جاب انٹرویو کیسے دیں؟ عبد الغنی محمدی

جاب کی تلاش ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ اچھے بھلے قابل لوگ جاب کی تلاش اور ٹیسٹ انٹرویوز کے چکروں کی وجہ سے دل چھوڑ جاتے ہیں۔ ان کی قابلیت اپنی جگہ یقینی ہو سکتی ہے۔ مگر ٹیسٹ، انٹرویو کیسے دیا جائے؟ اس کا انھیں معلوم نہیں ہوتا، چنانچہ انھیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جاب کی تلاش میں مختلف ٹیسٹ اور ٹیسٹوں کے بعد کئی مرتبہ انٹرویو دینے کا اتفاق ہوا۔ ٹیسٹ کی تیاری کے مراحل اور مواد کی فراہمی میں پوری کوشش کرتا ہوں کہ دوسروں کے ساتھ تعاون کروں۔ انٹرویو کے حوالے سے بھی اپنے تجربات شیئر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

سب سے پہلی بات تو یہ کہ اپنے یا دوسروں کے تجربات سے سیکھنا پڑتا ہے، اور ٹیسٹ و انٹرویو کی باقاعدہ تیاری کرنا پڑتی ہے۔ ایسا نہیں کہ آپ اگر اچھے اور قابل شخص ہیں تو آپ کو ٹیسٹ، انٹرویو کی تیاری نہیں کرنا پڑے گی۔ اسی طرح آپ کی خوش قسمتی تو ہوسکتی ہے کہ آپ پہلی مرتبہ میں سلیکٹ ہوجائیں ورنہ عام طور پر اس کے لیے آپ کو مسلسل محنت کرنا پڑتی ہے اور کئی مرتبہ ان مرحلوں سے گزرنا پڑتاہے۔ اس لیے دل چھوڑنے کے بجائے ٹیسٹ، انٹرویو کی سائنس سمجھی جائے اور اس پر محنت کی جائے تاکہ آپ کی قابلیت کو اس کا حق مل سکے۔

انٹرویو میں آپ کی شخصیت اور تعلیم دوچیزیں بنیادی ہیں۔ شخصیت میں بہت سی چیزیں آتی ہیں۔ سب سے پہلے تو آپ کا دماغ حاضر ہونا چاہیے۔ انٹرویو کی بنیادی چیزیں مثلا خود کو اور مطلوبہ کاغذات کو بروقت انٹرویو کی جگہ میں پہنچانے کا اہتمام کریں۔ بعض لوگ ضروری کاغذات گھر بھول آتے ہیں۔ اور وہاں جا کر کہتے ہیں کہ ہمیں تو پتہ ہی نہیں تھا، یا ہمیں تو بتایا ہی نہیں گیا تھا کہ یہ چیزیں بھی لے کر آنی ہیں۔ آپ کی تمام اسناد، شخصی کوائف کے کا غذات، اور دیگر سرٹیفکیٹس ان سب چیزوں کو لے کر جائیں۔ اگر آپ کا کوئی مقالہ، تصنیف یا ریسرچ ورک ہے اور جاب بھی اسی نوعیت کی ہے تو اس کو بھی ساتھ لے کر جائیں، چاہے لانے کا کہاگیا ہو یا نہیں۔

اس کے بعد شخصیت میں آپ کا ظاہری حلیہ، لباس، اور ایسی کئی دیگر چیزیں ہیں۔ میرے خیال میں انٹرویو میں جانے والوں کو اتنی سینس یا ہر طرف سے یہ ہدایت کاری تو مل ہی جاتی ہے کہ وہ اچھے لباس کا انتخاب کریں۔ لباس بہت زیادہ اوور یا عجیب نہ ہو۔ رنگ بھی بہت نمایاں اور مختلف نہ ہو۔ اس سے اچھے اور برے تاثر دونوں کا برابر خطرہ ہے۔ اگر کپڑے ہوں تو واسکٹ وغیرہ کا اہتمام کریں، پینٹ کوٹ ہو تو اور بھی بہتر ہے۔ لڑکیوں کے لباس کے حوالے سے میرا کوئی تجربہ نہیں ہے۔

انٹرویو کی جگہ پر پہنچ کر واش روم جائیں، بالوں کی کنگھی چیک کریں، جوتوں کو دیکھیں زیادہ گندے ہوں تو ان کو کسی طرح صاف کریں۔ ہوسکے تو خود کو بھی دیکھ لیں، زیادہ برا دکھائی دے رہے ہوں تو خود کو ٹھیک کیجیے۔

انٹرویو کے کمرے میں جانا، نکلنا، بیٹھنا، بات چیت کرنا سبھی چیزیں بہت اہم ہوتی ہیں۔ جب جائیں تو سلام کریں، ہاتھ ملانے کی کوشش نہ کریں۔ خفیف سی مسکراہٹ آپ کے چہرے پر ہو۔ بالکل نارمل اور نیچرل رہیں۔ ہنسنا پڑ گیا ہے تو ہنسیں، کوئی مسئلہ نہیں، ایسا نہیں ہے کہ بالکل زبر دستی سیریس ہی رہنا ہے۔ بلکہ آپ کے سامنے بھی آپ کی طرح کے انسان ہی ہیں، اس لیے خوف مت کھائیں بلکہ دوستی کے موڈ میں بات چیت کریں اور پراعتماد رہیں۔ ا یسے اشارات یا حرکتیں مت کریں جن سے آپ کی پریشانی ظاہر ہوتی ہو۔

