اپوزیشن صادق سنجرانی کے خلاف کیوں ہے؟ عامر ہزاروی

صادق سنجرانی نے جیتنا تھا جیت گئے۔ جو لا سکتے ہیں وہ بچا بھی سکتے ہیں۔ ساری اپوزیشن مل بھی جائے تو حکومت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ اپنے ہی اراکین دغا دے جائیں تو گلہ کسی اور سے کیوں؟

سوال اہل جمہور سے کرنا چاہیے۔ کیا کوئی دوست بتا سکتا ہے کہ اپوزیشن صادق سنجرانی کے خلاف کیوں ہے؟ وہ کیوں اسے ہٹانا چاہتی ہے؟ اس کے خلاف کون سی چارج شیٹ ہے؟ وہ کرپٹ ہے؟ یا وہ ایوان نہیں چلا پاتا؟ آخر کوئی سبب تو ہوگا؟

کیا پیپلز پارٹی اس قابل ہے کہ اس پر اعتماد کیا جا سکے؟ یا سوال بدل لیتے ہیں کیا اپوزیشن اس قابل ہے کہ آج اس سے ہمدردی کی جا سکے؟ یہی زرداری تھا جس نے بلوچستان حکومت گرائی۔ جس نے سنجرانی کو لایا، جو کہتا تھا نواز شریف وفاق دشمن ہے، جو بول ٹی وی پر اینکر بن گیا تھا۔ یہی پیپلز پارٹی تھی جس نے اپوزیشن کے امیدوار کو وزارت عظمی کا ووٹ نہیں دیا۔ اسی پیپلز پارٹی نے مولانا فضل الرحمن کو صدارت کا ووٹ نہیں دیا۔ آج یہ جمہوریت کی چچی بن گئی، کیوں ؟

آپ اندازہ لگائیں کہ عدم اعتماد کے وقت سارے اراکین کھڑے ہوئے۔ جب ووٹ دیے تو چودہ ووٹ کم نکلے۔ سینیٹرز کے ووٹ مسترد ہوئے۔ سینیٹرز وفاق کی علامت ہوتے ہیں۔ وفاق کی علامتیں بک جائیں تو کیا ہو سکتا ہے؟

اہل جمہور اس قابل نہیں کہ جنگ لڑ سکیں۔ اور نہ ہی اس قابل ہیں کہ ان پر اعتماد کیا جا سکے۔ جنگ اصولوں کے تحت لڑی جاتی ہے۔ یہاں زرداری قید ہوا تو پھر جنگ شروع کر دی گئی، پھر جمہوریت کا راگ الاپنا شروع کر دیا گیا۔ مولانا ہارے تو جمہوریت کے چمپیئن بن گئے۔ نواز شریف قید ہونے کے باوجود بھائی کو رابطہ کار رکھے ہوئے ہے۔ صلح صفائی کے لیے چوہدری نثار کی جگہ مشاہد حسین سید آ گئے۔ حکومت کے لیے وہی لوگ لیے جو مشرف کے ساتھ تھے جو مشرف کو بھائی کہتے تھے۔ اپنے وفادار لوگ دیوار سے لگائے رکھے۔ جب پارٹیوں کے اندر جمہوریت نہیں ہوگی۔ جب سیاست مفادات کے تابع ہوگی تو پھر نتائج یہی آئیں گے جو آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سول بالادستی کا جنازہ - ارشاد احمد عارف

مجھے قطعا کوئی دکھ نہیں۔ طاقت ور نے جیتنا تھا جیت گئے۔ انہوں نے بتا دیا کہ ہم جسے لا سکتے ہیں، اسے بچا بھی سکتے ہیں۔ پارٹیاں آپ کی ہیں بندے ہمارے ہیں۔ اب بھگتیں۔