کفر کے فتوے اور کرنے کا اصل کام - بشارت حمید

دین اسلام کسی کی جاگیر نہیں کہ کوئی اس پر سانپ بن کر بیٹھ رہے تاکہ دوسروں کو حصہ نہ مل سکے۔ یہ تو ایک سے دو دو سے چار اور چار سے آٹھ اینڈ سو اون، تک ایک مسلسل پھیلنے والا دین فطرت ہے۔ امت کی اکثریت اس دعوت الی الناس کے کار خیر کے منصب کو کماحقہ سنبھالنے کے بجائے ہاتھ پر ہاتھ دھرے اپنی اپنی جگہ مطمئن بیٹھی ہے اور لوگوں کو آفاقی دین سے جوڑنے کے بجائے اپنے تعصبات پر سختی سے ڈٹ کر کھڑی ہے۔ بجائے لوگوں کو اپنے اخلاق و کردار سے ایک نمونہ پیش کرکے دائرہ اسلام میں داخل کرنے کے الٹا دوسروں پر فتوے لگا کر دائرہ اسلام سے خارج کیے جا رہی ہے۔ نتیجتاً عوام الناس میں مذہب بیزاری اور الحاد کا عنصر بڑھتا جا رہا ہے۔

عام زندگی میں بھی ہم کسی سے کوئی لین دین کا معاملہ کریں یا کسی کو اپنی بات سمجھانا چاہیں تو سب سے پہلے دوسرے کو عزت و احترام سے مخاطب کرتے ہیں، پھر اپنی بات کہتے ہیں، دوسرا اگر سلیم فطرت انسان ہو تو وہ متفق ہو جاتا ہے اور اگر کج فہم ہو تو بات سرے نہیں چڑھ پاتی اور ہم اسے اس کے حال پر چھوڑ کر اپنی راہ لیتے ہیں۔ لیکن اس کا جینے کا حق یا دیگر انسانی حقوق سلب کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ یہ ایک عام رویہ ہے جس میں استثنی بہرحال ہوتا ہے۔

ہماری اکثریت جس دینی موقف پر قائم ہے اسے اگر باپ دادا کا دین کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ کوئی بریلوی ہو یا دیوبندی، اہل حدیث ہو یا اہل تشیع، شاید دس پندرہ فیصد لوگ ہر گروہ میں ایسے ہوں گے جو کسی مکتبہ فکر کے ساتھ کوئی لٹریچر پڑھ کر یا شعوری طور پر سوچ سمجھ کر منسلک ہوئے ہوں گے۔ ورنہ عام طور پر یہی ہوتا ہے کہ انسان جس ماحول میں آنکھ کھولتا ہے، اسی کو سچا اور اصل دین سمجھ کر ساری زندگی اسی کی پیروی میں گزار دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے آبائی مسلک کی بنیادی باتیں بھی محض سنی سنائی اس تک پہنچتی ہیں اور وہ ان کی سچائی کو پرکھنے کی معمولی سی کوشش بھی نہیں کرتا اور اپنے آبائی عقائد و رسومات پر کاربند رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا مسلمان دوبارہ عروج حاصل کر سکتے ہیں؟ پروفیسر جمیل چودھری

فرض کریں کہ ایک مسلک کے نزدیک دوسرا مسلک اپنے کچھ عقائد کی بنا پر دائرہ اسلام سے خارج ہے، تو اس مسلک کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہیے۔ کیا اس کے معتدل افراد سے تعلق قائم کرکے انہیں اپنے مسلک کی دعوت دینا چاہیے یا وہ جہاں ملیں انہیں کافر کہہ کر ان سے توہین آمیز انداز میں پیش آیا جائے، ان سے بات بھی نہ کی جائے چاہے اس مخاطب نے اپنے مسلک کی کوئی کتاب خود سے پڑھی بھی نہ ہو اور نہ ہی وہ اپنے مسلک کے عقائد میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہو، ہاں اپنے خاندان برادری کے ساتھ مل کر چند عبادات اپنے عقیدے کے مطابق کر لیتا ہو۔

