سینیٹ اور کرپشن، تاریخ کیا کہتی ہے؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

پاکستان کے پہلے دستور (1956ء) کی رو سے پارلیمنٹ کا ایک ایوان تھا اور اس میں دونوں صوبوں (مشرقی و مغربی پاکستان) کی برابر سیٹیں تھیں۔ (آبادی کی بنا پر مشرقی پاکستان کی اکثریت کے مقابلے کے لیے مغربی پاکستان کے صوبوں اور ریاستوں کو 1955ء میں ملا کر ایک یونٹ، یعنی ایک صوبہ، بنا دیا گیا تھا۔) 1962ء کے دستور کے تحت بھی یہی بندوبست رہا۔

1973ء کے دستور میں پارلیمنٹ کے دو ایوان بنا دیے گئے۔ ایوانِ زیریں، قومی اسمبلی، کےلیے اصول یہ طے پایا کہ یہاں سیٹیں آبادی کی بنیاد پر دی جائیں گی اور ایوانِ بالا، سینیٹ، کےلیے اصول یہ طے پایا کہ یہاں چاروں صوبوں کو برابر کی نمائندگی دی جائے گی۔ گویا سینیٹ کو وفاق کی علامت بنادیا گیا۔

تاہم سینیٹ کو وفاق کی علامت بننے میں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا:
مثلاً پاکستان میں صرف صوبے ہی تو نہیں تھے؛ قبائلی علاقے بھی تھے۔ چنانچہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کےلیے الگ سیٹیں مختص کی گئیں جبکہ صوبوں کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کےلیے ایسا کوئی بندوبست نہیں کیا گیا کیونکہ انھیں صوبوں کا ہی حصہ مان لیا گیا۔ (پچیسویں ترمیم کے وقت جب قبائلی علاقے صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کیے گئے تو قبائلی علاقوں کی مخصوص نشستیں ختم ہوگئیں۔)

پھر وفاقی دار الحکومت کےلیے نمائندگی کا مسئلہ اور پھر بالخصوص جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کے دور میں اور پھر اٹھارویں ترمیم کے موقع پر ٹیکنوکریٹس ، علما، خواتین اور اقلیتوں کےلیے مخصوص نشستوں کا معاملہ یوں اٹھا کہ سینیٹ میں چار صوبوں کی برابر کی نمائندگی کے اصول کئی طریقوں سے پامال ہوگئے۔ یوں ہوتے ہوتے وفاق کی علامت والی بات بیچ میں کہیں رہ گئی اور سینیٹ میں دیگر امور کا بھی خیال رکھا جانے لگا۔

امریکا میں سینیٹ میں تمام ریاستوں کی برابر کی نمائندگی ہوتی ہے (ہر ریاست کےلیے دو سیٹیں) اور سینیٹرز کا انتخاب براہ راست ہوتا ہے۔ پاکستان میں سینیٹ کا تصور تو امریکا سے لیا گیا لیکن انتخاب کےلیے براہ راست عوام کے ووٹوں کے بجاے طریقِ کار یہ طے پایا کہ صوبوں کی چودہ نشستوں (اور اسی طرح علما، ٹیکنوکریٹس و اقلیتوں کی مخصوص نشستوں) پر انتخاب صوبائی اسمبلی کے ممبران کریں گے۔ اس طرح کرپشن کےلیے باقاعدہ گنجائش پیدا کرلی گئی۔ ذرا سوچیے کہ صوبہ پنجاب سے چودہ سینیٹرز کا انتخاب اگر براہ راست عوام کے ووٹوں سے ہوتا تو کتنی بڑی کیمپین کی ضرورت ہوتی لیکن جب چودہ نشستوں کےلیے پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے 371 ارکان کو الیکٹورل کالج کی حیثیت حاصل ہوگئی تو ایک نشست کےلیے 27 ارکان اسمبلی کا ووٹ کافی ہوا۔ گویا پنجاب سے سینیٹ کے الیکشن کےلیے امیدوار نے 27 ارکان ہی پر محنت کرنی ہے اور اگر انتخاب بلوچستان سے ہو تو صرف 5 ارکان اسمبلی ہی کی ضرورت ہوتی ہے (بلوچستان اسمبلی میں 65 ارکان ہوتے ہیں اور انھوں نے سینیٹ کےلیے 14 ارکان کا انتخاب کرنا ہوتا ہے)۔ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ سب سے زیادہ بولیاں بلوچستان کی اسمبلی میں ہی لگتی ہیں اور "نادیدہ قوتوں" کا پسندیدہ پلے گراؤنڈ بلوچستان اسمبلی ہی ہوتی ہے جہاں عام طور پر کسی خاص سیاسی پارٹی کی اکثریت بھی نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں:   شریف برادران کی غیرموجودگی میں ن لیگ کون چلائےگا؟

