ڈاکٹر جگجیت سنگھ چوہان اور تحریک خالصتان - غضنفر عباس ایڈووکیٹ

انڈین پنجاب کے ضلع ہوشیار پور کے علاقے ارمڑ تانڈہ میں 1929ء کو ایک سکھ گھرانے میں جگجیت سنگھ چوہان نے آنکھ کھولی۔ تعلیم و تربیت کے بعد ڈینٹل ڈاکٹر کا پیشہ اختیا ر کیا۔ طبیعت میں آزادی، کٹر مذہبی میلان اور قوم پرستی شامل تھی۔ یہی وجہ تھی کہ انڈین ریپبلکن پارٹی سے سیاست کا آغاز کیا اور انڈین پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں 1967ء میں پہلی بار ممبر منتخب ہوگئے۔ بعد ازاں "اکالی دل" کی اتحادی حکومت میں ڈپٹی سپیکر اور پھر صوبائی وزیر اعلیٰ لچھمن سنگھ گل کی حکومت میں بطور وزیر خزانہ خدمات انجام دیں۔ تاہم 1969ء میں الیکشن ہار گئے اس ہار سے دل برداشتہ ہو کر انڈیا سے کوچ کیا اور برطانیہ چلے گئے۔ اپنی آزاد منش طبیعت اور سکھ قوم کے لیے کچھ کر گزرنے کے جذبے کے تحت بہت سوچ بچار کے بعد سکھوں کے لیے الگ آزاد ریاست کے قیام کے لیے خالصتان تحریک پر کام شروع کر دیا۔ 1971ء میں پاکستان آئے بابا گرو نانک صاحب کے دربار پر حاضری دی، ننکانہ صاحب میں سکھ کمیونٹی سے ملاقاتیں کیں۔ یحییٰ خان سے بھی ملے، اپنے خیالات کا تبادلہ کیا جس کے بعد انہوں نے چوہان کو بطور سکھ لیڈر تسلیم کرنے کاباقاعدہ اعلان کیا۔ چوہان نے اپنے ہم خیال سکھ نوجوانوں اور چند رشتہ داروں کو اکٹھا کیا اور واپس برطانیہ چلے گئے۔ 1971ء میں موجود سکھ کمیونٹی کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کیا جس کے شاندار اثرات ملے۔ 13اکتوبر 1971ء کو نیو یارک ٹائمز میں الگ آزاد سکھ ریاست کے قیام کا اشتہار دیا۔ فنڈ ریزنگ کے اس اشتہار سے سکھ کمیونٹی کی جانب سے لاکھوں ڈالرز موصول ہوئے، جس کی اس وقت سخت ضرورت تھی۔ اس امریکی دورے کے بعد تحریک خالصتان میں بھرپور جوش و جذبہ پیدا ہوگیا۔ تحریک نے زور پکڑ لیا کیونکہ تحریک اخلاقی، مالی اور سیاسی امداد حاصل کر چکی تھی۔ مزید برآں ایک بنیاد پرست سکھ لیڈر جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ جو اپنے طور پر الگ سکھ نظریاتی وطن کےلیے سرگرداں تھے، کے ساتھ مل کر ایک عمارت کو خالصتان ہاؤس کا نام دے دیا۔

