کیا ماڈرن ہونا دنیا میں آگے بڑھنے کی علامت ہے؟ سید مستقیم معین

میں نے رفاہ یونیورسٹی میں اپنے سٹوڈنٹس کو Final Exam میں یہ سوال دیا کہ کیا ماڈرن ہونا دنیا میں آگے بڑھنے کی علامت ہے؟ اس موضوع پر میں طلبہ کے لیے ایک لیکچر بھی کروا چکا تھا۔ میرے سوال پر طلبہ کے جوابات مختلف قسم کے تھے۔ کچھ طلبہ نے ماڈرن ہونے سے مراد فیشن ایبل ہونا لیا، کچھ نے تعلیم کو ماڈرن ہونے کا ثبوت بتایا، کچھ نے مسلمانوں کو یورپ کے اخلاق اور ایجادات سے سبق سیکھنے کا مشورہ دیا، کچھ نے اسلام کو ہی سب سے ماڈرن مذہب بتایا۔ کچھ نے بتایا کہ بدلتے حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا ماڈرن ازم ہے، وغیرہ وغیرہ۔

غرض یہ کہ طلبہ نے اس موضوع پر اپنے اپنے زاویے سے کھل کر اظہار خیال کیا۔ یہی میرا مقصد بھی تھا، کیونکہ دنیا میں ہر انسان کو سوچنے کی آزادی ہے، ہر کوئی اپنے اپنے مخصوص ماحول، مذہب، مسلک اور خاندانی پس منظر میں سوچتا ہے۔ انسان کی سوچ پر پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔ البتہ سوچ کو ایک نیا زاویہ ضرور دیا جا سکتا ہے۔

کیا اسلام ماڈرن ازم کے خلاف ہے؟ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم جانیں کہ ماڑن ازم ہوتا کیا ہے۔ ماڑرن ازم بارے مختلف تعریفات رائج ہیں:

1۔ آئی فون کا نیا ماڈل، جینز شرٹ یا پینٹ کوٹ، نئے ماڈل کی گاڑی، ڈیفنس میں بنگلہ، خواتین کا مختصر لباس، فاسٹ فوڈ، بیکن ہاؤس، لاہور گرائمر، ٹوٹی پھوٹی انگلش، امپورٹڈ پرفیوم اور شمپو، ڈرائنگ روم میں سٹیچوز وغیرہ۔ درجہ بالا تمام شرائط یا ان میں سے اکثر اگر کوئی پوری کر دے تو وہ عوام میں رائج تعریف کے مطابق ایک ماڈرن انسان یا ماڈرن فیملی کہلا سکتا ہے۔ یہ تعریف عامۃ الناس میں رائج ہے۔

2۔ دنیامیں 17ویں صدی میں فرانس اور امریکہ میں پوپ / مذہب (یعنی مولوی) اور بادشاہت / غاصبانہ قبضے کے خلاف جو انقلاب آیا، اس کے بعد ایک نئی اور جدید دنیا تشکیل پائی، جس میں صنعتی انقلاب اور روشن خیالی کا دور دورہ تھا، جس میں ہر طرح کی سائنسی تھیوریز پیش کرنے کی اجازت تھی، انسانوں کی آسائش کے لیے طرح طرح کی ایجادات تھیں، جس میں لکھنے، پڑھنے اور بولنے پر پابندی نہیں تھی، جس میں عورت اور مرد میں فرق نہیں تھا، جس میں مذہب اور آسمانی ہدایت وغیرہ کے لیے کوئی گنجائش نہیں تھی۔ اس کے بجائے انسانوں کی تھیوریز (ایوولیشن، کمیون ازم، جمہوریت، سیکیولرازم، فیمن ازم وغیرہ) کا دور دورہ تھا۔ اس کے بعد پوسٹ ماڈرن ازم آیا۔ جس میں آزادی بڑھنا شروع ہوئی، جسموں سے کپڑے اترنا شروع ہوئے، مرد و عورت کا آزادانہ جنسی تعلق اور ہم جنس پرستی عام ہوئی، اسقاط حمل کا کلچر اور میڈیا کے زریعے انسانی شہوات کو بڑھانے کا کام ہونے لگا، خاندانی نظام یعنی ماں، باپ، بہن، بھائی کا مقدس تعلق پامال ہوا، شراب اور دیگر قسم کا نشہ عام ہوگیا۔ دنیا کو عیاشی، لطف اور مزے کی جگہ قرار دیا گیا اور ان اہداف کو تقویت دینے والی ہر نئی سوچ / چیز کو اخلاقی پیمانے پر پرکھے بغیر، اپنا لینا، یہ ماڈرن ازم کہلاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جب خلافِ شریعت قانون بننے لگے - محمد رضی الاسلام ندوی

اسلام اس سلسلے میں کیا کہتا ہے؟
اسلام حقیقتاً ایک ایسی تہذیب کا نام ہے جس نے سوچ کو نئی بلندی عطا کی، مردہ ذہنوں کو پھر سے زندہ و جاوید کیا۔ انسانوں کو اپنی ذات سے نکل کر دوسروں کے لیے سوچنے کا بہترین طریقہ سکھایا۔ رہن سہن سے لیکر، گفتگو اور اخلاق تک، سب کچھ نئے سرے سے آراستہ کیا۔ معیشت کے لیے خوبصورت قوانین وضع کیے، عدالت کے لیے نہایت عمدہ اصول متعین کیے، حاکمِ وقت کو معاشرے کے اعلیٰ دماغ چنیں گے پھر حاکم کوعوام کا جواب دہ اور خادم بنایا۔ عدالت کے سامنے حاکم اور رعایا برابر تصور ہوں گے، نظام تعلیم وضع کیا، قرآن نے بار بارتحقیق اور تفکر پر اکسایا۔ مقصد تعلیم طے پایا کہ علم (ریسرچ) تو وہ ہے جو ذات باری تعالی کے وجود کے اظہار تک پہنچائے۔ تعلیم ایسی ہو جو انسانوں کو انسانوں کے شر سے محفوظ کر دے۔ ایسی ایجادات سے منع فرمایا جو انسانوں کے لیے زہر قاتل ہوں۔ خلیفہ وقت یا حاکم کے سامنے اظہار رائے کی آزادی کا قانون حقیقتاً اسلام نے دیا۔

