وائٹ ہاؤس جانے والے پاکستانی صحافی کون تھے؟ معوذ اسعد صدیقی

وزیراعظم عمران خان کے دورہ واشنگٹن کے پس منظر میں گزشتہ دنوں رؤف کلاسرا کے پروگرام میں ساتھی اینکر عامر متین نے وائٹ ہاؤس میں جانے والے پاکستانی صحافیو ں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ نان پروفیشنل صحافی گئے اور ان کے سوالات کی وجہ سے پاکستان کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ انھوں نے کہا کہ اس سے قبل پاکستان سے نامور صحافی جاتے تھے اور اَن کے سوالات بھی ٹھیک ہوتے تھے۔

عامر متین کی اس بات پر پاکستان میں تو زیادہ توجہ تو نہیں دی گئی، مگر امریکہ میں کچھ حضرات جو بے چارے بغیر کسی مستند میڈیا ہاؤس کی نمائندگی کے، اپنے آپ کو صحافی کہلوانے پر مصر ہیں، اور اس میں ایک لحاظ سے نفسیاتی مریض بن چکے ہیں، وہ اب تک اس ویڈیو کلپ کو پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں۔

عامر متین سینئر صحافی ہیں، اس کے باوجود پروگرام میں ان کی پہچان رؤف کلاسرا کی مرہون منت ہے۔ انھیں چاہیے تھا کہ اپنی برادری کے حوالے سے ایسی بات کرتے ہوئے تصدیق کر لیتے۔

اوّل تو یہ کہ وائٹ ہاؤس جانے والے تمام صحافی مستند اداروں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں ڈان کے انور اقبال پاکستان کے واحد صحافی ہیں جس نے امریکی صدر کا ون ٹو ون انٹرویو کیا۔ دی نیوز کے واجد سید بھی اُس گروپ کا حصہ تھے، جن کا ریفرنس امریکہ میں پاکستان کے حوالے سے چھپنے والی چار کتابوں میں ہے۔ جنگ / جیو کے عظیم ایم میاں امریکہ میں پاکستانی صحافت کی پہچان ہیں، اور آپ پانچ امریکی صدور سے براہ راست سوال جواب کرتے رہے ہیں۔ آج پاکستان کشمیر کے حوالے جس کامیابی کا ذکر کر رہا ہے، وہ ایشو ہی میاں عظیم کے سوال سے کھڑا ہوا، ورنہ اس دورے میں کشمیر کا ذکر ہی نہیں تھا۔ اے آر وائی کے جہانزیب سینئر صحافی ہیں اور اکثر وائٹ ہاؤس کی ڈیلی بریفنگ میں ان کے سوالات کی وجہ سے بڑی خبریں بنی ہیں۔

طیبہ ضیا چیمہ کا نام بھی کسی تعارف کا محتاج نہیں، بہت سے لوگ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حوالے سے اٹھائے ہوئے اُ ن کے سوال پر بہت ناراض نظر آتے ہیں، جبکہ وزیراعظم سے یہ سوال امریکی رائٹ ونگ کے نمائندہ و معروف چینل فاکس نے بھی کیا تھا۔ کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کا اور وزیراعظم عمران خان نے اپنی انتخابی مہم میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا ذکر کیا تھا۔

ان کے علاوہ دنیا نیوز واشنگٹن کے نمائندے انٹرنیشنل ریلیشن میں ماسٹر کی ڈگری رکھتے ہیں۔ یوسف چوہدری جو کہ پانچ سال سے واشنگٹن میں صحافت کر رہے ہیں اور کئی بریکنگ نیوز دے چکے ہیں۔ 92 چینل کے خرم شہزاد امریکہ کے تعلیم یافتہ ہیں۔ دنیا نیوز اور اب تک کے لیے بھی نمائندگی کر چکے ہیں۔ گزشتہ دس سال سے واشنگٹن کو کور کررہے ہیں۔ امریکہ میں پاکستانی صحافیوں کی واحد نمائندہ تنظیم کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ خرم نے بلوچستان میں انڈیا کی مداخلت کے حوالے سے سوال کیا تھا جو عامر متین صاحب کو پسند نہں آیا۔ متین حیدر بھی اس گروپ کا حصہ تھے جو سینئر صحافی ہیں اور پاکستان سے تشریف لائے تھے۔ پاکستان سے ہی آئےہوئے سینئر صحافی اور دوست جو بائیس سال سے صحافت کر رہے ہیں، اور پارلیمنٹ کے صحافیوں کی تنظیم کے صدر بہزاد سلیمی بھی صحافیوں کے اس گلدستے کا حصہ تھے۔

