کشمیر، آگے کیا ہو سکتا ہے؟ عمیر فاروق

کشمیر ایک بار پھر لہو لہو ہوتا نظر آتا ہے۔ بھارتی تیاریاں یہی اشارہ دیتی ہیں کہ وہ وادی کو خون سے ڈبونے کو پھرتا ہے۔ لائن آف کنٹرول پہ پاکستان سے کشیدگی کا مقصد یہ نظر آتا ہے کہ کسی پاکستانی جواب کو جنگجویانہ رویہ ثابت کرسکے۔ یہ عین اس کے بعد ہوا جب دورہ امریکہ میں ٹرمپ نے عمران کو بتایا کہ وہ مودی کے مطالبہ پہ کشمیر میں تصفیہ کے لیے آمادہ ہے۔ کیا ہونے جارہا ہے اور کشمیر کی کیا تصویر بنتی نظر آ رہی ہے انڈیا اور امریکہ اندر سے کیا چاہتے ہیں؟ اس پہ اندازوں اور قیافوں کا ایک سیلاب ہے جو تھمنے میں ہی نہیں آتا۔

زیادہ تر یہ خیال کیا جارہا ہے کہ نوے کی دہائی کا خود مختار کشمیر کا آپشن بروئے کار لایا جائے گا۔ جن دوستوں کو اب یہ آپشن اور اس کا پس منظر یاد نہیں، ان کے لیے عرض ہے کہ تب بھی امریکی ثالثی یا ایما پہ نواز واجپائی ملاقات میں طے پایا تھا کہ گلگت بلتستان پاکستان کو جموں و لداخ انڈیا کو مل جائے اور وادی کشمیر کے دونوں حصوں کو متحد کر کے آزاد کر دیا جائے۔ یہ ون ون صورتحال ہوتی دونوں ملکوں کے لیے اور کوئی بھی ناکامی یا فتح کا دعوی نہ کرسکتا۔ وادی کے آئین میں ہوتا کہ وہ انڈیا یا پاکستان میں کسی کے ساتھ شامل نہ ہو۔ اس پہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ بھی تیار تھی، ان کا خیال تھا کہ وادی کی غیرجانبداری کی ضمانت یکساں تعداد میں پاکستانی اور انڈین فوج کی وادی میں موجودگی کا مطالبہ انڈیا کی طرف سے آئے گا اور وہ اعتراض نہ کریں گے۔

اس پہ اعتراض صرف چین کو تھا۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ بالاخر وادی میں امریکی اپنی فوج تعینات کریں گے اور اسے اپنا مستقل فوجی اڈا بنا لیں گے۔ چینی خدشہ بالاخر درست ثابت ہوا، جب افغان طالبان نے ۱۹۹۶ء کے بظاہر کامیاب دورہ امریکہ کے بعد بھی جہاد کو چین تک پھیلانے سے انکار کر دیا اور تھرڈ آپشن امریکی فوجی تعیناتی کی طرف مڑنے لگی تو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ معترض ہوئی۔ تبھی سے نواز اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات میں گہری دراڑ پڑ گئی جو پھیلتی گئی، کیونکہ امریکی نواز سے خوش ہوگئے۔ تبھی سے پاکستان میں ان جمہوری دانشوروں کی فیکٹری قائم ہوئی جن کا سول سپرمیسی کا مطالبہ خارجہ تعلقات کو نوازشریف یا جمہوریت کے ہاتھ میں دینے تک محدود ہے۔ بعد میں جو ہوا وہ تاریخ ہے، جس کی ایک کڑی کو دوسری سے الگ کرکے دیکھنا ناممکن ہے۔

خیر آج کی طرف آتے ہیں۔ کیا یہی دوبارہ ہونے جا رہا ہے؟ کیونکہ آج بھی امریکہ افغانستان سے مایوس ہو کر نکل رہا ہے تو امریکی فوج شاید تھرڈ آپشن کے خودمختار کشمیر کا رخ کرے؟ اور جہاد کو چین تک پھیلانا مستقل امریکی سٹریٹیجی کا حصہ ہے۔

جواب شاید نہیں میں کیونکہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ امریکہ کو کوئی ایسا موقع دینے پہ روس بھی انڈیا کے خلاف ہوجائے گا، جو انڈین ہرگز نہیں چاہتے۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ اب امریکہ چین کو اپنا تجارتی حریف اور سپر پاورز کی مجموعی سپرمیسی کے مقابلہ میں شریک تو ضرور سمجھتا ہے اور اپنی برتری قائم رکھنے کے لیے اسے کمزور کرنے کا متمنی ہے لیکن اسے فوری سیاسی اور فوجی خطرہ نہیں گردانتا جبکہ روس کو وہ فوری سیاسی اور فوجی خطرہ گردانتا ہے جو یورپ سے لیکر ترکی اور شام تک ہر جگہ امریکہ سے کامیاب پنجہ آزمائی کر رہا ہے۔ تیسرا امر یہ کہ اس دور میں امریکی فوجی تعیناتی کا آپشن بند دروازوں کی بات تھی جس پہ صفائی سے مثبت چہرے کے ساتھ عمل ہوسکتا تھا لیکن اب یہ بات نکل گئی ہے اور نہ صرف پریس بلکہ عوام بھی واقف ہے تو اس پہ عمل کرنا بدنامی کا باعث ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   اور پاکستان ٹوٹ گیا - طلعت نفیس