اسلام ایک جدید، نیا اور قابل عمل نظامِ زندگی دیتا ہے۔ جبکہ میں دلائل سے یہ بات ثابت کر سکتا ہوں کہ موجودہ مغربی تہذیب درحقیقت پرانی دقیانوسی سوچ کا نام ہے، یہ نئی بوتل میں پرانی شراب کی مانند ہے۔

1۔ اسلام سے پہلے سودی کاروبار بڑے پیمانے پر انسانوں کے استحصال کا باعث تھا، اسلام نے آکر سود کو ختم کیا اور تجارت پر نفع کو جائز قرار دیکر صنعتی ترقی کی بنیاد فراہم کی۔ آج پوری دنیا کا معاشی ماڈل سود / انٹرسٹ ریٹ کی بنیاد پر کھڑا کیا گیا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ امیر مزید امیر ہو رہا ہے جبکہ غریب غریب تر ہو رہا ہے۔

2۔ عوام پر ریاستی ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ اب عوام اپنے گھر کے خرچے کے ساتھ ساتھ ریاست کا بوجھ بھی اٹھاتی ہے۔ اسلام میں ریاست عوام کی فلاح و بہبود کی ذمہ دار ہے، جبکہ موجودہ دقیانوسی نظام میں عوام ریاست کی پرورش کرتی ہے۔

3۔ اسلام کی آمد سے پہلے روم کے عیسائی اور ایران کے مجوسی دولت اور غلبے کی خاطر انسانوں کے سروں کی فصلیں کاٹ دیا کرتے تھے۔ آج بھی دنیا میں یہودی اور عیسائی یورپ اسی ایجنڈے پر گامزن ہے، اپنے ملکوں کو امن کا گہوارہ بنا کر دوسروں کے گھروں میں آگ لگانے کا فن دقیانوسی سوچ کی عکاسی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اسلام میں تجارت کا معیار - سید محمد ثاقب شفیع

4۔ محبت اور جنگ میں سب جائز ہے، یہ فلسفہ یورپ کا دیا ہوا ہے، جبکہ اسلام محبت اور جنگ میں بھی اصول و ضوابط کا قائل ہے۔ حالت جنگ میں انتہائی سخت شرائط ہیں: عورتوں بچوں پر ہاتھ نہیں اٹھایا جا سکتا، بلاوجہ درخت کاٹنا اور فصلیں برباد کرنا، لاشوں کا مثلہ کرنا ممنوع ہے۔ جبکہ آج پرانی اور فرسودہ سوچ کے حامل امریکہ، بھارت، اسرائیل، فرانس، روس، جرمنی انسانوں کو ختم کرنے کے لیے خطرناک ہتھیار بنا چکے ہیں،جن کا آج کے جدید دور میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے، جس میں عام شہری اور بچے بڑی تعداد میں جاں بحق ہو جاتے ہیں۔

5۔ زمانہ جاہلیت میں قیدیوں کو قتل کر دینا عام سی با ت تھی، یونانی تہذیب اور فرعون کی تہذیب میں قیدیوں کو دیواروں میں چنوا دیا جاتا تھا، ان کے جسموں کو آروں سے چیرا جاتا تھا۔ اس کے مقابلے میں قیدیوں سے ناروا سلوک اختیار کرنا اسلام میں سختی سے ممنوع ہے۔2010ء میں امریکہ نے گونتا نوموبے میں قیدیوں کے ساتھ جو سلوک کیا، وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ آج 2019ء میں اسرائیل اور انڈیا قیدیوں کو کس بے رحمی سے تڑپا تڑپا کر مارتے ہیں، اس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔

6۔ زمانہء قدیم میں بھی شہوانیت عام تھی، شراب و کباب کی نشستیں ہوا کرتی تھیں، انسان مقصد زندگی سے نا آشنا تھا، ہوس، شہوت، رقص و سرور ہی بس مقصدِ زندگی ہوا کرتا تھا۔ فنون لطیفہ کے نام پر عورت کو رکھیل اور جنس بازار بنایا جاتا تھا جبکہ پرانے یونانی ادب میں اسے عورت کی آزادی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اسلام نے اس صوررتحال کو بدلا، مگر آج پھر وہی پرانی روش اختیار کر لی گئی ہے۔

7۔ اسلام کی آمد سے پہلے عرب، روم اور فارس میں لاولد افراد (جس کے والد کا تعین نہیں ہو سکتا) کی تعداد بہت زیادہ ہوا کرتی تھی، اس بات کا اندازہ ان کے قدیم لٹریچر سے ہوتا ہے۔ آج امریکہ و یورپ میں اکثر جگہوں پر والد کے نام کے بجائے صرف ماں کے نام پر اکتفا کیا جاتا ہے، کیونکہ بہت سے انگریزوں کے لیے والد کا نام پوچھنا دل شکنی کا باعث ہوتا ہے۔

طوالت کے سبب مضمون ختم کرنا پڑ رہا ہے، ورنہ فہرست طویل ہے۔