اب جو اپنے مسلک کو حق گردانتا ہو، اس پر تو بھاری ذمہ داری یہ آن پڑتی ہے کہ وہ اپنے اخلاق اور کردار سے دوسروں پر اپنی حقانیت ثابت کرے، اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اپنی دعوت پہنچائے، نہ کہ وہ آرام سے بیٹھا دوسرے سب کو کافر قرار دے اور اپنے سچے مؤقف کو نہ اپنی ذات پر لاگو کرے اور نہ ہی کسی اور تک پہنچانے کی کوشش کرے۔

ہمارے دفتر میں ایک صاحب اقلیتی گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک بار ان سے بات چیت ہوئی تو میں نے ان سے سوال کیا کہ آپ جس عقیدے پر قائم ہیں، کیا آپ نے اس کو کتابیں پڑھ کر شعوری طور پر سمجھ کر قبول کیا ہے؟ یا بس باپ دادا کو ایسا کرتے دیکھا اور اسی کو فالو کرنے لگ پڑے۔ ان کا جواب یہ تھا کہ میں تو اپنی جاب میں ہی اتنا مصروف رہتا ہوں کہ میرے پاس مذہب کے بارے پڑھنے اور اس پر سوچ بچار کرنے کا وقت ہی نہیں۔ یعنی وہ اپنے باپ دادا کے وراثت میں ملے عقیدے پر ہی قائم تھے کیونکہ بچپن سے انہیں یہی ماحول میسر آیا تھا۔ اور اکثریت عوام کی ایسی ہی ہے جو بے شعوری کی کیفیت میں کسی عقیدے پر چل رہی ہوتی ہے اور انہیں اس غلط عقیدے کو چھوڑ کر کوئی دوسری راہ اختیار کرنا اور اس کے نتیجے میں اپنے خاندان برادری سے کٹ جانا گوارا نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں:   مذہبی کارڈ ہی کیوں؟ حبیب الرحمن

حاصل گفتگو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں کسی ایک گروہ کو کافر قرار دے کر سمجھ لیا گیا ہے کہ ہماری ذمہ داری پوری ہوگئی ہے، اب اس گروہ کے افراد کو دین کی طرف راغب کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ نہ ان کے کوئی انسانی حقوق ہیں اور نہ ہی ان سے کوئی رعایت کی جانی چاہیے۔ برادران اسلام اگر آپ بھی یہی سوچ رکھتے ہیں تو پھر معاف کیجیے، ہمیں اپنے فہم اسلام اور فہم قرآن پر نظر ثانی کی اشد ضرورت ہے۔ ہر گروہ میں سلیم الفطرت لوگ موجود ہوتے ہیں لیکن وہ خوف کی وجہ سے اپنے گروہ کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔ اگر ہم سب کو ایک ہی لائن میں لگا کر کافر قرار دے دیں گے تو کل قیامت کے روز ان میں سے کئی ہمارے گریبان پکڑ سکتے ہیں کہ اے اللہ ہم تو ان کی بات سن لیتے، لیکن انہوں نے ہمیں کافر کہہ کر دھتکار دیا تھا اور ہم تک دین پہنچانے کی کوشش ہی نہیں کی۔

ایک کافر وہ ہوتا ہے جو ضد اور ہٹ دھرمی سے بات کو سمجھ کر بھی مختلف تعصبات کی بنا پر رد کر دیتا ہے، اس پر تو کوئی دو رائے نہیں، لیکن عوام میں اکثر لوگ ایسے ہوتے ہیں جن تک دین صحیح طریقے سے پہنچا ہی نہیں ہوتا اور ہم انہیں کافر یا گمراہ قرار دے کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ کسی کو اپنی بات سمجھانا مقصود ہو تو اس کے ساتھ ہمدردی اور محبت کے جذبات رکھتے ہوئے ذاتی تعلق قائم کرکے ہی بات پہنچائی جا سکتی ہے، لیکن کسی کو یہ کہیں کہ تم کافر ہو اور ہمارا دین سچا ہے اسے مانو۔ وہ کبھی بھی اس طرز عمل سے ہماری بات سننے کو تیار نہیں ہوگا۔ اللہ نے ہمارے ذمے دین کی دعوت عام کرنے کا کام لگایا ہے لوگوں کو دین سے دور کرنے اور دھتکارنے کا کام چھوڑ کر اصل کام کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ کہیں یہ رویہ ہمارے لیے روز قیامت وبال کا باعث نہ بن جائے۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.