"ایک تعلق جو ادھورا رہا تھا" - راحت نسیم روحی

امی ہم آج تک کیا کرتے رہے ہیں؟ کیا ہم سراب کے پیچھے ہی دوڑتے رہے؟" سارا نے کہا تو وہ آنکھیں بند کر کے سوچنے لگی۔"زندگی کا ایک حصہ خدا کی زمین پر اس کے احسانات تلے گزارا، کیا شکر ادا کیا؟ وہ دنیاداری کے تعلق تو نبھاتی رہی، ایک اور تعلق بھی تھا۔ کیا اس کو نبھایا؟

زینب نے آنکھیں کھولیں تو لگا جیسے پورا کمرہ تیز رفتاری سے گھوم رہا ہو۔ بند کیں تو لگا جیسے چہار سو اندھیرا ہے اور وہ مہیںب گہرائیوں میں گر رہی ہوں۔ ہاتھ پاوں برف کی طرح یخ ہو رہے تھے۔ اس نے چاہا کہ اٹھ کر بیٹھ جائے، خود کو ٹٹولے، محسوس کرے۔ مگر یہ کیا اس کا تو سارا وجود اس کے لیے بوجھ سا بن گیا تھا۔ بس ایک آواز تھی جو کسی ناختم ہونے والی گونج کی طرح دل و دماغ کو بے چین کر رہی تھی۔ کیا واقعی سارہ صحیح کہہ رہی ہے؟ زینب پر سوچوں کے دریچے وا ہو گئے تھے۔ 56 سالہ زندگی اور اس زندگی کے چالیس سال! ساری عمر ایک مشین کی مانند کام کام اور بس کام۔ 16 سال کی تھی جب ابا کے گھر سے رخصت ہو کر سسرال آئی۔ شوہر کے علاوہ ساس، سسر اور وہ چار بہن بھائی تھے۔ ابا جان ایک بڑے سٹور کے مالک تھے۔ ایمانداری اور بہترین میعار کی وجہ سے بکثرت لوگ سودا سلف لینے ان کے اسٹور کا رخ کرتے۔ ابا جی خود سارا دن دو ملازموں کے ساتھ سٹور سنبھالتے۔ شام کو چھوٹا دیور کالج سے واپسی پر تھوڑی دیر ان کا ہاتھ بٹاتا تھا۔

امی جان (ساس) کی زندگی بھی اکثر عورتوں کی طرح اپنے خاندان اور محلے میں گزری۔ انہیں شوہر کے احترام، بچوں سے محبت اور ہمسایوں کے خیال کے علاوہ شاید کچھ یاد بھی نہیں تھا۔

میاں جی نے یونیورسٹی سے ماسٹرز کرنے کے بعد نا صرف اچھی جگہ ملازمت کر لی بلکہ پڑھائی کو بھی جاری رکھا۔ بڑی نند ایف اے اور چھوٹی آٹھویں میں تھی۔ ان سے بہت جلد دوستی ہو گئی۔ زینب نے گویا سسرال میں داخل ہوتے ہی اپنے دوپٹے کی گرہ کے ساتھ بندھی اماں کی نصیحتیں کھول لی تھیں۔ کتنے پیار اور چاؤ سے انہوں نے کہا تھا "بیٹا اپنی خدمت اور فرمابرداری کے ساتھ تم نے اس گھر میں جگہ بنانی ہے۔ اپنے وجود کو بھول کر ان سب کے لیے سوچنا ہے۔ پھر دیکھنا سب تمہاری کتنی عزت کریں گے۔" دن کا آغاز ہوتا تو وہ سب سے پہلے باورچی خانے میں موجود ہوتی۔ میاں جی جو اٹھتے ہی اپنی نوخیز آدھ کھلی کلی کو دیکھنا چاہتے تھے کچن سے آتی کھٹ پٹ کی آواز پر کروٹ بدل کر رہ جاتے۔ امی جان نے تو پہلے ہی کہا تھا۔ "بہو! تمہارا میاں تو نو بجے اٹھتا ہے، تم بھی آرام کر لیا کرو، بھلے سویرے نہ اٹھ آیا کرو۔ بڑی نند نے بھی بارہا کہا: میں بہن بھائیوں کا ناشتہ بنانے کی عادی ہوں آپ سارا دن کام کرتی ہیں تھک جاتی ہیں اتنی صبح نہ آیا کریں۔ آرام کر لیا کریں۔ لیکن اسے تو خدمت سے دل جیتنا تھا۔ سب کو راضی کرنا تھا۔ سب کے لیے ان کی پسند کا ناشتہ بنانا۔ اپنے میاں کے اٹھنے سے پہلے کپڑے، جوتے، تولیہ سب سامنے تیار پڑا ہوتا۔ لیکن وہ پھر بھی بہانے بہانے سے آوازیں دیتے۔ زینب انگلیوں کو مسلتے ہوئے دھیما سا احتجاج کرتی۔ امی اور ابا جی باہر بیٹھے ہیں آپ مجھے بار بار نہ بلایا کریں اچھا نہیں لگتا۔ پھر نظریں چراتے ہوئے کہتی: آپ تیار ہو جائیں میں آپ کے لیے ناشتہ لگاتی ہوں وہ مسکرا کر رہ جاتے۔ یوں ہی شب و روز کے چکر تھے اور سال بیت گئے۔

