مولانا! یہ کہانی چل چکی ہے - عامر ہزاروی

کل ایک دوست ملنے آیا تو اس نے بیٹھتے ہی کہا کہ حکومت مولانا فضل الرحمن سے ڈری ہوئی ہے۔ میڈیا کہہ رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے پاس تیس ہزار کارکن ہیں جو مولانا کی فوج ہیں۔ وہ تربیت یافتہ ہیں اور مولانا پر تن من دھن قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ دوم یہ کہ مولانا کے کارکن وفادار ہیں، وہ ٹکرانے سے گریز نہیں کرتے، پولیس ان پر ہاتھ ڈالنے سے خوفزدہ ہوتی ہے ، یہ لوگ باہر نکلے تو ملک کا نظام جام ہو جائے گا۔

میں نے اپنے دوست سے کہا کہ کچھ دن پہلے میری ایک کالعدم جماعت کے ایک کارکن سے ملاقات ہوئی تو میرے دوست نے اس کا تعارف کروایا کہ یہ فلاں جماعت کا پرجوش کارکن ہے۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا کہ یہ لوگ تو خطرناک ہیں، ان سے بچنا چاہیے۔ کالعدم جماعت کا کارکن مسکرایا اور کہا کہ الحمدللہ ہم خطرناک ہیں، دنیا ہم سے ڈرتی ہے اور ہمیں اس پر فخر ہے۔

پہلے خیال آیا کہ چپ رہا جائے۔ اس سادہ لوحی پر اگر ایک شخص خوش ہے تو اسے خوش رہنے دیا جائے۔ پھر جی میں آیا بولنا چاہیے اور جو میں سمجھا ہوں اسے سمجھا دینا چاہیے۔ اس پر عرض کیا: دیکھو بھائی! آپ قطعا خطرناک نہیں، آپ کی حیثیت بھرے ہوئے غبارے سے زیادہ نہیں، پھونک بھری جائے تو غبارہ پھول جاتا ہے۔ یہ آپ کو خطرناک کہنا سوچی سمجھی رائے ہے۔

خادم رضوی کی تحریک دیکھ لیں۔ یہ لوگ چند ماہ میں اٹھے اور پورے ملک میں پھیل گئے۔ لوگ خوفزدہ ہو گئے کہ ان سے بچ کر رہنا چاہیے۔ وہ سمجھے کہ ہم اصل طاقت ہیں، لوگ ہم سے ڈرتے ہیں۔ وہ بھول گئے کہ ہم غبارے ہیں، آسیہ مسیح کی رہائی کے بعد وہ باہر نکلے، آرمی چیف و ججز کے خلاف فتوے دیے۔ پھر کیا ہوا ؟ سب دھر لیے گئے، جیل کے پیچھے ڈالا گیا تو ہوش ٹھکانے آ گئی۔ ایک صاحب نے معافی مانگی اور دوسرے کو پھر استعمال کے لیے چھوڑ دیا۔ اب انہیں سمجھ آ گئی کہ طاقت کس کے پاس ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   مولانا فضل الرحمن کے پاس آپشنز کیا ہیں؟ اعزاز سید

یہ خطرناک، شدت پسند، وفادار، پولیس ان سے ڈرتی ہے۔ یہ سب اس لیے ہوتا ہے کہ آپ کی حمایت کم کی جائے۔ کل جب آپ پر ہاتھ ڈالا جائے تو کوئی آپ کی حمایت نہ کرے۔ خادم رضوی کے باب میں یہی ہوا ، یہ گرفتار ہوئے تو لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔

میں نے اس کارکن سے کہا: آپ ملک اسحاق کو جانتے ہیں، ملک اسحاق کے نام سے لوگ خوف کھاتے تھے، پھر اسی ملک اسحاق کو بیٹوں سمیت مار دیا گیا، لاکھوں کارکن موجود تھے، کوئی نہیں بولا۔ طاقت اسلحے میں نہیں آواز میں ہوتی ہے۔ دنیا ظالم کے ساتھ نہیں ہوتی، دنیا مظلوم کے ساتھ ہوتی ہے۔ حکومت کے لیے تشدد روکنا مسئلہ نہیں ہوتا، مسئلہ آواز روکنا ہے۔ طاقت اسلحے میں نہیں آواز میں ہوتی ہے۔ ہم نے اسلحہ کو طاقت سمجھ رکھا ہے۔ ہم دلفریب نعروں میں آ جاتے ہیں۔ دلفریب نعرے مروا دیتے ہیں۔ ہو سکے تو اس پر سوچنا۔ جذباتی لوگوں کا عقل سے تعلق نہیں ہوتا لیکن میں پھر بھی خوش گمانی کا اظہار کرتا ہوں کہ آپ سوچیں گے!

یہی باتیں جمعیت کے دوست سے کہیں کہ اس وقت میڈیا میں جو چل رہا ہے یہ ٹھیک نہیں۔ تیس ہزار تربیت یافتہ لوگوں کا شوشہ چھوڑنا، شدت پسندی کی بات کرنا، پولیس کا جمعیت والوں سے ڈرنا پروپیگنڈے کی ابتداء ہے۔ آپ کے خلاف مہم شروع ہو چکی ہے۔ حکومت کے لیے مذہبی بنیادوں پر ہاتھ ڈالنا آسان ہوتا ہے۔ دنیا اس معاملے میں حکومت کے ساتھ ہوتی ہے۔ پبلک اہل مذہب کے خلاف ہوتی ہے۔ میڈیا پروپیگنڈے کا کردار ادا کرتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں شور مچاتی ہیں کہ حکومت کارروائی کیوں کرتی؟ ہمیں اس دھوکے سے باہر نکلنا چاہیے کہ دنیا ہم سے خوف کھاتی ہے۔

مولانا فضل الرحمن منجھے ہوئے سیاست دان ہیں۔ انہوں نے اپنی سیاسی حیثیت تو ثابت کر دی لیکن انہیں اس طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔ دھاندلی کو ناموس رسالت سے جوڑنا، حکومت مخالف تحریک کو مذہبی رنگ دینا نقصان کا سبب بنے گا۔ مولانا کو چاہیے کہ وہ اپنی پالیسی پر نظر ثانی کریں اور میڈیا میں آنے والی چیزوں کو روکیں، اس کی نفی کریں اور آئین و قانون کے دائرے کی بات کریں۔ یہ نہ ہو کہ یہ چیزیں گلے پڑ جائیں۔ طاقت آئینی و قانونی دائرے میں ہے۔ سیاسی معاملے کو مذہبی نہ بنایا جائے۔