سینیٹرز کو عوام منتخب نہیں کرتے اور عوام کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ سینیٹرز کو ملنے والے فنڈز کہاں اور کیسے استعمال ہوتے ہیں؟ ایم این ایز اور ایم پی ایز کو تو لوگوں سے ملنا پڑتا ہے اور اگلے الیکشن کے موقع پر بہت کچھ دیکھنا اور سننا بھی پڑتا ہے لیکن سینیٹرز اس جھنجھٹ سے بے نیاز ہوتے ہیں۔ ہمارے مردان سے الحاج محمد علی خان ہوتی سالہا سال سینیٹر بلکہ سینیٹ میں قائد ایوان رہے اور بہت ہی شریف اور صاحب علم آدمی تھے لیکن مردان میں ان کے حجرے کے آس پاس محلوں میں بھی کسی کو علم نہیں ہوتا تھا کہ سینیٹر صاحب کب آئے، کب گئے اور انھوں نے اس دوران میں کیا کچھ کیا؟

پھر چونکہ سینیٹرز کا کوئی تعلق عوام سے نہیں ہوتا، اس لیے عوام کے سامنے جوابدہی کی انھیں فکر ہی نہیں ہوتی۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان میں سینیٹ خالص طبقاتی تقسیم کی علامت ہے جیسے کسی زمانے میں برطانیہ میں ہاؤس آف لارڈز ہوتا تھا (بلکہ اب بھی کسی حد تک ہے)۔ آخر کوئی تو وجہ ہوتی ہے کہ امریکا سے آنے والے سرمایہ کار (یا سرمایہ دار) سینیٹر بننے کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کےلیے کیا سیکولر اور کیا مذہبی، سب جماعتوں کے دروازے کھلے ہوتے ہیں۔ (اعظم سواتی، طلحہ محمود اور کئی دیگر مثالیں فوری طور پر ذہن میں آئی ہیں۔)

پھر یہ بھی دیکھیے کہ سینیٹ اگر صوبوں کی نمائندگی کے اصول پر قائم ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی گھر کے تین افراد سینیٹ کے ارکان بن جائیں؟ (ایک زمانے میں صوبہ سرحد سے سینیٹر گلزار، سینیٹر عمار اور سینیٹر وقار ہوتے تھے۔) کیا یہ گھر کی نمائندگی ہے یا صوبے کی؟

اس معاملے میں بھی سیکولر اور مذہبی جماعتیں یکساں ذمہ دار ہیں۔ 2006ء میں سینیٹ کے انتخاب کے موقع پر ایم ایم اے نے پروفیسر خورشید صاحب کو صوبہ سرحد سے سینیٹ کی جنرل سیٹ کےلیے نامزد کیا ۔ پروفیسر صاحب کی اہلیت، صلاحیت، دیانت سب کچھ ہر شک و شبے سے بالاتر ہے، لیکن کیا وہ صوبہ سرحد کے نمائندے کی حیثیت رکھتے تھے؟

یہ بھی پڑھیں:   دھرنے کے مقاصد کیا ہیں - مسزجمشیدخاکوانی

ایسے ادارے کےلیے انتخاب بہت بڑی سرمایہ کاری کے بغیر ممکن نہیں ہوتا اور سرمایہ کار تو سرمایہ کاری منافع کے لیے ہی کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سینیٹ کے ادارے کی تعمیر میں ہی خرابی کی صورت مضمر ہے۔ چنانچہ آج اگر بعض سرمایہ کاروں نے منافع کا سنہرا موقع دیکھ کر ووٹ خراب کیے، یا پارٹی لائن کی مخالفت کی، تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟ آخر پارٹی نے بھی ان کا انتخاب کوئی میرٹ پر تھوڑی کیا تھا۔ کل پارٹی نے منافع لیا، آج سینیٹر نے لے لیا۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.