مسئلہ کشمیر پر تین سوال - ملک جہانگیر اقبال

اگر آپ یوٹیوب یا کسی بھی سوشل میڈیا فورم پہ پاکستانی طلبہ و طالبات کی نقل کرتے ہوئے ویڈیوز دیکھیں تو وہ تمام ویڈیوز طلبہ کی اپنی بنائی ہوئی ہوتی ہیں۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ ان ویڈیوز کو بنانے والے طلبہ کا ضمیر جاگا ہوا ہوتا ہے یا یہ بہت لائق فائق ہیں؟

نہیں جناب! ایسا ہرگز نہیں ہوتا ہے۔ ان ویڈیوز میں سے اکثریت ویڈیوز آخری پرچے کی ہوتی ہیں اور انھیں بنانے کی نفسیاتی وجہ نقل کی روک تھام نہیں، بلکہ کمینہ پن ہوتا ہے کہ "ہم نے تو مزے لے لیے پر نئے آنے والوں پہ سختی ہوجائے"۔

بدقسمتی کہہ لیجیے یا ریاستی پالیسیوں کا ثمر کہ بطور قوم ہم نے ہر معاملے میں یہی رویہ رکھا ہے۔ سرکاری ادارے ہوں یا پرائیویٹ کمپنیاں انہیں چلانے والی منیجمنٹ کی سوچ اپنی مدت سے آگے کی ہوتی ہی نہیں ہے، جبکہ فطرتی کمینہ پن انھیں کامیابی سے ورغلاتا ہے کہ نظام کی ترتیب ایسی رکھو کہ نیا آنے والا ذلیل و خوار ہی ہوتا رہے، اور یہی رویہ ہمیں ریاستی ستونوں میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ مثلاً ریاست پاکستان کے تین مستند ریاستی ستون ہیں 1) عدلیہ، 2) پارلیمنٹ، 3) فوج

سب سے پہلے عدلیہ کو دیکھ لیجیے:
کیا قیام پاکستان سے اب تک ہمارا عدالتی نظام کوئی روڈ میپ تیار کرسکا ہے جس کی بنیاد پہ ہم اہداف یا کارکردگی کا تعین کرسکیں؟ 90 اور اس سے قبل کی دہائیوں کی چھانگا مانگا سیاست و نظام کو اگر پرے بھی کر دیں تو آپ دیکھیں گے کہ افتخار چوہدری کی عدالت اور ڈوگر صاحب کی عدالت اک دوجے سے 180 زاویہ پہ کھڑی دکھائی دیں گی۔ ثاقب نثار صاحب کی کیمرہ پسند اور بلند و باگ دعوؤں کی عدالت مشرق تو موجودہ چیف جسٹس صاحب کی خاموش و کام سے کام رکھنے والی عدالت مغرب میں کھڑے دکھائی دیں گی۔ کیا ہمارے پاس کوئی روڈ میپ ہے جس میں ہم اگلے دس سال دیکھ سکیں؟ نہیں جناب بالکل نہیں ہے۔

پھر آتا ہے پارلیمنٹ کا نمبر:
ماضی نظرانداز کرتے ہوئے ہم موجودہ سیاسی نظام سے ہی شروعات کریں تو تین ایسی سیاسی جماعتیں ہیں جو اگلے بیس سال تک (اگر قائم رہیں) وفاق میں حکومت بنا سکتی ہیں: 1) پیپلز پارٹی، 2) مسلم لیگ ن، 3) تحریک انصاف۔ اب آپ ان تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین سے پوچھ لیجیے کہ 2040ء میں پاکستان کو کہاں دیکھتے ہیں؟ اور جہاں دیکھتے ہیں وہاں اس مقام تک لیجانے کے لیے آپ کی 20 سالہ پالیسی کیا ہے؟ چلیں یہ بتادیں کہ دس سال بعد 2030ء میں کہاں دیکھتے ہیں یا چھوڑیں آپ محض 2025ء ویژن کا روڈمیپ دے دیں۔ یقین جانیے ان کے پاس کوئی جواب نہ ہوگا کہ یہ سب محض حکومتی مدت تک کی سوچ رکھتے ہیں۔ یہ ہنگامی رفتار سے بن جانے والے پراجیکٹس پہ رشوت / کک بیکس لیکر بنا طویل مدتی پلاننگ پراجیکٹ ترتیب دیتے ہیں، تاکہ اگلے الیکشن پوسٹر پہ اس کی تصویر لگا کر ووٹ بٹورے جا سکیں۔ پاکستان کی تاریخ میں اب تک محض دو طویل مدتی پراجیکٹ کامیاب ہوئے ہیں، اول ایٹمی منصوبہ دوم موٹر وے پراجیکٹ۔ ان کے علاوہ جتنے طویل مدتی پراجیکٹس ترتیب دیے گئے، ان کی ہر نئے آنے والی حکومت کے نام کی تختیاں تو بدلتی رہیں مگر وہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکے۔

