یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

چیئرمین سینٹ کے حوالے سے ہونے والی ووٹنگ کو اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ صرف ایک منصب پر تبدیلی کا معاملہ تھا تو اسے ہماری سادہ لوحی پر محمول کیا جائے گا۔ یہ اس سے کہیں زیادہ بڑا معرکہ تھا اور اس میں بہت High Stakes involved تھے۔ یہ دراصل اس کشمکش کا اگر فائنل نہیں تو سیمی فائنل ضرور تھا جس میں ایک جانب "ووٹ کو عزت دو" کی بات کہہ کر دیگر سب کو غیر متعلق کرنے کا کہا گیا، جبکہ دوسری طرف مطالبہ تھا کہ ہمیں ذرا زیادہ عزت دو۔

بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد بھی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو عام انتخابات میں بھی یہی بات دہرائی گئی اور پھر اب چیئرمین سینٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ پیغام یہ ہے کہ نمبرز کا زعم مت رکھیے، اکثریت تو برف کی اس سِل کے مانند ہے جسے سورج اپنی آنچ سے جب چاہے پگھلا دے۔ اقبال سے معذرت کے ساتھ ۔۔۔۔ اپنی سیاست پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر، خاص ہے ترکیب میں ۔۔۔۔۔ ! یہاں محض عددی اکثریت حاصل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ تنہا پرواز پر نکل پڑیں، من چاہے فیصلے کرنے لگیں۔ اگرچہ ماضی کے دو مذکورہ واقعات بھی کچھ کم نہ تھے لیکن کل والا واقعہ تو باقاعدہ شہ مات کہا جا سکتا ہے۔ بندے حاضر اور ووٹ غائب۔ اکثریت، پانی کا بلبلہ !

بنیادی سوال یہ ہے کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں 90 کی دہائی ایک بہت خاص دور تھا۔ سن پچاسی کی غیرجماعتی بنیادوں پر منتخب اسمبلی نے آٹھویں آئینی ترمیم کی شق بی 2 / 58 کے ذریعہ پاکستان میں ایک ہائبرڈ نظام حکومت متعارف کروایا۔ یہاں بنیادہ نظام تو پارلیمانی رہا لیکن اختیارات میں توازن کے نام پر چند کلیدی اختیارات میں ایوان صدر کو بھی شراکت دے دی گئی۔ ان میں ایک تو مسلح افواج کے سربراہان کی تقرری کا معاملہ تھا اور دوسرا یہ کہ اسی اٹھاون دو بی کے تحت صدر مملکت کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ اپنی صوابدید پر یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اب وفاقی حکومت کو آئین کے تحت برقرار رکھنا مشکل ہے سو وہ حکومت اور قومی اسمبلی کو بیک جنبش قلم برخاست کر سکتے ہیں۔

اس شق میں پوری پارلیمانی جمہوریت کو بظاہر ایک شخص کی صوابدید کا رہین بنا دیا گیا۔ توجیہ یہ دی گئی کہ اس طرح مارشل لاء کا راستہ رک گیا، کیونکہ اب ایک سیفٹی والو میکانزم وجود میں آگیا۔ یعنی حکومت کو فارغ کرنے کے لیے اب باقاعدہ مارشل لاء کی ضرورت نہیں رہی۔ ہم نے یہی دیکھا کہ نوے کی دہائی کے بالکل آخر تک ملک میں کوئی مارشل نہیں آیا، یہ الگ بات کہ کسی منتخب حکومت نے بھی اپنی آئینی معیاد پوری نہیں کی۔

