اپنے جوانوں کی لاشیں لے جاؤ - احسان کوہاٹی

’’دیکھو بیٹا! میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ مجھے بالکل ڈر نہیں لگ رہا تھا اور میں ذرا بھی پریشان نہیں تھا۔ دو مہینے بعد میری بھتیجی کی شادی تھی۔ وہ کہنے کو تو میرے مرحوم بھائی کی بیٹی تھی لیکن میں اسے اپنی ہی بیٹی سمجھتا تھا اور سمجھتا ہوں۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ میں لاش کی صورت میں گھر جاؤں۔ میں اسے اپنے ہاتھ سے رخصت کرناچاہتا تھا۔ مجھے اس کی بڑی فکر تھی۔‘‘ محمد بخش نے چائے کی چسکی لے کر خضاب لگی گھنی مونچھوں کو ہتھیلی کی پشت سے صاف کیا اور بتانے لگا۔

وہ اس جنگ کا غازی تھا جو کشمیر کے بلند پہاڑوں پر لڑی گئی۔ وہ کارگل کا غازی تھا۔ سیلانی کی محمد بخش سے اتفاقا ہی ملاقات ہوئی تھی۔ وہ ایک نجی سیکیورٹی کمپنی میں سپروائزر اور کڑک میٹھی چائے کے شوقین ہیں۔ وہ اسلام آباد کے ابر آلود موسم میں آئی ٹین مرکز کے کوئٹہ وال ہوٹل میں گرما گرم چائے سڑکا رہے تھے کہ ان کے فون نے کسی پیغام کی آمد کی اطلاع کی۔ محمد بخش نے منہ بناتے ہوئے زیر لب کچھ کہا اور جیبوں میں عینک ٹٹولنے میں ناکامی کے بعد سامنے بیٹھے سیلانی سے کہنے لگے ’’بیٹا! ذرا یہ پڑھنا، کیا لکھا ہے، میں اپنی عینک لانا بھول گیا ہوں، پتہ نہیں یہ کون مجھے میسج پر میسج ٹھونک رہا ہے۔‘‘

سیلانی نے میسج پڑھا۔ وہ انکی اہلیہ کا تھا جو ان سے کہہ رہی تھیں کہ آتے ہوئے پنڈی سے گراٹو کی جلیبیاں لیتے آئیں۔ محمد بخش پیغام سن کر مسکرا دیا اور زیر لب کہنے لگا ’’لگتا ہے آج میری بیٹی گھر آ رہی ہے۔ میں جلیبیاں کیا پوری دکان لے آؤں گا۔‘‘ یہ کہہ کر انھوں نے سیلانی سے کہا ’’یہ بیٹیاں بڑی پیاری ہوتی ہیں۔ ان کے پیار کا مزا بیان نہیں کیا جاسکتا۔‘‘ سیلانی نے مسکراتے ہوئے ان کی بات کی تائید کی اور بولا، ’’جی صحیح کہا، میری بھی ایک بیٹی ہے، بس سمجھیں میری جان ہے۔‘‘

باتوں باتوں میں محمد بخش نے بتایا کہ وہ آرمی سے ریٹائرڈ صوبیدار ہیں اور کارگل کی جنگ بھی لڑ چکے ہیں۔ یہ بات سن کر سیلانی چونک گیا کہ وہ آج تک کارگل کے کسی غازی سے نہیں ملا تھا۔ یہ اس کی زندگی کا پہلا موقع تھا کہ وہ کارگل کی جنگ میں شریک کسی غازی کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔

’’آپ کتنے دن وہاں رہے؟‘‘سیلانی نے اشتیاق سے پوچھا۔
’’یہ تین مہینے کی لڑائی تھی اور میں وہاں پورے اکتالیس دن تک رہا۔ میری واپسی اس وقت ہوئی جب مجھے دو گولیاں لگیں۔‘‘
’’اوہ آپکو گولیاں بھی لگی تھیں۔‘‘
’’ہاں میرے کاندھے پر فائر لگاتھا جس کے بعد مجھے میری کمان نے نیچے ریسکیوکروایا۔‘‘

کارگل جنگ پر اگرچہ اب تو درجنوں کتابیں آچکی ہیں، سینکڑوں مضامین لکھے جا چکے ہیں جس کے بعد کارگل سیکرٹ نہیں رہا لیکن محمد بخش کھل کر باتیں کرنے میں ہچکچا رہے تھے۔ لیکن سیلانی بھی سیلانی تھا، کرید کر ید کر وہ محمد بخش کو کارگل پر لے ہی آیا۔ بالآخر محمد بخش بتانے لگے، ’’وہ سرد رات میں نہیں بھولتا جب ہم نے کارگل کی طرف مارچ کیا۔ راستے کیا تھے ڈیڑھ فٹ کی بنیریاں تھیں اور بعض جگہوں پر تو صرف پاؤں رکھنے کی ہی جگہ تھی۔ ہمارے ساتھ جہاں تک خچر جا سکتے تھے انہوں نے ہمارا ساتھ دیا۔ اس کے بعد ہم خود ہی خچر بن گئے۔ اپنے پٹھوؤں میں سامان ڈالا اور پٹھو باندھ کر ایڈوانس کرتے چلے گئے اور ان چوکیوں پر پہنچ گئے جہاں ہم نے پہنچنا تھا۔ ‘‘

