چیئرمین سینیٹ الیکشن، 5 سیدھے سوال - زبیر منصوری

یہاں کوئی اکثریت و عسکریت نہیں۔ سب عسکریت ہی عسکریت ہے، بس پرانی، نئی، آج کے مزارع یا ماضی کے کمی کمیں کا فرق ہے۔ سب اپنی مارکیٹ ویلیو کے چکر میں ہیں، ریٹ بڑھانے بلکہ فروخت ہوکر پیسے کمانے کے لیے بھی منڈی سجائی جاتی ہے۔

ہمارے بختیار معانی بھائی کے الفاظ میں جب تک چوری اور جمہوریت، احتساب اورانتقام، مجھے کیوں ہروایا؟ پر انا کا مسئلہ اور اصولی صاف ستھری جمہوریت، اور سیاست اور اسٹیبلشمنٹ کو الگ نہیں کیا جاتا، یہ ڈرامہ چلتا رہے گا۔

شاباش جماعت اسلامی آپ نے اس گندے کھیل سے خود کو صاف الگ رکھا اور پہلے ہی دن سوال اٹھایا کہ

1) جواس چیئرمین کو لانے والے تھے، اب وہ اچانک ہٹانے والے کیوں ہو گئے؟ کرپشن چھپانے یا ابا بچانے کے لیے نا؟ پہلے ذراچئرمین لانے کا معاہدہ سامنے لائیں نا!

2) جو اب چیئرمین کےخلاف ہیں، وہ بتائیں کہ اس سب ڈرامہ سے ملک و قوم کا کیا فائدہ وابستہ ہے؟ عام آدمی مر رہا ہے، بھوک و مہنگائی سے آپ الیکشن الیکشن کھیل رہے ہیں، کیوں؟

3) حکومت بتائے کہ آدھے گھنٹے میں 14 سینیٹرز کا ضمیر کس چمک سے جاگا؟ (اب یہ ایمانداری و باضمیری اور چیئرمین کے اخلاق والا منجن اپنے ورکروں کو بیچیے گا)

4) اگلا سوال اس نظام پر بنتا ہے کہ خفیہ رائے دہی کیوں برقرار رکھی گئی ہے؟ ہارس ٹریڈنگ کے لیے ہی نا؟

اور پھر سب سے اہم بات۔۔۔!

5) جس ملک کے سینیٹرز کا اخلاقی لیول یہ ہو، وہاں ٹھیلے والے کو کم تولنے پر سزا دینا بنتا ہے؟

دوستو!
مسئلہ کا حل بس معاشرے کی اخلاقی تعمیر سے ہے، ورنہ چہرے بدلتے رہیں گے، باقی سب کچھ ویسا ہی رہے گا۔۔!

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.