اسٹیبلشمنٹ کا تعلق اب براہ راست ایوان صدر سے ہو گیا اور وہاں سے معاملات چلائے جانے لگے۔ پھر ہم نے دیکھا کہ اس آئینی شق سے کس طرح محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف صاحب کی حکومتیں باری باری گرائی گئیں۔ یہی نہیں، ان دونوں کے تعلقات بھی حد درجہ خراب رہے اور احتساب کے نام پر ایک دوسرے کے خلاف فوجداری مقدمات کے انبار لگا دیے گئے۔ اسٹیبلشمنٹ اس صورتحال میں بادشاہ گر تھی اور سب ٹھیک چل رہا تھا ۔۔۔ اسٹیبلشمنٹ کے لیے۔

یہ بھی پڑھیں:   دھرنے کے مقاصد کیا ہیں - مسزجمشیدخاکوانی

پھر نواز شریف نے اپنے دوسرے دور حکومت میں بینظیر بھٹو کی حمایت سے آٹھویں ترمیم کو ختم کر دیا۔ یہ ایک بڑا دھچکہ تھا، تاہم اسٹیبلشمنٹ خاموش رہی۔ اس کے بعد پہلے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو ہٹانے اور بعد ازاں یکے بعد دیگرے صدر مملکت اور پھر آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کے استعفی نے اسٹیبلشمنٹ کے ان خدشات کی تصدیق کر دی کہ نواز شریف اب خود کو کچھ زیادہ ہی "بااختیار" سمجھنے لگے ہیں اور اب وہ ایک Bull in china shop بن رہے ہیں۔

کارگل کی جنگ اور اس کے نتیجہ سے نواز شریف اور فوج ایک دوسرے سے مزید بدگمان ہوگئے۔ پھر 12 اکتوبر آ گیا اور اٹھاون دو بی کا "سیفٹی والو" موجود نہ ہونے کی وجہ سے مارشل لاء نافذ ہو گیا۔ اٹھاون دو بی کی اسٹیبلشمنٹ کے لیے کیا اہمیت ہے؟ اس بات کو سمجھنے کے لیے یہ کافی ہے کہ جنرل مشرف کے زیر انتظام سترھویں آئینی ترمیم میں اسے ایک بار پھر آئین کا حصہ بنا دیا گیا۔

اس بیچ نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کی جلاوطن قیادت کی ملاقاتوں کے بعد ان دونوں کے مابین میثاق جمہوریت طے پاگیا جس کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ آئندہ یہ دونوں پارٹیاں اسٹیبلشمنٹ کا آلہ کار نہیں بنیں گی اور نہ ہی اس سے درپردہ معاملات کریں گی۔ دوسرا بڑا کام یہ ہوا کہ زرداری صاحب کی صدارت کے دور میں 18ویں آئینی ترمیم پاس کر لی گئی جس میں اٹھاون دو بی کو ایک مرتبہ پھر آئین سے دیس نکالا مل گیا۔ یہی نہیں، مالی اور انتظامی اختیارات کے حوالے سے بھی صوبوں کو بہت سی منتقلیاں ہوئیں۔ صوبے مضبوط ہوئے تو تاثر ابھرا کہ مرکز کمزور ہوا ہے۔ کم از کم مالی معاملات میں تو مرکز کی حالت بالکل غیر ہونے لگی، کیونکہ اسے ہر صورت صوبوں کو پیسے فراہم کرنے ہوتے تھے، اس سے قطع نظر کہ وہ ان وسائل کا بندوبست کہاں سے کرتا ہے۔ یوں مرکز پر قرضوں کا بوجھ بڑھنے لگا۔ ایسا بوجھ جسے کم کرنا صوبوں کی ذمہ داری نہ تھی، حالانکہ یہ ان ہی کی وجہ سے پیدا ہوا۔

رہی سہی کسر نواز شریف کے تیسرے دور حکومت میں پوری ہوگئی جب بطور وزیر اعظم نواز شریف ایک اینٹی اسٹیبلشمنت رویہ اپنائے رہے۔ کم از کم اسٹیبلشمنٹ کا تاثر ان کے حوالہ سے یہی رہا۔ نواز شریف کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کا تعلق صحیح معنوں میں ایک Love Hate Relationship کا غماز رہا۔ نواز شریف پر وہ بہت مہربان رہے کیونکہ وہ اسے ایک کامیاب پراڈکٹ سمجھتے تھے لیکن اس سے ٹکراؤ بھی اسی قدر شدید رہا۔ یہ صورتحال آج بھی ایسے ہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ریاستِ مدینہ اور قول و فعل - راجہ کاشف علی خان

