کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ: کیا ہونے جا رہا ہے؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

بھارت کے دستور کی دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کے تحت ریاستِ جموں و کشمیر کو جو خصوصی حیثیت حاصل ہے، وہ بھارت کی پارلیمنٹ کی کسی قرارداد سے ختم نہیں ہوسکتی۔ اس کی تصریح خود دستور کی دفعہ 370 میں موجود ہے، جس میں قرار دیا گیا ہے کہ بھارت کا صدر اسے تبھی ختم کرسکے گا، جب ریاستِ جموں و کشمیر کی دستور ساز اسمبلی اسے اس کی سفارش کرے گی۔

"ریاستِ جموں و کشمیر کی دستور ساز اسمبلی" کے نام سے جو ٹوپی ڈراما بھارت نے کیا، اس کا اختتام 1957ء میں یوں ہوا کہ اس نام نہاد دستور ساز اسمبلی نے ریاست کے لیے دستور بنا چکنے کے بعد خود کو تحلیل کر دیا اور تحلیل سے قبل بھارت کے صدر کو دفعہ 370 کے خاتمے کی سفارش نہیں کی۔ چنانچہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے 2015ء میں فیصلہ دیا اور بھارت کی سپریم کورٹ نے بھی 2018ء میں اس فیصلے کی تائید کی کہ دفعہ 370 عملاً مستقل حیثیت حاصل کرچکی ہے اور اب اسے ختم نہیں کیا جاسکتا۔

اس نام نہاد دستور ساز اسمبلی نے جموں و کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ بھی قرار دیا تھا۔ اس پر 1957ء میں ہی پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں آواز اٹھائی تو سلامتی کونسل نے قرارداد نمبر 122 کے تحت صراحتاً اعلان کیا کہ اس اسمبلی کے اس اقدام سے ریاستِ جموں و کشمیر کی حیثیت تبدیل نہیں ہوتی، نہ ہی یہ اس استصوابِ راے کا بدل ہے جس کا اعلان اقوامِ متحدہ نے 1948ء، 1949ء اور 1951ء میں کیا تھا۔

اب بھارت کے دستوری قانون کی رو سے پوزیشن یہ ہے کہ اگر بی جے پی کی حکومت واقعی بھارتی دستور کی دفعات 370 اور 35 اے کو منسوخ کرنا چاہتی ہے تو یہ کام قرارداد کے ذریعے نہیں بلکہ دستوری ترمیم کے ذریعے ہی ممکن ہوسکے گا، اگرچہ اس دستوری ترمیم پر بھی سوال اٹھایا جاسکتا ہے کیونکہ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلوں کی رو سے دستور میں ترمیم کے لیے پارلیمنٹ کا اختیار مطلق نہیں ہے بلکہ کئی قیود کے ساتھ مقید ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   آئی ایم ایف کیاچاہتا ہے؟ محمد عنصر عثمانی

تاہم بین الاقوامی قانون کی رو سے پوزیشن یہ ہے کہ اگر واقعی بھارت کے دستور میں ترمیم ہوتی ہے جس کی رو سے دفعات 370 اور 35 اے منسوخ کی جاتی ہیں اور پھر بھارت کی سپریم کورٹ اس ترمیم کو جائز و نافذ بھی مان لیتی ہے، تب بھی ریاستِ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں بن سکتا، جب تک وہاں کے لوگوں سے آزادانہ استصوابِ راے نہ کیا جائے، جیسا کہ 1957ء کی قرارداد نمبر 122 میں تصریح کی گئی ہے۔

یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ بھارت کے دستور کی دفعہ 370 کی طرز پر پاکستان نے آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کےلیے دستور میں خصوصی دفعہ کیوں اب تک نہیں بنائی؟ اس پر بہت بحث کی جاسکتی ہے لیکن حکومتِ پاکستان کا بالعموم یہ مؤقف رہا ہے کہ اس سے ریاستِ جموں و کشمیر کی بطورِ ایک اکائی وحدت کا تصور پارہ پارہ ہوجاتا ہے اور پوری ریاست میں استصوابِ راے کا اصولی مؤقف کمزور ہوجاتا ہے۔

اس موڑ پر یہ سوال زیادہ اہم ہوجاتا ہے کہ اگر اب اس موقع پر بھارت کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پاکستان نے آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے باقاعدہ انضمام کا اعلان کیا تو کیا اس طرح ریاستِ جموں و کشمیر کی تقسیم کا راستہ ہموار نہیں ہوجائے گا؟ اس لیے دستوری تبدیلی سے قبل پاکستان کو ایسے کسی بھی اقدام سے قبل مسئلے کے ہر پہلو پر غور کرنا ہوگا۔ البتہ بین الاقوامی سطح پر اسے بھرپور آواز اٹھانی چاہیے جیسے اس نے 1957ء میں اٹھائی تھی۔

تاہم اگر واقعی پاکستان نے بھی ایسی کوئی دستوری ترمیم کی تو کیا واقعی اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ٹرمپ کی ثالثی کے نتیجے میں یہ ہونے جا رہا ہے کہ لداخ بھارت کے پاس رہے، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان پاکستان کے پاس رہیں اور سری نگر کی وادی خود مختار ہوجائے؟

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.