یہ بھی پڑھیں:   آزادی، قربانی اور کشمیر- ناصر محمود بیگ

’‘وہاں تو سنا ہے بہت زیادہ سردی ہوتی ہے ‘‘سیلانی نے اشتیاق سے پوچھا۔ ’’سردی جیسی کوئی سردی ہوتی ہے۔ ہم تو اس موسم میں گئے تھے جب سردیاں ٹاپ پر ہوتی ہیں۔ ہمیں خصوصی قسم کی وردی دی گئی تھی۔ پولینڈ کے بنے ہوئے جوتے اور وردیاں دی گئی تھیں، ورنہ وہاں تو بندہ دوسری سے تیسری سانس بھی نہ لے۔ خیر ہم نے ٹائیگر ہل اور آس پاس کی پوسٹوں پر پوزیشن سنبھال لی اور جب سردیاں ختم ہوئیں اور بھارتیوں نے واپس آنا شروع کیا تو ہم ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ بس پھر جب گولی چلی تو اس کے بعد راکٹ لانچر، مشین گنیں اور ہلکی بھاری توپیں جانے کیا کیا چلتا رہا۔ ہماری پوزیشن بہتر تھی، ہم بلندی پر تھے، ہم ٹکا ٹکا کر فائر کرتے تھے ان کے لیے اوپر آنا مشکل نہیں ناممکن تھا۔ ان کی ہر ہر موومنٹ پر ہماری نظرہوتی تھی‘‘۔

محمد بخش نے بتایا کہ ہمیں وہاں دو دو دشمنوں سے لڑنا پڑ رہا تھا ایک تو موسم اور دوسرا بھارت، ہم دونوں سے نمٹ رہے تھے۔ شروع شروع میں تو ہمارے ساتھ ڈر خوف قسم کی سب چیزیں تھیں، لیکن جب ایک بار ٹرائیگر پر انگلی آگئی تو سارا خوف ختم ہو گیا اور پھر بہادری کی ایسی ایسی داستانیں رقم ہوئیں کہ کوئی یقین نہ کرے۔‘‘

محمد بخش بتانے لگے ’’ہمارے ساتھ والی پوسٹ پر ایک کپتان تھام سانولے سے رنگ کام چھریرے بدن کام بڑا ہی شیر دل افسر تھا، اس بندے میں ڈر خوف نام کی کوئی چیز نہ تھی، چلو میں نام بھی بتا دیتا ہوں، اس کا نام کیپٹن کاشف تھا، اس کے ساتھ پوسٹ پر چودہ سپاہی تھے۔ یہ اکیس مئی کی بات ہے جب دشمن نے اس سے پوسٹ چھیننے کے لیے حملہ کیا اور جانتے ہو کتنے فوجیوں نے؟ ایک طرف یہ چودہ اور دوسری طرف بھارت کے ڈھائی تین سو فوجی تھے۔ وہ رات کی تاریکی میں کسی نہ کسی طرح پوسٹ کے قریب آگئے اور فائر کھول دیا۔ ادھر انہوں نے فائر کھولا ادھر ہمارے جوانوں نے بھی نعرہ تکبیر کے ساتھ جوابی فائر کھول دیا۔ ان کا فائر بڑا ہیوی تھا، گولیاں پوسٹ کی دیواروں سے بارش کے پانی کی طرح ٹکرا رہی تھیں۔ بڑا ہی سخت فائر تھا لیکن وہ جوان بھی ڈٹ گیا۔ افسر ڈٹ جائے تو سپاہی بھی ڈٹ جاتے ہیں۔ وہ شیر کی طرح کھڑا ہوا تو پیچھے سب شیر ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے بھی جوابی فائر کیا اوردشمن کی رائفلیں چپ کرا دیں، دشمن پسپا ہو گیا۔ صبح روشنی ہوئی تو چٹانوں پر عجیب منظر تھا۔ دشمن کی لاشیں ہی لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔ کپتان اور جوانوں نے دشمن کا اسلحہ قبضے میں لے لیا۔ کپتان صاحب کی پوسٹ پر رابطہ ہوا تو وہاں سپاہی نے بتایا کہ کہ بھارتی فوجی بندوقیں چھوڑ چھوڑ کر بھاگ رہے تھے اوران کے افسر انھیں روکنے کی کوشش کررہے تھے اور پھر گالیاں دیتے ہوئے وہ بھی بھاگ گئے۔

