اور ہماری شہ رگ کٹ گئی - محمد عاصم حفیظ

گزشتہ دور حکومت میں بھارتی وزیر اعظم مودی کے پاس بھاری اکثریت نہیں تھی اس لئے وہ خواہش کے باوجود کشمیر کے حوالے سے کوئی بڑا ایڈونچر نہ کر سکا ۔ پاکستان میں حکومت تبدیلی اور بھارت الیکشن کے بعد کشمیر کے حوالے سے پاکستانی پالیسی کیا رہی اور کیا ہوتا رہا، اس کا جائزہ لینے سے آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ بھارت کو کشمیر کے بارے میں اتنا بڑا فیصلہ کرنے کی جرات کیوں ہوئی۔ کیونکر بھارتی پالیسی سازوں نے یہ سمجھ لیا کہ اب پاکستان مسئلہ کشمیر سے کافی حد تک پیچھے ہٹ چکا ہے، بھارت کے ساتھ تعلقات اس کی مجبوری ہیں اور اب پاکستان کشمیر کے حوالے سے کچھ بھی کرنے سے باز رہے گا۔ ذرا جائزہ لیتے ہیں

وزیراعظم عمران خان نے وزیر اعظم بنتے ہی مودی کو خط لکھا۔ جس پر سرد مہری کا اظہار کیا گیا۔ اس کے باوجود مذاکرات کی بات کر دی گئی جس کی بھارتیوں کی جانب سے باقاعدہ تردید بھی کی گئی۔ الیکشن میں مودی کی جیت کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔ مودی کی جیت کو مسئلہ کشمیر کا حل قرار دیا۔ بھارتی کرکٹ ٹیم کی جیت پر مبارکبادیں دیں۔ نوجوت سدھو کو حلف برداری کی تقریب میں بلا کر آرمی چیف کے قریب ہونے، پیار کی جھپی ڈلوائی گئی۔ رنجیت سنگھ کا مجسمہ نصب کیا گیا جس کا مقصد بھارت میں پاکستان کا مثبت تاثر پیدا کرنا قرار دیا گیا۔ ہندو مندروں کی بحالی کے لیے اربوں کے فنڈز جاری کئے اس سلسلے میں سیالکوٹ میں مندر کا باقاعدہ افتتاح بھی ہو چکا۔ کرتارپور کوریڈور کے لیے ترلے کیے۔ پوری پاکستانی قیادت اس تقریب میں شریک ہوئی جسے بھارت نے اپنی خوشامد سمجھ لیا۔ بار بار مذاکرات ملتوی کرنے کے باوجود پاکستان کی جانب سے مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔ وزیر اعظم کی جانب سے یہ بات کی گئی کہ وہ بار بار بھارتی وزیر اعظم کو فون کر رہے ہیں لیکن رابطہ نہیں ہو سکا۔ ملکی تاریخ کا سخت ترین جہادی تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا۔ حافظ سعید اور دیگر کو نظر بند کرنے کی بجائے پہلی مرتبہ باقاعدہ دہشت گردی کے مقدمات میں گرفتار کیا گیا۔ علی امین گنڈا پور جیسے بندے کو پہلے کشمیر کمیٹی کا سربراہ اور پھر امور کشمیر کا وزیر بنا کر غیر سنجیدگی کا ثبوت دیاگیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر کا موجودہ المیہ: ہمارے پاس کیا آپشن ہیں؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

مدارس کے خلاف شکنجہ کسا گیا ہے اورعالمی سطح پر یقین دہانیاں کرا دی گئی ہیں کہ ان کا نصاب وغیر ہ دیا جائے گا۔ سلامتی کونسل میں بھارت کو ووٹ دیا گیا۔ بھارتی حملے کے دوران گرفتار ہونیوالے پائلٹ ابھی نندن کو دو دن میں واپس بھیج دیا۔ پاکستان نے معمولی عالمی پریشر پر ذرا سا حکم ہوا تو بھارت کے لیے فضائی روٹ کھول دیے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کی بات کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی اور یوں تاثر دیا گیا کہ جیسے اب مسئلہ کشمیر حل ہونے کو ہے، اور ہماری ساری امید امریکی صدر سے وابستہ ہے۔ ہم نے تو یہ سب کر دکھایا لیکن بھارت ہمارے ہر ہر اقدام کو کمزور ی سمجھتا رہا۔

سب کچھ تو کر دیکھایا۔ لیکن انہیں اب بھی انہیں ترس نہ آیا۔ کشمیر کی حیثیت بدل دی۔ ہم اتنے بے توقیر تو کبھی نہ تھے۔ انڈیا کو یہ سب کرنے کی ہمت کیوں ہوئی؟ اس نے ہمیں کیوں اتنا کمزور اور بے توقیر سمجھا۔ دراصل ہم سیاست میں اتنے مصروف تھے۔ اندرونی سیاست میں، گرفتاریوں، جلسوں، گرما گرم بیانات اور الزام تراشیوں میں۔ کشمیر کے حالات پر اور کنٹرول لائن پر نظر رکھنے کے بجائے سائبر ٹیمیں بنا کر سیاسی ٹرینڈز چلوا رہے تھے۔ انہیں یقین ہو گیا کہ اب پاکستانی صرف ٹوئٹر پر جنگ لڑ سکتے ہیں۔ ان کی توجہ اب دفاع پر نہیں صرف آپس کی لڑائیوں پر ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ ہم کسی کو مورد الزام ٹھہرا دیں۔ کسی کی حب وطنی پر شک کریں۔ ایک ایسا ملک جس حکومت اور اپوزیشن باہم دست و گریبان ہو۔ ہر کوئی ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہا ہو۔ ادارے ویڈیوز جاری کر رہے ہوں یا کسی ویڈیوز کی وضاحت میں لگے ہوں۔ معیشت اس حد تک گر چکی ہو کہ سٹاک مارکیٹ 20 ہزار پوائنٹس کی تنزلی کا شکار ہو جائے۔ اہل اقتدار کے اقدامات سے ایسا لگے کہ ان کی اب ساری امید کسی بیرونی ریاست کے صدر کی ثالثی کی پیشکش ہے اور ہم ہر صورت اپنا مثبت تاثر پیش کرنے کے چکر میں یہ بھول یہ جائیں کہ بعض اوقات "لاتوں کے بھوت، باتوں سے نہیں مانتے "۔ کشمیر پر بات کرنے والی ہر آواز کو عالمی دباو پر خاموش کرا دیا گیا ہو حتی کہ ہمارا نام نہاد ثالث کشمیر کے لیے بات کرنے والے ایک رہنما کی گرفتاری کو اپنے دباو کا نتیجہ اور کامیابی قرار دے۔ اس کے دشمن جرات مند ہو ہی جاتے ہیں، وہ اپنی من مرضی کرتے ہیں کوئی بھی ان کے لیے بولنے والا نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں:   مجرمانہ خاموشی کیوں؟ - شہباز رشید بہورو

اب پچھتانا کیا؟ ٹرمپ سے امیدیں لگانے والوں کو 71 یاد رکھنا چاہیے، جب امریکی بحری بیڑا نہ آنا تھا نہ آ سکا۔
الوداع کشمیریو! ہم مصروف تھے ہم مصروف ہیں۔ تمہارا اللہ حافظ