دوسری جانب اس کھیل کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ میثاق جمہوریت کی وجہ سے دونوں پارٹیوں کا باہمی ٹکراؤ اور ایک دوسرے کی جانب معاندانہ رویہ تو بہت کم ہو گیا، البتہ اسٹیبلشمنٹ سے پس پردہ تعلقات دونوں نے برقرار رکھے۔ یہ صورتحال اگر اسٹیبلشمنٹ کے لیے پریشان کن نہیں تھی تو آئیڈیل بھی نہیں تھی، کیونکہ اس رویہ سے دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کو اکاموڈیٹ کر کے اپنی حکومتیں چلا رہی تھیں اور انھیں ایک دوسرے کے خلاف میدان میں اتارنا ممکن نہیں رہا تھا۔

اب آتے ہیں اس جانب کہ اس وقت جو ہو رہا ہے اس کا مقصد کیا ہو سکتا ہے؟

بظاہر اس سب کا پہلا مقصد یہ ہے کہ سیاست کو 90 کی دہائی میں واپس لے جایا جائے، یعنی حکومت اور اپوزیشن کے مابین شدید کشمکش اور محاذ آرائی ہو۔ جہاں ایسا ہوگا، وہاں پھر ایک ثالث کی گنجائش خودبخود پیدا ہو جاتی ہے۔ اس ضمن میں سن 90 کے نواز شریف کی جگہ عمران خان ہیں۔ بینظیر بھٹو کی جگہ ن لیگ بھی ہو سکتی ہے اور پیپلز پارٹی بھی۔ اس پوزیشن کے لیے مسابقت کی دوڑ میں یہ بھی ممکن ہے کہ یہ پارٹیاں ایک دوسرے سے بھی الجھنا شروع کر دیں۔ بہرحال، اس وقت اس پوزیشن کے لیے پیپلزپارٹی کے امکانات زیادہ ہیں کیونکہ اسٹیبلشمنٹ مریم نواز سے ڈیل کرنے میں، بلکہ ان پر بھروسہ کرنے پر تیار نظر نہیں آتی۔ شہباز شریف اپنی بھرپور کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کی ہر کوشش فی الحال بے ثمر نظر آ رہی ہے۔

جو بھی اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کرے گا، اسے دو اور باتوں پر بھی کچھ نا کچھ یقین دہانی کرانا ہوگی، اٹھارویں ترمیم کے کچھ حصوں میں ترمیم اور اٹھاون ٹو بی یا اس سے ملتے جلتے کسی بندوبست پر اتفاق۔ پارٹی قیادت پر مقدمات اس ضمن میں تعاون کے حصول میں خاصے ممد و معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ نے اپنے "عزم" (طاقت) کا بھرپور اظہار کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دونوں بڑی پارٹیوں میں سے پہلے کون اس سے ہاتھ ملانے پر تیار ہوتا ہے، اور کب؟ ویسے ایک سیفٹی میکانزم اور بھی نظر آ رہا ہے اس وقت، خان صاحب کو پارٹی مضبوط کرنے کے وہ مواقع حاصل نہیں کہ وہ نواز شریف کی طرح اس میدان میں براہ راست اپنی طاقت میں اضافہ کر سکیں۔ انہیں ہر بات کے لیے ادھر ہی دیکھنا ہوگا۔ اب جس پیج پر حکومت اور فوج اکٹھے ہوں گے وہ صفحہ، بلکہ وہ کتاب ہی اسٹیبلشمنٹ کی ہوگی۔

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.