈین حکومت کے عزائم ناپاک ہیں۔ ’وہ وادی میں آبادیاتی تبدیلیاں چاہتے ہیں اور آج ایک مرتبہ پھر انڈیا نے ریاست کو فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم کر دیا ہے۔ اب اس میں ایک اور تقسیم آ گئی ہے۔ (حکومت) نے یونین ٹریٹریز کا نظام رائج کیا ہے، ان کا ارادہ بہت واضح ہے کہ وہ زمین پر قبضہ کرنا اور ہم مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنا چاہتے ہیں اور ہمیں مکمل بےاختیار کرنا چاہتے ہیں۔‘

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی مخصوص آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد کشمیر کا مستقبل کیا ہوگا؟ اس سوال پر محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ ’یہ جگہ اب ایک کھلی جیل بنا دی گئی ہے۔ یہاں پر سکیورٹی فورسز کی بڑی تعداد میں اضافی تعیناتی کی گئی ہے۔ حتیٰ کہ ہم سے اختلاف رائے کا حق بھی چھین لیا گیا ہے۔ ’ہمیں جو خاص آئینی حیثیت دی گئی تھی یا اب بھی اگر ہے تو یہ کوئی تحفہ نہیں بلکہ اسی ملک کی پارلیمان نے ہمیں آئینی ضمانت دی تھی۔ یہ جموں و کشمیر کو فلسطین کی غزہ پٹی کی طرح بنانا چاہتے ہیں۔ یہ کشمیر کے ساتھ وہ کرنا چاہتے ہیں جو اسرائیل فلسطین کے ساتھ کر رہا ہے لیکن یہ کامیاب نہیں ہوں گے۔ انھوں نے ہمیں دیوار کے ساتھ لگا دیا ہے۔ میرے خیال میں صرف جموں و کشمیر کا ہی نہیں بلکہ پورے ملک کا مستقبل تاریک ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈین حکومت اپنے اس اقدام سے نہ صرف انڈیا کے مسلمانوں کو مزید تنہا کر دے گی بلکہ انھیں خوفزدہ بھی کر دے گی اور اسے ایک تنبیہ کے طور پر استعمال کیا جائے گا کہ ان کے احکامات کو مانیں اور اگر کوئی اختلاف کرے گا تو اس کو سرعام ننگا کر دیا جائے گا یا اس کے وقار کو مجروح کیا جائے گا۔ ’جموں و کشمیر صرف مسلم اکثریتی ریاست تھی اور اس جموں و کشمیر سے بھی آغاز ہوگیا ہے اور انھوں نے اس عمل پر کام شروع کر دیا ہے کہ انڈیا میں رہنے والے مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری قرار دے دیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب ایک مسلم اکثریتی ریاست کے عوام کو اختلاف رائے کا حق نہیں ملے گا تو ’میں نہیں جانتی کہ انڈیا میں رہنے والے مسلمان کیا کریں گے کیونکہ وہ ہم سے بھی زیادہ بےیارومددگار ہیں۔ میرے خیال میں ان (حکومت) کا ارادہ مسلمانوں سے پاک انڈیا بنانے کا ہے۔ جموں و کشمیر نے مختلف شرائط پر انڈیا کا ساتھ دیا تھا اور اس مرتبہ انھیں ختم کر دیا گیا ہے۔ جن بوتل سے باہر آچکا ہے اور کچھ عرصہ بعد انھیں یہ نہیں علم ہوگا کہ اسے واپس بوتل میں کیسے بند کریں اور اس کا احساس انھیں کچھ عرصہ بعد ہوگا۔`

اس سوال کے جواب میں کہ مستقبل میں کشمیری قیادت کا کردار کیا ہوگا؟ محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت ہر اس ادارے سے مایوس ہیں جس پر انھیں اس ملک کی اکثریت کی خواہشات اور ارادوں کے خلاف یقین تھا، لیکن کشمیری قیادت اس کے خلاف جد وجہد جاری رکھے گی۔ ’اس بارے میں سوچنا بھی کہ ہمیں کیا کرنا ہے قبل از وقت ہے، سوائے اس کے کہ ہمیں احساس ہو کہ ہماری ریاست کے تمام شراکت دار، تمام سیاسی جماعتیں، تمام مذہبی جماعتیں اور دیگر تنظیمیوں کو متحد ہونا ہے اور ایک ساتھ اس کے خلاف لڑنا ہے۔ اس اقدام نے ’کشمیر کا معاملہ مزید الجھا دیا ہے اس اب اس کا حل مشکل دکھائی دیتا ہے، اس واقعہ نے عالمی برادری کو بھی یہ جاننے کا ایک موقع دیا ہے کہ یہاں کیا ہو رہا ہے کیونکہ آئینی تعلق ناجائز قبضہ میں تبدیل ہو گیا ہے۔ ہم جدوجہد کریں گے۔‘