گلابی گالوں والی سارہ گویا گھر میں بہار بن کے اتری۔ کچھ اس کی من موہنی صورت اور پھر معصوم حرکتیں، سب ہی گرویدہ تھے. زینب کی مصروفیات میں ایک نیا اضافہ سارہ کی اچھے سے دیکھ بھال تھی۔ جوں جوں سارہ بڑی ہوتی گئی زینب کی زمہ داری میں اضافہ ہوتا گیا۔ سرمد اور احمد کے دنیا میں آنے سے پہلے سارہ سکول جانے لگی تھی۔ سارہ کو کلاس میں ہمیشہ پہلی پوزیشن لینی ہے۔ وہ سب سے بہترین طالبہ ہو۔ ایک نئی فکر اس کے ساتھ چمٹ چکی تھی۔ وہ اسکول کےعلاوہ گھر میں بھی اسے پڑھاتی، سب کہتے چھوٹی بچی پر اتنا بوجھ نہ ڈالو۔ لیکن اس نے تو کوئی خواب دیکھے تھے اور ان کی تعبیر کے لیے سر پٹ دوڑے جا رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   وقت کی اہمیت اور اس کا استعمال - مولانا عثمان الدین

دن کے اجالے رات کی سیاہی میں گم ہونے لگتے۔ لیکن اس کے کام نہ ختم ہوتے جب وہ سونے کے لیے بستر پر جاتی۔ شوہر کی مسکراہٹ ساری تھکاوٹ کو پرے پھینک دیتی۔ بچوں کو پرسکون سویا دیکھ کر اطمینان کی لہر دل اس کے دل میں اٹھتی۔ اور خبر ہی نہ ہوتی نیند اسے اپنی آغوش میں لے لیتی۔ وہ سگھڑ تھی، گھر ایسا صاف رکھتی کہ محلے والی مثالیں دیتیں۔ ساس ، سسر ، نند ، دیور سب ہی اس کے گن گاتے تھے۔ بچوں کی تعلیمی صورتحال بہترین تھی ان کی عادات بول چال اور لباس کو دیکھ کر سب رشک کرتے۔ یہ سوچ کر اس ساری تھکن دور ہو جاتی کہ میں اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہو رہی ہوں یہ خیال ذہن پہ اتنا حاوی تھا کہ آتی جاتی رتیں بھی اسے کچھ نہ سمجھا پاتیں۔

نند دیور سب کی شادی ہو گئی۔ ہر شخص اس کے سلیقے اور سگھڑ پن کی مثال دیتا۔ والدین اس کے بچوں کی اپنی اولاد کو مثالیں دیتے۔ گھر معاشرے بچے خاندان میں عزت، ایک مقام جس کے لیے اسے لوگ سر اٹھا کے دیکھتے۔ یہ اس کی خواہش بھی تھی اور تکمیل بھی۔ گویا زینب بی بی تم ایک کامیاب اور بہترین عورت ہو۔ اچھی ماں فرمانبردار بیوی اور سلیقہ مند بہو یہ تمغہ سینے پر سجائے اس نے سارہ کو رخصت کرتے وقت بھی اپنی ماں کی نصیحت اسے منتقل کی۔ دیکھو بیٹا! آج تمہاری ماں کو لوگ رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ میں نے خدمت سے یہ مقام بنایا ہے۔ اس عزت کے لیے اور تم لوگوں کے روشن مستقبل کے لیے میں نے اپنے آپ کو مٹا دیا۔ بار بار نصیحتوں کے باوجود اس کو طمانیت نہ مل رہی تھی۔ سارہ بہت اچھے گھرانے میں گئی تھی۔ اس کی بیٹی انجینئیر ہونے کے ساتھ ساتھ گھر کے ہر کام میں ماہر تھی۔کھانا پکانا، سلائی اس نے ہر ہنر اسے سکھایا تھا۔ سلیقہ شعاری اسے ماں سے ملی تھی۔ اسے یقین تھا اس کی بیٹی کی سب ہی بہت عزت کریں گے. ایک بار جب سارہ نے فون پر بتایا کے اس کے ساس سسر حج پر چلے گئے اور وہ شوہر کے ساتھ گھر پر اکیلی ہے۔ تو اس کے دل میں ہول اٹھنے لگے ۔ اف خدایا! میری بیٹی کیسے رہتی ہو گی۔ وہ پریشانی سے ہلکان ہو رہی تھی۔