یہ 1980ء کی دہائی تھی، انڈیا میں شدید ترین نسلی فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ سکھوں کو ان کی بنیادی حقوق سے محروم کر دیا گیا تھا۔ سکھوں کے مذہبی شناخت کرپان کو اپنے ساتھ رکھنے پر پابندی لگا دی گئی۔ زراعت کے پانی کو کم کر دیا گیا۔ چندی گڑھ کو پنجاب سے الگ کر دیا گیا تھا، جس سے سکھ کمیونٹی میں شدید احساس محرومی پیدا ہوا۔ کانگرس کی زیادتیاں جاری و ساری تھیں۔ دیگر سکھ تنظیمیں جن میں "اکالی دل" سر فہرست تھی، کانگرس کی زیادتیوں کے خلاف میدان عمل میں موجود تھیں۔ 1982ء میں ہرچرن سنگھ لونگووال کی زیر سرپرستی اکالی دل نے "دھرم یدھ مورچہ" کی بنیاد رکھ دی۔ "دھرم یدھ مورچہ" پر جرنیل سنگھ بھنڈانوالہ کا اثر سوخ بہت بڑھ گیا جس کے مثبت اورمنفی اثرات سامنے آئے۔ دراصل چوہان پرامن اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے سکھوں کے الگ وطن کے لیے کوشاں تھے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اکالی دل، دھرم مورچہ کی کارروائیوں سے کسی حد تک تحریک خالصتان کوضرور نقصان پہنچا تھا۔ 12اپریل 1980ء کو آنند پور صاحب میں، نیشنل کونسل آف خالصتان کی بنیاد رکھی جس کے وہ صدر جبکہ بلبیر سنگھ اس کے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔ قبل ازیں 1970ء میں چوہان نے برمنگھم میں خالصتان کا پرچم متعارف کروا دیا تھا۔ مئی 1980ء میں چوہان نے لندن میں جبکہ بلبیر سنگھ نے امرتسر انڈیا میں سکھوں کے الگ وطن "خالصتان" کا باقاعدہ اعلان کیا۔ خالصتان کے کرنسی نوٹ اور ٹکٹ جاری کیے۔ چوہا ن نے اس میں مزید جان ڈالنے کے لیے جرمنی، کینیڈ، امریکہ اور متعدد یورپی ممالک میں بسنے والے سکھوں سے رابطے بڑھا دیے۔

جگجیت سنگھ چوہان نے ہریانہ، ہماچل پردیش، مقبوضہ جموں و کشمیر اور راجھستان پر مشتمل "جمہوریہ خالصتان" کا نقشہ پیش کرتے ہوئے جمہوریہ خالصتان کے صدر اور کیبنٹ کے وزراء کے ناموں کا اعلان کیا۔ خالصتان کے علامتی پاسپورٹ، ڈاک ٹکٹ اور "خالصتان ڈالر" کرنسی کا بھی اعلان کر دیا اور برطانیہ سمیت دیگر یورپی ملکوں میں اپنی مراکز کھول لیے جنھیں علامتی طور پر سفارتخانے کا نام دیا گیا۔ 80 کی دہائی میں جب انڈیا میں نسلی فسادات اپنے عروج پر تھے، اور مختلف سکھ جماعتیں احتجاج پر تھیں، تو 31اکتوبر 1984ء کو اندر ا گاندھی کا قتل ہو گیا اور ملکی حالات دگرگوں ہو گئے۔ انڈین آرمی اور پولیس مل کر سکھ عوام پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہی تھی۔ سیاسی کارکنوں اور لیڈروں کو چن چن کر قتل کیا جا رہا تھا۔ سکھوں کو دبانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا جا رہا تھا۔ گردواروں کو خاک و خون اور بارود میں نہلایا جا رہا تھا۔ اس دوران چوہان نے 1989ء میں انڈیا آ کر گردوارہ آنند پور صاحب میں خالصتان کا پرچم لہرادیا، جس کے نتیجے میں 24اپریل 1989ء کو انڈیا نے ان کا پاسپورٹ منسوخ کردیا۔ اس منسوخ شدہ پاسپورٹ پر جب چوہان امریکہ داخل ہو رہے تھے تو انڈیا نے شدید احتجاج کیا۔ 1990ء میں ہزاروں کارکنوں کی گرفتاری ظالمانہ تشدد مظلوم سکھوں کی کشت و خون شدید معاشی پابندیوں اور محدود نقل و حرکت کے باعث سکھ کمیونٹی محدود ہو کر رہ گئی۔ انڈین حکومت کی شدید ترین کریک ڈاؤن کے نتیجے میں سکھ برادری کمزور پڑ چکی تھی اور آپس چھوٹے چھوٹے تنازعات نے جنم لینا شروع کر دیا تھا جس سے آپس میں پھوٹ پڑ گئی۔ انھی عوامل کی وجہ سے اکثریت بد دل ہو چکی تھی اور خالصتان جیسے آزاد الگ وطن کی آس اور امید آخری دم پر جا پہنچی تھی۔ 90 کی دہائی تحریک خالصتان کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی۔