اپنے اندر سے ڈر کو ختم کریں۔ عام طور پر ڈر ہوتا ہے کہ ٹیسٹ کی تیاری کی، اتنی مشکل سے یہاں تک پہنچا، اب سلیکٹ نہ ہوا تو پھر نئے سرے سے، اسی طرح معاشی حالات اور مستقبل کا خوف بھی انسان کو ڈرا رہا ہوتا ہے۔ آپ انٹرویو میں ہی نہیں، اپنی زندگی میں یہ بات طے کرلیں کہ جب تک میں کسی اچھے مقام تک نہیں پہنچ پاتا، تب تک معاشی حالات، گھریلو پریشانیاں یا مشکلات کے ساتھ میرا کوئی تعلق نہیں۔

یہ خوف بھی دل سے نکال دیں کہ انٹرویو میں رہ گیا تو پتہ نہیں کیا ہوجائے گا۔ آپ رہ بھی گئے کچھ نہیں ہونے والا۔ اللہ تعالیٰ سے کوئی خاص جاب نہیں بلکہ عزت، عافیت اور اطمینان والا رزق مانگیں۔ اللہ پاک ضرور دیں گے، اس پر بھروسہ رکھیں۔ میرا لیکچرر کا انٹرویو تھا، اس سے قبل کئی ٹیسٹ انٹرویو دے چکا تھا۔ اس موقع پر سارا ٹیسٹ آتے ہوئے بھی میرے ہاتھ کانپ رہے تھے، صرف اس خوف سے کہ اگر یہ ٹیسٹ نہ کلیئر ہوا تو پتہ نہیں کیا ہوجانا ہے، گھر، معاشرہ، مستقبل یہ سب چیزیں ڈرا رہی تھیں، اسی طرح یہ خوف بھی تھا کہ اس کے بعد پتہ نہیں لیکچرر کی جاب کب آئیں۔ انٹرویو میں بھی کچھ ایسی ہی کیفیت تھی۔ میں انٹرویو میں رہ گیا۔ لیکن اللہ پاک نے اس سے بہتر جاب دے دی۔ا س لیےکسی خاص جاب کے بارے زیادہ فکر مند نہ ہوں کہ اسی کو حاصل کرنا ہے، بلکہ رزق کے اور بھی ذرائع ہوسکتے ہیں۔ اللہ پاک نے رزق کا وعدہ کیا ہے کسی خاص جاب کا نہیں۔

جاب کے حوالے سے یہ باتیں کہ بغیر سفارش اور پیسے کے نہیں ملتی، اس کو بھی ذہن سے نکال دیں۔ میرا اپنا تجربہ بھی ہے اور کئی دوستوں نے بھی یہی بتایا کہ ان کی جاب بغیر سفارش اور پیسے کے ہوئی ہے۔ سفارش اور پیسہ قابلیت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، اس لیے قابلیت پر توجہ دیں، ایسی فضول چیزوں اور خیالات کے پیچھے مت جائیں۔ ایسانہیں ہے کہ پیسہ اور سفارش وغیرہ بالکل نہیں چلتے، ان کا بھی کسی نہ کسی حد تک رول ہے، لیکن آپ اللہ پر بھروسہ رکھیں اور اپنی قابلیت پر توجہ دیں، آپ کی قابلیت آپ کو مزید بہتری کی طرف لے کر جائے گی، نیچے نہیں لائے گی۔

ان سب چیزوں کے بعد آپ کا علم ہے۔ علم میں ایک توخاص اس سبجیکٹ کا علم ہے جس کی جاب ہے۔ سبجیکٹ کی تیاری ٹیسٹ کے بعد انٹرویو میں بھی بہت اہم ہوتی ہے، کیونکہ ممکن ہے چیزوں کو تازہ نہ کرنے کی وجہ سے آپ فورا کسی چیز کا جواب نہ دے پائیں۔ا س لیے ٹیسٹ کی تیاری پر اکتفا نہ کریں بلکہ جونہی پتہ چلے کہ ٹیسٹ کلیئر ہوگیا ہے، دوبارہ مواد کو پڑھیں اور انٹرویو کی باقاعدہ تیاری کریں۔ مختلف سبجیکٹ کی تیاری کی تفصیلات میں تو نہیں جا سکتا، ہاں اسلامیات کے حوالے سے کسی کو بھی گائیڈ کرسکتاہوں۔