سارہ کے ابو سے کراچی جانے کی اجازت لی اور احمد کو ساتھ لے کر اسی روز جانے کا فیصلہ کیا۔ سارے راستے میں سارہ کا چہرا نظروں کے سامنے طلوع ہوتا پھر غروب ہو جاتا۔آنکھوں کے گرد حلقے، ستا ہوا چہرہ، زینب آنکھیں بند کر کے اس کا تصور کرتی پھر مچل کر رہ جاتی۔ سارہ ماں کی اداسی میں تڑپ رہی ہو گی۔ اس کے گلے لگ کر زارو قطار روئے گی۔ بار بار اس کے ہاتھ چومے گی اس کے نہ آنے پر شکوہ کرے گی۔ تصورات کے پلندے کے ساتھ سارہ کے گھر میں داخل ہوئی تو سامنے ہی ہشاش بشاش کھلتے گلاب کی طرح سارہ نے استقبال کیا۔ کھانا کھانے کے بعد احمد تو سارہ کے شوہر کے ساتھ باہر چلا گیا جب کہ زینب جس تنہائی کی دعاگو تھی اسے مل گئی۔ اس نے اٹھ کر بے اختیار سارہ کا ماتھا چوما۔ میری بیٹی اداس ہے، گھر والے بہت یاد آتے ہوں گے۔ یہاں دل نہیں لگتا ؟

اس نے کتنے ہی سوال ایک ہی سانس میں کہہ ڈالے تھے۔ سارہ نے مسکراتے ہوئے ماں کو خود سے الگ کیا. ان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر بولی ایسی بات نہیں ہے۔ آپ لوگ ضرور یاد آتے ہیں ۔لیکن الحمداللہ میں بہت خوش ہوں۔ پتا ہے امی! اس نے ایک نظر ماں پر ڈالی اور کرسی پر بیٹھ گئی گویا نئی کہانی سنانے لگی ہو۔

زندگی کیا ہے؟ یہ تو میں یہاں آ کر سمجھی۔ مظہر اور ان کے گھر والے بہت اچھے انسان ہیں۔ ان سب نے مجھے کھلے دل سے قبول کیا۔ صبح جب میں سو کر اٹھتی ہوں تو نماز سے فارغ ہو کر قرآن کی تلاوت ہوتی ہے۔ ابا جان یعنی مظہر کے ابو روز دو آیات کی تفسیر سمجھاتے ہیں. یہاں کھانے میں بہت تکلف نہیں ہوتا۔ صفائیوں رگڑائیوں میں پورے پورے دن نہیں لگائے جاتے۔ عارضی خوشیوں کے لیے جان ہلکان نہیں کی جاتی۔ پھر بھی دیکھیں کیسی خوبصورتی اور نفاست ہے اس گھر میں ۔وہ مسکراتے ہوئے لمحہ بھر کو رکی۔ پھر لمبا سانس لے کر بولی: ایک دن جب ابا جان نے اس آیت کی تفسیر کی کہ اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کو اس لیے پیدا کیا کہ وہ اس کی عبادت کریں۔ میں تو حیران ہی رہ گئی کہ ہمیں تو پتہ ہی نہیں تھا ۔یہ قرآن سجانے کے لیے نہیں، پڑھنے سمجھنے اور عمل کے لیے بھیجا گیا تھا۔ یہی تو ہے صراط مستقیم جو ہمیں کامیابی کے راستوں سے گزارتا ہوا فلاح کی منزل تک لے جاتا ہے۔ یہی تو وہ تعلق ہے جو معبود اور عبد کے درمیان ہوتا ہے۔ اسے پہچانا جائے۔ اس کی عبادت کی جائے۔ امی جی! زندگی کا مقصد تو بہت اعلی و ارفع ہے۔ جو اس کو پا گیا، گویا اس نے سب کچھ پا لیا۔ جس کو رب مل گیا اس کو سب مل گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   وقت کی اہمیت اور اس کا استعمال - مولانا عثمان الدین