طویل جلاوطنی کے بعد 2001ء میں اٹل بہاری واجپائی کی مداخلت سے جگجیت سنگھ چوہان انڈیا واپس آ گئے اور ایک بار پھر نئے جوش و جذبے سے "خالصہ راج پارٹی" کی بنیاد رکھی، اور اس سیاسی جماعت کی آڑ میں خالصتان کی کمپین کرنے لگے۔ اس پارٹی کا صدر دفتر چوہان چیئر ٹیبل ہسپتال تانڈہ میں بنایا۔ 9 مارچ 2006ء کو انڈین پولیس نے چوہان کو غیر قانونی طور پر عمارات پر خالصتان کا پرچم لگانے اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کا الزام لگا کر گرفتار کر لیا۔ پارٹی کا دفتر سیل کر دیا اور وہاں موجود پمفلٹس، قابل اعتراض مواد اور کمپیوٹر وغیرہ قبضے میں لے لیے۔ ان پر غداری کے الزامات دفعہ 121,124-A اور 505 انڈین پینل کوڈ کے تحت لگائے۔ بالآخر یہ عظیم نیشنلسٹ سکھ لیڈر 78 سال کی عمر میں جان لیوا ہارٹ اٹیک کے نتیجے میں 7اپریل 2007ء کو دار فانی سے کوچ کر گیا، اور اپنے آبائی ضلع ہوشیارپور کے گاؤں تانڈہ میں دفن ہوا۔

انڈین حکومت نے بزور طاقت اس نحیف و نزار بزرگ لیڈر کو دفن تو کر دیا مگر اس کے نظریات آج 12سال گزر جانے کے باوجود بھی دفن نہیں کر سکی ہے۔ خالصتان کی تحریک ایک بار پھر اپنے زوروں پر ہے۔ آئے روز انڈیا اور لندن میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ سکھ نوجوان ایک بار پھر تحریک خالصتان میں روح پھونک چکے ہیں۔ اب "ببر خالصہ انٹرنیشنل" کے پرم جیت پما "سکھ فار جسٹس SFJ" کے ساتھ مل کر خالصتان کے قیام کے لیے میدان میں اتر چکے ہیں۔ 12اگست 2018ء کو لندن میں ایک ریلی کے دوران "اعلان لندن" عمل میں آیا۔ اعلان لندن کے ا علامیے کے مطابق ٹرافالگر سکوائر لندن میں بھارتی پنجاب میں آزادی کی تحریک "سکھ فار جسٹس" کے پرچم تلے چلائی گئی ہے۔ جو اب ریفرنڈم 2020ء کے ذریعے انڈین پنجاب کے پنجابی بولنے والوں سے رائے لے گی کہ آیا وہ آزاد پنجاب خالصتان ریاست کا قیام چاہتے ہیں؟ یا پھر انڈیا میں بطور غلام پنجاب کا حصہ بن کر رہنا چاہتے ہیں۔

یقیناً بھارتی پنجاب کے سکھ اس بات کو جان چکے ہیں کہ ان کی محرومیوں کا ازالہ فقط آزاد خالصتان کے قیام سے ہی ممکن ہے۔ جہاں پر وہ اپنی آزاد مرضی سے اپنی عبادات قائم کر سکیں۔ دنیا بھر میں اپنی آزاد ریاست کے ذریعے اپنی تشخیص کا قیام عمل میں لائیں۔ چونکہ دنیا بھر میں مذہبی و قومی عددی برتری کی بنیاد پر ریاستوں کا وجود موجود ہے اور سکھ برادری بھی مذہبی جداگانہ قومی تشخص رکھتی ہے۔ اس لیے الگ آزاد سکھ ریاست کی اشد ضرورت ہے۔ برصغیر کی تقسیم کو 72سال گزر چکے ہیں مگر سکھ برادری آج یوم تک اپنی الگ آزاد ریاست کے لیے در بدر ہے۔ حکومت پاکستان کو نہایت سنجیدگی کے ساتھ سکھ برادری کے اس حقیقی دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے اپنا قردار ادا کرنا ہوگا۔ گو کہ پاکستان اب تک محض اخلاقی سپورٹ کرتا چلا آیا ہے مگر اب اسے اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے آزاد جمہوری سکھ ریاست "خالصتان" کے قیام کے لیے فوری اقدامات عمل میں لانا ہوں گے۔ سکھ برادری کے ساتھ مجھے بھی قوی یقین ہے کہ اب سکھ برادری کی مشکلات میں کمی واقع ہونے والی ہے۔ اب وہ دن دور نہیں جب سکھ برادران اپنے الگ آزاد وطن کی فضا میں سکھ کا سانس لے سکیں گے۔