یہ بھی پڑھیں:   ہنرمند نوجوان اور معاشرے میں ان کی اہمیت - شیراز علی

یہی حال ہمارے تیسرے ادارے فوج کا بھی ہے:
اگر ہم فوجی تاریخ دیکھیں تو اس میں نظم و ضبط تو کمال کا ملے گا، مگر طویل مدتی یکساں پالیسی کے معاملے میں ہمارا مقدس ادارہ بھی بانجھ نظر آتا ہے۔ اگر آپ مشہور فوجی ادوار کا مطالعہ کریں تو ایوب خان کی فوج الگ اور یحیٰ کی الگ دکھائی دیتی ہے۔ ضیاءالحق کی فوج الگ تو مشرف کی پالیسی یکسر مخالف دکھائی دیتی ہے۔ کیانی کا دور مریخ تو راحیل شریف کا دور وینس کا رخ لیے نظر آئے گا، جبکہ قمر باجوہ کا دور راحیل شریف کی پالیسیوں سے یکسر الٹا جاتا نظر آئے گا۔ ان تمام آرمی چیفس کی اپنی الگ ڈاکٹرائن تھی۔ کیا کوئی ایک آرمی چیف بھی اپنے سابق کی ڈاکٹرائن کو لیکر آگے بڑھا؟ نہیں جناب، جواب ندارد ہے۔

اب اصل موضوع مسئلہ کشمیر پہ آجائیں۔
قیام پاکستان سے ہی کشمیر دونوں ریاستوں کے مابین اک مسئلہ رہا ہے۔ 80 کی دہائی کے آخر میں جب کشمیریوں کی حصول آزادی کی جدوجہد میں تیزی آئی تو بطور ریاست ہم نے کشمیری بھائیوں کی بزور طاقت مدد کرنے کی پالیسی اپنائی۔ اس دوران سیاسی رسہ کشی عروج پہ تھی، لہذا کسی کو کشمیر پالیسی بدلنا یاد نہیں رہا، اور پالیسی کے تسلسل کی وجہ سے مسئلہ کشمیر عالمی میڈیا کا موضوع بنا رہا۔ اس کے بعد مارشل لاء کا دور شروع ہوا تو کشمیر پالیسی بدل کر مٹی پاؤ پالیسی بن گئی اور پھر اس کے بعد یکے بعد دیگرے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور اب تحریک انصاف کی حکومت مسئلہ کشمیر کو ستو پیو اور کھیرا کھاؤ جیسی ٹھنڈی ہومیوپیتھک پالیسی بنا کر پس پشت ڈال چکی ہیں اور جو بھی تنظیم کسی طرح کشمیری بھائیوں کی مدد کر رہی تھی، اسے مخصوص این جی اوز و تھنک ٹینکس کے پروپیگنڈے کی بدولت غیر مؤثر کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم آئین سے فٹبال کھیلیں؟چیف جسٹس

اس کا نتیجہ کیا نکلا؟
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم بطور ریاست مقبوضہ کشمیر کی تاریخ کی سخت ترین مزاحمت اور برہان وانی کی شہادت پہ سخت مؤقف اختیار کرنے میں ناکام رہے۔ اسی سے شہ پا کر بھارتی انتہاپسند حکومت کی اتنی جرات بڑھی کہ اس نے آرٹیکل 35 اے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔ واضح رہے کہ بھارتی آئین میں شامل یہ واحد شق ہے جس کی وجہ سے بھارت عالمی دنیا میں کشمیر پر اک واضح سٹینڈ لیتا ہے کہ اس نے کشمیر کی جداگانہ شناخت بحال رکھی ہوئی ہے، لہذا یہ سرے سے مسئلہ ہی نہیں ہے۔ لہذا جس دن بھارتی حکومت اسے ختم کروانے سپریم کورٹ گئی تھی، اسی دن اگر ریاست پاکستان واضح سٹینڈ لے لیتی یا پھر کشمیر کاز پہ جیب گرم کرنے والے نام نہاد تھنک ٹینکس حکومت نہیں تو اپوزیشن کو ہی اس اقدام کے خلاف سڑکوں پہ لے آتے، تو آج سرحد پار بیٹھے میرے کشمیری بھائی بہن خوف میں مبتلا نہ ہوتے۔

بھارتی حکومت اب مقبوضہ کشمیر کو فوجی چھاؤنی میں اسی طرح گھیر رہی ہے جس طرح غزہ کو اسرائیل نے گھیر رکھا ہے۔ 6 اگست کو آرٹیکل 35 اے کا سپریم کورٹ سے فیصلہ ہونا ہے۔ اگر یہ فیصلہ بھارتی حکومت کے حق میں آیا تو بھارت کشمیر کی جداگانہ شناخت ختم کر کے اس پہ اپنا مکمل آئین نافذ کر دے گا۔ 38 ہزار کے قریب نئے فوجی و نیم فوجی دستے تعینات کرنے کے بعد اب وادی میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کی تعداد 7 لاکھ ہوچکی ہے۔ مقبوضہ وادی میں ائیرفورس ہائی الرٹ اور بھارتی بحریہ کا گشت بڑھانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت بزور طاقت متوقع کشمیری احتجاج کچلنے کی طرف جائے گا، جس کا ثبوت سرچ آپریشن کے دوران شک کی بنیاد پہ 5 کشمیری نوجوانوں کی شہادت کی صورت دے دیا گیا ہے۔ متنازعہ ایل او سی کی آبادیوں پہ بھاری گولہ باری کر کے پاکستانی افواج کو متوقع احتجاج پہ کشمیریوں کا ساتھ دینے یا ان کے قتل عام پر کسی قسم کی مسلح مدد سے باز رہنے کا اشارہ دیا گیا ہے۔

اب یہاں تین سوال پیدا ہوتے ہیں۔ اس صورتحال میں ہم بطور ریاست کہاں کھڑے ہیں؟ ہماری حکومت کی کیا پالیسی ہے؟ ہماری اپوزیشن کس طرف ہے؟ یہ تینوں سوال قابل تشویش اور ان کے متوقع جوابات انتہائی مایوس کن ہیں۔