رب کو راضی کرنا ہے اس کی رضا کے لیے خود کو بدلنا ہے۔ اپنے آس پاس کے لوگوں سے محبت کرنا ان کے لیے فکر کرنا۔ نیکی اور خیر کے کاموں میں تعاون کرنا یہی زندگی ہے۔ ہر کام، ہر غرض، ہر جذبہ، ہر رشتہ بس اللہ کے لیے ہو۔ اتنا پیارا احساس ہے امی کہ میں آپ کو کیا بتاؤں۔ سارہ کے چہرے پر چمک اس کے جذبات کی عکاسی کر رہی تھی۔ وہ آج سب کچھ کہنا چاہتی تھی اس ماں سے جو اس مکمل انسان بنا کر مطمئن تھی اور اب وہ اپنے ادھورے پن کی داستان سنا رہی تھی۔" ایک تعلق جو ادھورا رہا تھا۔ " امی جی! مجھے لگا مجھ سے بڑھ کر جاہل کوئی نہیں۔ میری قراءت ٹھیک نہیں، میں الف سے سیکھ رہی ہوں۔ اس کے دماغ کے کسی کونے میں ہلچل مچ گئی تھی۔ آس پاس سب بکھرا ہوا لگ رہا تھا۔ چاروں طرف گویا بم پھٹ رہے تھے دھماکے ہوں جیسے، شور غوغا تھا۔ سارہ نے بات مکمل کی تو اس کی آنکھیں مینا برسا رہی تھیں۔ اس نے گھڑی دیکھی تو آنکھیں صاف کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس نے ماں کو آرام کرنے کا کہا اور خود درس پر چلی گئی۔ بیٹی تو چلی گئی پر سکون غارت ہوگیا۔ اسے بیٹی کا درس قرآن میں جانا، اپنے رب سے تعلق بنانا اچھا لگا۔ خوشی کا احساس سر اٹھا رہا تھا۔

دوسرے ہی لمحے اس کے دماغ کی سکرین پر ابھرا تھا۔ بولو زینب بی بی! زندگی کے 56 سال گزر گئے۔ تمہاری کمائی کا کیا ہوا؟ کیا ہوا تمہارے گھن چکر بننے کا؟ صرف بہترین ماں، فرما نبردار بیوی، سگھڑ بہو اور بس۔

آنکھوں کے راستے سب درد ابل کر باہر آرہا تھا۔ اچانک سے ایک آوازہ سنائی دیا۔ "تم نے جو مقام چاہا پا لیا پھر بے چین کیوں ہو؟" سوال ابھر ابھر کر اس کے سامنے آرہے تھے۔ ایک اور رشتہ بھی تھا ان سب سے بڑھ کر، عبد اور معبود کا، رب اور بندے کا، میں اسے کیسے بھول گئی؟ زندگی کے اتنے برس آخر کیا کیا؟ سب کے حقوق ادا کرتے کرتے اس ذات کو کیسے بھول گئی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان تھی۔ آخر اسے کیوں کر بھول گئی تھیں جس نے یہ سب کچھ دیا تھا۔ صحت، جوانی، دولت، عزت، ہمت، اولاد، محبت۔ لاکج نعمتوں سے نوازا۔ اور میں نے کیا کیا؟

روشندان سے آتی آذان کی آواز اسے سمجھا رہی تھی کہ "مہلت ابھی باقی ہے، لمحہ، مہینہ، سال کچھ معلوم نہیں اور پھر اس کے دل سے شرمسار ہوتے ہوئے آنسوؤں سے تر چہرے، رندی ہوئی آواز سے خدا سے معافی مانگی اور آنکھوں کو صاف کرتی ہوئی وضو کرنے اٹھ کھڑی ہوئی۔ زبان حال سے وہ اس وقت کہہ رہی تھی۔ لبیک اللھم لبیک۔

ٹیگز