یقیناً حالات کوئی نیا رخ ہی اختیار کریں گے جس کا صرف قیافہ ہی لگایا جا سکتا ہے۔ آج صورت حال کے تقاضے بھی کل سے مختلف ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کون کس جگہ کھڑا ہے؟ اس کے مفادات کا تقاضا کیا ہے اور وہ کیا رخ اختیار کرسکتا ہے؟ صرف اسی طرح ہم ممکنہ صورتحال کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے تو چین میں جہاد پھیلانا اس کی طویل المدت پالیسی کا حصہ تو ضرور رہے گا لیکن اب وہ فوری خطرہ روس کو سمجھ رہا ہے اور اس کی ایک اضافی وجہ یہ بھی ہے کہ جہاں چین اپنا اثر ایشیا اور افریقہ تک پھیلا رہا ہے وہاں روس براہ راست یورپ میں اپنا اثر پھیلانے کا متمنی ہے جو امریکہ اپنی طاقت کے قلعے کے طور پہ دیکھتا ہے۔ اسی لیے روس کے بارے میں اس کا رویہ زیادہ سخت ہے اور وہ روس اور ایران سے انڈیا کے دور نہ ہونے پہ مایوس اور برافروختہ ہے۔ پاکستان کے قریب آنے کی حالیہ کوشش اسی بھارتی رویہ کے جواب میں ہے۔ اس زاویہ سے امریکہ کا کشمیر کے بارے میں رویہ نیوٹرل ہونے کا زیادہ امکان ہے۔ نیز امریکی یہ بھی سمجھ چکے ہیں کہ انڈیا کا چین مخالف ہونا ان کی کسی عنایت کا نتیجہ نہ تھا بلکہ پاکستان کی مخالفت اس انڈین رویہ کے پیچھے تھی، کیونکہ ان کے مطالبہ پہ انڈیا نے روس اور ایران سے دوری اختیار کرنے سے انکار کردیا اور ویسے بھی بھارت ساٹھ کی دہائی سے تبت کے معاملے پہ چین کی مخالفت کرتا آیا ہے، تو اب بھی چین میں جہاد پھیلانے کے لیے اپنا بارڈر استعمال ہونے دینے پہ بالاخر رضامند ہو ہی جائے گا۔ امریکہ کے لیے ایک مسئلہ اور بھی ہے۔ روس براستہ پاکستان بحیرہ عرب کی طرف بھی بڑھتا دکھائی دیتا ہے جبکہ افغانستان کے خراب حالات کی وجہ سے امریکہ جوابی طور پہ وسطی ایشیا میں داخل نہ ہوسکا۔ اب بھی اگر افغانستان کے حالات بدستور خراب ہی رہتے ہیں اور وہ براستہ سی پیک وسطی ایشیا تک پہنچنا چاہتا ہے تو گلگت بلتستان سے گزرنا ہوگا۔ اس روٹ کو استعمال کرنا کشمیر پہ پاکستانی حق پر امریکی اثبات کی مہر ثبت کردے گا جو انڈیا کے لیے بہت پریشان کن منظر ہوگا۔

