مجھے کہنا ہے - موسیٰ مجاہد

مجھے کہنا ہے
مسلم لیگ، پیپلزپارٹی اور اپوزیشن کی دیگر پارٹیوں کے ورکرز سے کہ جب اقربا پروری، سفارش، ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر ایم پی اے، ایم این اے اور سینیٹرز کو ٹکٹ دیے جاتے ہیں، جب پارٹی میں نظریاتی اور باصلاحیت ورکرز کے بجائے دو ٹکے پر بکنے والے پیشہ ور سیاستدان آگے آتے ہیں۔ تو پھر ایسے کرپٹ عناصر موقع ملنے پر پیسے کے لیے آپ کے دیے ہوئے ووٹ کا سودا کرکے پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دیتے ہیں۔

مجھے کہنا ہے
پی ٹی آئی کے ورکرز سے کہ اگر آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ 9 پاکباز روحیں اپوزیشن میں موجود تھیں، جنھوں نے اپنے خفیہ ضمیر کی آواز ووٹ دیا ہے تو ایسا کچھ نہیں۔ اگر یہ اتنے ہی باضمیر ہوتے تو قرارداد کی مخالفت اعلانیہ بھی کرتے اور پھر مخالفت میں ووٹ دیتے۔ جناب والا سینیٹرز کے ضمیر کی بولی لگی ہے۔ آپ سینیٹ کا الیکشن جیتے ہیں مگر اخلاقی طور پر آپ کو شکست ہوئی ہے۔ جس اخلاقی سیاست کا خان صاحب ساری زندگی پرچار کرتے رہے ہیں آج اس کا جنازہ نکالنے والے بھی وہ خود ہیں۔ دن رات کرپشن کا راگ الاپنے والے کمال ڈھٹائی اور بے شرمی سے مبارک باد دے اور وصول کر رہے ہیں۔

مجھے کہنا ہے
جماعت اسلامی کے ورکرز سے کہ الحمدللہ ہم خریدوفروخت کے اس گندے کھیل کا حصہ نہیں بنے۔ 64 سینیٹرز نے ہاتھ اٹھا کر اپوزیشن کی قرار داد کی حمایت کا اعلان کیا لیکن پھر خفیہ رائے شماری میں 9 سینیٹرز کے "ضمیر" جاگ اٹھے، 5 ایسے "درویش" بھی سامنے آئے جن کو پتہ ہی نہیں کہ ووٹ کی پرچی کیسے فولڈ کی جاتی ہے۔ ان 14 سینیٹرز کے خفیہ ضمیر نے اپوزیشن کے تمام 64 سینیٹرز کی وفاداری پر سوال اٹھا دیا ہے۔ اگر جماعت اسلامی کے سینیٹرز اجلاس میں موجود ہوتے تو ان 64 مشکوک سینیٹرز کی صف میں کھڑے ہوتے یا آئی ایم ایف کی نمائندہ حکومت کا ساتھ دیتے۔

یہ بھی پڑھیں:   اگر عمران خان تھک گیا تو - واصب امداد

مجھے کہنا ہے
پاکستانی قوم سے کہ پیشہ ور سیاستدانوں سے جان چھوڑا کر نظریاتی، باصلاحیت اور دیانت دار لیڈر شپ کو منتخب کریں۔ اس پارٹی کا ساتھ دیں جو نہ کسی خاندان کی جاگیر ہے اور نہ کسی پیسے والے کرپٹ سرمایہ دار کی۔ جہاں ایک عام سیاسی ورکر بھی قابلیت کی بنیاد پر ایم پی اے، ایم این اے اور وزیر بن کر ملک و قوم کی خدمت کر سکتا ہے۔