فون پر اپنے چینل چلانے والے تڑپتے رہیں گے، اور شوق کا بھی کوئی مول نہیں، مگر وائٹ ہاؤس میں صرف مستند اداروں کے اصل صحافی جا سکتے ہیں۔ دوسری مشکل یہ بھی تھی کہ بہت سے خواہش مند افراد کے بیک گراؤنڈ چیک ہونے کے نتیجے میں پاکستانی سفارتخانے کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا۔

اب عامر متین کے اس دعوی کی طرف آتے ہیں کہ پہلے پاکستان سے صحافی آتے تھے اور وہ بہتر رپورٹنگ کرتے تھے۔ جناب تب سارے صھافی حکومت کے خرچے پر آتے تھے اور اُن کی ترجمانی کرتے تھے۔ اکثر یہ بھی ہوتا تھا کہ آفیشل کو کسی سخت سوال سے بچانے کے لیے حکومتی خرچے پر آئے ہوئے یہ حضرات ایک دم سوال کرتے دیتے تھے۔ ایک دفعہ یو این اجلاس کے موقع پر ایک ایسے ہی صاحب سے میرا بھی ٹاکرا ہوگیا تھا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان سے سخت سوال کیا تو انھوں نے شور مچانا شروع کر دیا۔ میں نے بعد میں آکر اُن کو پکڑا اور کہا کہ تم نواز شریف حکومت کے خرچے پر آئے ہو، اور میں مین ہٹن بھی اپنے خرچے پر آتا ہوں اور کھانا بھی اپنے پیسوں سے کھاتا ہوں۔ پاکستان سے آئے ہوئے ان دوستوں کو سوال سے زیادہ آفیشلز کی خوشنودی کی فکر رہتی تھی تاکہ اگلا دورہ پکا ہو سکے۔

حکومتی خرچے پر آنے والے یہ حضرات نہ صرف مہنگے ہوٹل میں ٹھہرتے تھے بلکہ آمد و رفت کے لیے لمیوزین کی فرمائش بھی کرتے تھے جو پوری کی جاتی تھی۔ اسی لیے شاہین صہبائی نے کہا کہ سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ اس وفد میں صالح ظافر نہیں ہیں۔ ان حضرات کو رپورٹنگ کی بھاگ دوڑ سے زیادہ وزیراعظم کے ساتھ ناشتے کی فکر ہوتی تھی۔ اب اگر حکومت کے خرچے پر آنے کے بجائے امریکہ میں سال بھر فرائض انجام دینے والے افراد کو موقع مل رہا ہے تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ محنت کر حسد نہ کر۔

ویسے چلتے چلتے عامر متین صاحب یہ بھی فر ما دیں کہ پاکستان کو کس صحافی کی وجہ سے شرمندگی اٹھانی پڑی۔ ورنہ عظیم میاں کے ایک سوال پر آپ کی وزارت خارجہ سے حکمران تک، سب اچھل اچھل کر کریڈیٹ لے رہے ہیں۔ دوسرے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی پریس کانفرنس میں پاکستانی صحافیوں کی تعریف کی تھی، البتہ یہ ضرور شرمندگی کی بات ہے۔

(معوذ اسعد صدیقی دنیا نیوز امریکہ کے بیوروچیف ہیں اور وائٹ ہاؤس کی اس پریس بریفنگ میں موجود تھے)

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com