جہاں تک انڈیا کا تعلق ہے تو وہ افغانستان سے امریکی فوجی کے بعد کی صورتحال کا سوچ کے پریشان ہے، کیونکہ کشمیری مجاہدین کے افغان طالبان سے براہ راست تعلقات بھی ہیں اور پاکستان جہاں کشمیر کے ضمن میں انڈیا پہ براہ راست سفارتی دباؤ ڈالے گا وہاں بالواسطہ طور پہ افغان طالبان کو کشمیری مجاہدین کی مدد کرنے میں بالواسطہ سہولت کاری بھی کرسکتا ہے تو صورت حال اس کے قابو سے باہر بھی ہوسکتی ہے۔ شاید یہی وہ وجہ تھی جس کا سوچ کر مودی نے ٹرمپ کو ثالثی کا کہا تھا۔ فی الوقت اس پیشکش کی خبر پہ انڈین پریس میں سخت ردعمل آیا ہے، لیکن آگے چل کر شاید یہ سختی قائم نہ رہے اور وہ کسی حل کی طرف دیکھنے پہ نرم ردعمل دیں۔ انڈیا کا یہ بھی مسئلہ ہے کہ اگر وہ امریکی ناراضی کی قیمت پہ روس اور ایران سے تعلقات قائم رکھ بھی لیتے ہیں تو روس اور ایران کشمیر کے معاملہ میں اس کی کوئی مدد کرنے سے قاصر ہیں جبکہ ہر آنے والا دن روس کو پاکستان کے مزید قریب لائے گا کیونکہ یہ روس کی بھی ضرورت ہے تو اس صورت میں انڈیا کو کیا فائدہ؟ جبکہ امریکہ بہرحال کشمیر کے معاملہ پہ اثرانداز ہوسکتا ہے اور امریکی ناراضی کی صورت میں کشمیر کی تحریک کو طاقت سے کچلنا عالمی پریس میں انڈیا کو بہت بدنام کرے گا۔ ان سب کو دیکھتے لگتا ہے کہ انڈیا بالاخر امریکہ کو اس مسئلہ کے حل کے لیے شامل کرنے پہ رضامند ہوجائے گا اور اس صورت میں امریکی ضمانت پہ اس سے کوئی سودے بازی کرلے گا۔ مثلاً انڈیا اس ضمن میں فلاں رعایت دینے کو تیار ہے بشرطیکہ امریکہ روس اور ایران سے اس کے تعلقات پہ معترض نہ ہو اور پاکستان کے رویہ کے ضمن میں کوئی گارنٹی دے۔ انڈیا کا چیلنج اس سے کہیں زیادہ بڑا ہے جتنا ہم یہاں بیٹھ کر ادراک کر رہے ہیں۔ وہ اس سہانے خواب سے باہر آچُکے ہیں کہ صرف ان کی مارکیٹ کا سائز ہی اتنا بڑا ہے کہ انہیں کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ اگر وہ امریکی ایماء پہ روس اور ایران کی مخالفت پہ گامزن ہوتے ہیں تو خطے میں تنہائی اور دشمنی کا خطرہ اور اگر امریکہ کو ناراض کرکے تعلقات قائم کرتے ہیں تو امریکی مخالفت اپنی جگہ لیکن روس ایران اور امریکہ پاکستان سے پھر بھی قریبی تعلقات قائم کرنے پہ مجبور، محض پاکستان کی جیو سٹریٹیجک پوزیشن کے باعث جو اس کی نیوکلیئر پاور ہونے کے باعث اپنا مستحکم ہونا ثابت کرچکی ہے۔ گھوم گھام کے درمیانی حل یہی بچتا ہے کہ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پہ کوئی کمپرومائز کرکے بشمول امریکہ سب سے تعلقات قائم رکھے جائیں اور اس کمپرومائز کے عوض کچھ حاصل کرلیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   بحران ھی بحران ! زرین تارڑ

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو صورت حال واضح ہے۔ البتہ یہ عین ممکن ہے کہ تھرڈ آپشن کی صورت میں اب پاکستان اس پہ رضامند نہ ہو کہ خودمختار کشمیر کی غیر جانبداری کی ضمانت کے طور پہ کشمیر فوج نہ بنائے اور بیک وقت پاکستانی اور انڈین فوج وہاں تعینات ہو۔ پاکستان اس کے برعکس مطالبہ بھی کرسکتا ہے کہ کشمیر کو کسی غیر ملکی فوج سے پاک اور آزاد ہونا چاہیے۔ نیز لداخ اور جموں کے معاملہ پہ پاکستان کے کمپرومائز کرنے کا بھی امکان ہے۔

اس تمام معاملہ میں ایک ڈارک ہارس بھی ہے جو عموماً اپنی اپنی خاموشی کی وجہ سے نظرانداز ہوتا آیا یعنی چین، جبکہ چین ایک دو بار یہ واضح پالیسی بیان بھی دے چکا ہے کہ وہ کشمیر کے معاملہ کا فریق ہے کیونکہ اس کا لداخ پہ دعوی ہے جبکہ چین اور پاکستان کے درمیان یہ معاہدہ موجود ہے کہ جب بھی کشمیر کا مسئلہ حل ہوا تو چین اور پاکستان بیٹھ کر لداخ کا بارڈر آپس میں طے کر لیں گے۔ وہ بھی درمیان میں کود سکتا ہے، اگرچہ اس کا امکان بہت کم ہے لیکن معدوم ہرگز نہیں۔

بہرحال لگتا یہی ہے کہ کشمیر پہ جب بھی کسی ایسے مذاکرات کا آغاز ہوا تو بات تھرڈ آپشن کی طرف ہی جائے گی جس کی چیدہ چیدہ نکات عرض کیے لیکن ابھی بہت کچھ مائع حالت میں ہے، جو جب تک ٹھوس شکل اختیار نہیں کرلیتا قیاس کے گھوڑے زیادہ دور دوڑانے کا بھی فائدہ نہیں۔ دیکھتے ہیں کہ خطے کی صورت حال کس کروٹ بیٹھتی ہے۔ صورتحال کو متعین کرنے والے عوامل پہ ہی بحث ممکن تھی جو کر لی۔ جو بھی صورتحال بنے، فی الحال کشمیریوں پہ انڈیا کی طرف سے ظلم کا کوہ گراں ہی ٹوٹتا نظر آتا ہے۔