یہ اکیس مئی کی بات ہے دو دن بعد بھارت نے ہماری پوسٹ پر حملہ کر دیا۔ ہماری پوسٹ کی پوزیشن کچھ ایسی تھی کہ اگر ہمیں پیچھے سے کمک نہ ملتی تو ہمارے قدم اکھڑ جاتے یا پھر شہادتیں ہوتیں۔ کیپٹن کاشف نے بھانپ لیا کہ ساتھ والی پوسٹ پر معاملہ نازک ہے۔ وہ اپنی پوسٹ خالی نہیں چھوڑ سکتا تھا اور ہمیں مرتا بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس شیر کے پتر نے اپنے ساتھ تین جوان لیے، خود مشین گن پکڑی اور کہا کہ ماں کا دودھ پیا ہے تو پیچھے نہ ہٹنا اور سنو فکر نہ کرنا، تم سے پہلے گولی میں چلاؤں گا۔ اور لگنی ہوئی تو تم سے پہلے گولی بھی مجھے لگے گی۔ اب انہوں نے پیچھے سے جا کر جو فائر کھولا اور دشمن پر بجلی کی طرح ٹوٹے تو پوزیشن ہی پلٹ گئی اور پھر صبح حال یہ تھا کہ دشمن کی انیس لاشیں نیچے بکھری ہوئی تھیں۔ دو دن پہلے والی لاشوں سے بدبو آنے لگی تھی اور بدبو کے بھپکے اٹھ رہے تھے۔ سچی بات ہے حلق سے لقمہ اتارنا مشکل ہوگیا تھا۔ کپتان صاحب نے یہ سب دیکھا تو انہوں نے کمانڈنٹ افسر کرنل صاحب سے رابطہ کیا اور کہا مجھے اجازت دیں کہ دشمن سے رابطہ کر کے کہوں کہ اپنے سپاہیوں کی لاشیں لے جائیں۔ کرنل صاحب نے کہا کیپٹن! کیسی باتیں کر رہے ہو ہم جنگ میں ہیں۔ کپتان صاحب نے جواب دیا سر! ایک فوجی کی حیثیت سے لاشوں کی بے حرمتی ہوتا نہیں دیکھ سکتا۔ یہ اس وقت تک ہمارے دشمن تھے جب تک ہتھیار بند تھے۔ کرنل صاحب نے پوچھا رابطہ کیسے ہوگا؟ کپتان صاحب نے کہا فکر نہ کریں مجھے ان کی وائرلیس فریکونسی کا علم ہے، آپ اجازت دیں تو میں بات کر لیتا ہوں۔ کرنل صاحب نے اجازت دے دی۔

یہ بھی پڑھیں:   مودی نے جو جھنڈے گاڑے ہیں، ترنگا ان کی تعبیر نہیں لگتا - اشوک لال

اب حال یہ تھا کہ کپتان صاحب کلو ون، کلو ٹو کی فریکوئنسی پر دشمن سے رابطہ کریں اور کہیں کہ آ کر اپنے سپاہیوں کی لاشیں لے جاؤ اور وہ نہ آئیں۔ خیر ان سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ کیا گارنٹی ہے کہ ہم لاشیں اٹھانے آئیں گے تو فائر نہیں ہوگا؟ کپتان نے جواب دیا، ہم مسلمان لاشوں کی بے حرمتی نہیں کرتے نہ ہوتا دیکھ سکتے ہیں۔ آپ بےخوف آؤ، ہاں اگر کوئی چالاکی کی تو واپسی کا راستہ نہ ملے گا۔ کپتان صاحب تین دن تک ان سے وائرلیس پر بات کرتے رہے جس کے بعد چوتھی رات چار سپاہی ڈرتے ڈرتے آئے، کپتان نے ان پر ٹارچ کی روشنی پھینکی، ان کے رنگ خوف سے پیلے پڑے ہوئے تھے۔ کپتان نے انھیں کہا ڈرو نہیں اور لاشیں لے جاؤ۔ وہ ایک ایک کر کے لاشیں لے جاتے رہے اور میں نے بھی شکر کیا کہ بدبو سے جان چھٹی‘‘۔

محمد بخش کو بھی ماضی کے دریچے سے جھانکنااچھا لگ رہا تھا اور سیلانی بھی ہمہ تن گوش تھا۔ اسے وہ سب سننے میں آ رہا تھا جو وہ پڑھتا رہا ہے۔ کارگل کی جنگ میں بھارت کی ہزیمت کا اعتراف وہ بھارتی لیفٹننٹ جنرل مہندرپوری کے انٹرویو میں ان الفاظ میں پڑھ چکا ہے کہ یہ بھارتی ملٹری انٹیلی جنس اور خفیہ اداروں کی ناکامی تھی۔ ایک اور لیفٹننٹ جنرل کشن پال این ڈی ٹی وی کو انٹرویو میں صاف الفاظ میں کہا تھا کہ ہم نے وہ علاقہ ضرور حاصل کیا جس پر دراندازوں نے حملہ کیا تھا۔ ہمیں حکمت عملی کے لحاظ سے کچھ کامیابیاں ملیں، لیکن ہماری 587 قیمتی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔ میں اسے جنگ میں شکست مانتا ہوں۔ سیلانی کو بوڑھے جرنیل کے شکست خوردہ لہجے میں کہے گئے یہ الفاط یاد آئے تو اسکا سینہ چوڑا ہو گیا اور وہ فخر سے کارگل کے غازی صوبیدار محمد بخش کو فخر و احترام سے دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.