سبجیکٹ کے علاوہ ہر انٹرویو میں مطالعہ پاکستان اور ہسٹری کا علم بہت اہم ہے۔ اس کا تعلق چونکہ ہر انٹرویو کے ساتھ ہوتا ہے، اس لیے ان چیزوں کو عام حالات میں بھی زیادہ سے زیادہ پڑھیں۔ ایک انٹرویو میں مجھ سے خاندان غلاماں کے بارے میں پوچھا گیا، اس کے بارے میں کچھ نہ کچھ جانتے ہوئے بھی میں جواب اچھی طرح نہیں دے پایا۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ انٹرویو کرنے والا ہندوستان کی تاریخ میں کہیں بھی چلا جائے، یا اسلامی تاریخ میں کہیں سے بھی پوچھ لے، آپ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ہیں۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ تاریخ کا زیادہ سے زیادہ مطالعہ کیا جائے۔

کرنٹ افیئرز بہت اہم ہوتے ہیں۔ انٹرویو کی کال آجائے تو خبریں پڑھنے سننے کی عادت اگر نہ بھی ہو تو جاب کے لیے ڈال لیں۔ خبریں سننے کے بعد کچھ چیزیں جو بہت عام ہوں، ان کے بارے زیادہ گہرائی سے معلوما ت حاصل کریں۔ لیکن ان چیزوں کے بارے آپ کو اگر جواب نہیں آتا تو زیادہ پریشان مت ہوں۔ میں نے ایک انٹرویو میں سبجیکٹ کے حوالے سے جتنی چیزیں پوچھی گئیں، سب کے اچھے جواب دیے، لیکن مطالعہ پاکستان کے تین چار سوال مس ہونے پر میں پریشان ہوگیا۔ اسی پریشانی میں جب اٹھ کر باہر آیا تو پریشانی میں دماغ ماؤف ہونے کی وجہ سے میری حرکات و سکنات پر اس نے مجھے ڈس مس کردیا۔

انٹرویو میں پریشان کسی بھی حالت میں نہ ہوں۔ آپ کو اگر ایک جواب نہیں آیا، دو نہیں آئے، پانچ نہیں آئے تب بھی پریشان نہ ہوں۔ ہو سکتا ہے اگلے پندرہ بیس سوالوں کے جواب آپ اچھی طرح دے لیں۔ میرے ایک دوست نے اپنا کچھ ایسا واقعہ ہی سنایا۔ پریشان ہونے سے آپ کا اعتماد کم ہوتا ہے اور آپ یاد چیزوں کو بھی بھول جاتے ہیں، یا صحیح طریقے سے بیان نہیں کر سکتے ہیں۔ اس لیے پریشانی کو قریب بھی نہ پھٹکنے دیں۔

انٹرویو لینے والے کو اپنا دوست سمجھیں، نفسیات کا بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔ آپ جب یہ سوچ کر جائیں گے کہ اس نے تو کرنی ہی بےایمانی ہے، یا یہ تو میرا دشمن ہے، ایسی نفسیات انٹرویو پر برا اثر ڈالیں گی۔ اس لیے اس کو دوست سمجھیں اور اس کے ساتھ گھل مل جائیں۔ انٹرویو لینے والے سے تصادم نہیں کریں، ضد نہیں لگائیں۔ کسی خاص چیز کے بارے اگر وہ غلط بھی ہے تب بھی مناسب طریقے سے اس کا اظہار کریں۔ آپ کی جذباتی کارروائی سے اس کا کچھ جائے گا نہیں اور آپ کا کچھ رہے گا نہیں۔ فوجی معاملات، حساس چیزیں، دہشت گردی کی صورتحال، سیاسی وابستگی، یہ سب چیزیں بھی ایسی ہیں کہ ان میں بہت محتاط جواب دیں۔

ایک چیز جو سب سے اہم ہے وہ یہ کہ انٹرویو لینے والے کا رخ مناسب سمت میں آپ خو د بھی تبدیل کرسکتے ہیں۔ مثلا ایک چیز اگر نہیں آتی تو کوشش کریں کہ اس کا مختصر جواب دیں۔ لیکن اگر کوئی چیز آتی ہے تو اس کا جواب تفصیل سے دینا شروع کر دیں۔ اسی تفصیل سے مزید رخ نکلتے آئیں گے اور آپ کا انٹرویو اسی سمت میں جاتا جائے گا، جس سے آپ اچھی طرح واقف ہیں۔ تعارف کرواتے ہوئے میں بھی ایسی کسی چیز کا ذکر نہ کر بیٹھیں جس کے بارے زیادہ معلومات نہ رکھتے ہوں۔ ہاں اگر کسی چیز میں ماہر ہیں، اس کا خاص طور پر ذکر کریں، بہت زیادہ چانسز ہوتے ہیں کہ انٹرویو کا رخ اسی سمت چلاجائے۔ آپ کے مقالہ، ریسرچ ورک اور تصنیف کی صورتحال بھی یہی ہے کہ اس میں آپ کی مہارت اگر اچھی ہے، اس کو بہتر طور پر بیان کر سکتے ہیں، تو اس کا ذکر اچھی طرح کریں۔ اور ہاں! اگر ان چیزوں کو پڑھ کر انٹرویو میں کچھ فائدہ ہو تو مٹھائی بھیجنا نہ بھولیے۔