زندہ وہی ہے جس کی قبر زندہ ہے- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

کالم کے عنوان میں جو بات ہے وہ میرے محبوب اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے مگر نوحہ پڑھا ہے برادرم حسن نثار نے۔ قبروں کا اور خبروں کا۔ قبریں اور خبریں اس زمانے میں ایک سی ہو گئی ہیں۔ نہ اچھی خبریں ملتی ہیں پڑھنے کو اور نہ زندہ قبریں ملتی ہیں دیکھنے کو۔ بڑے اور امیر لوگوں کی قبریں کہاں ہیں ؟ کوئی وہاں تک جاتا نہیں ہے۔ شہر لاہور میں کیسے کیسے نامور لوگ دفن ہیں مگر زندہ قبر ایک ہی ہے اور وہ داتا گنج بخش کی ہے۔ حیرت یہ ہے کہ کئی صوفی بھی یہاں ہیں۔ ان کے لیے عزت دل میں ہے۔ مگر اُن کی قبریں بھی ہیں مگر بہت کم لوگوں کو معلوم ہے۔ بڑے بڑے بادشاہوں ، حکمرانوں ، امیر کبیر اور وزیر شذیر لوگوں کی قبروں کا کیا پتہ؟ ملکۂ ہندوستان حسن و عشق کی زندہ داستان نور جہاں کی قبر کا بہت لوگوں کو پتہ نہیں۔ جن کو پتہ ہے وہ کبھی وہاں گئے نہیں۔ شاعر تلوک چند نے نور جہاں کی قبر کا نوحہ لکھا تھا۔ وہ حرفِ آخر سے قبروں کا نوحہ لکھتا خوب ہے۔ کالم کی شکل میں دانشور کالم نگار حسن نثار نے یہ نوحہ لکھا ہے اس نے بڑی بڑی قبروں اور آجکل کی خبروں کو ایک کر د یا ہے۔ کالموں کو اس کے ساتھ شامل کرنا مناسب نہ تھا۔ حسن بھائی بادشاہ آدمی ہے۔ بہت زبردست کالم نگار ہے مگر ہم سب کے کالم کس کھاتے میں آتے ہیں؟

انہوں نے بڑے لوگوں کے گھروں کی بات کی ہے۔ یہ تو ٹھیک ہے کہ ان گھروں اور نوحوں میں فرق نہیں ہے۔ مگر منٹو ، فیض اور قاسمی کی قبر کا بھی پتہ نہیں ہے۔

مرنے کے بعد تو قبر ہی انسان کا گھر ہوتا ہے۔ جن کی قبر زندہ ہوتی ہے۔ اس کے گھر کے بارے میں فکر مندی کیوں ہے؟ وہ شعر تومیں نے لکھا ہی نہیں جو میں آپ کو سنانا چاہتا ہوں۔

نہ گور سکندر نہ ہے قصر دا را

مٹے نامیوں کے نشان کیسے کیسے

یہ بھی نوحہ ہے کہ کسی مشہور آدمی کی قبر کا ہی کسی کو پتہ نہ ہو۔ ہمیں تو یہ بھی علم نہیں کہ سکندر کی قبر کس شہر میں ہے۔

مگر ہم نے اس بڑے آدمی کو یاد رکھا۔ اسے سکندر سے سکندر اعظم بنا دیا۔ وہ مسلمان نہ تھا مگر ہمارے بہت لوگ اس کا ذکر عقیدت سے کرتے ہیں اور اسے مسلمان سمجھتے ہیں۔ قبر نہ بھی ملے کسی ایسے آدمی کی مگر وہ زندہ رہتا ہے۔ اس کا ذکر رہتا ہے۔ اسے یاد کیا جاتا ہے۔ بادشاہوں جرنیلوں کا تو کیا ذکر ہے۔

ہم تو میر تقی میر کو نہیں بھولے ۔ ہمیں اس کی قبر کی کیا ضرورت ہے۔

باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں نہ ا یسی سُنئے گا

کرتے کسی کو سُنئے گا تو دیر تک سردُھنئے گا

بڑے لوگوں کے گھروں کا نوحہ بھی پڑھا گیا ہے۔ کئی ایسے بھی تھے جن کا گھر ہی نہ تھا۔ وہ کبھی کہاں کبھی کہاں رہتے تھے۔ اُن کی قبروں ا ور ان کے گھروں سے ہمیں کیا لینا دینا۔ اُن کے ذکر کو زندہ کرنا چاہئے۔ ان کی باتوں شعروں کارناموں کو یاد رکھنا چاہئے۔ اس یاد کو بڑھانا چاہئے۔

آج بھی نوائے وقت ایک قومی اخبار ہے۔ اس کی پیشانی پر آج بھی بانی کے طور پر حمید نظامی، معمار کے طور پر مجید نظامی اور ایڈیٹر کی حیثیت سے رمیزہ مجید نظامی کا نام لکھا ہوتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ نوائے وقت ہمیشہ رہے گا پاکستان بھی ہمیشہ رہے گا۔ حمید نظامی نے قائد اعظم کی ہدایت پر نوائے وقت شروع کیا تھا۔

میں انگلستان گیا تو میرے میزبان دوست مجھے شکسپیئر کے مزار پر لے گئے۔ عام سی قبر تھی مگر بہت شاندار۔ میں حیران ہوا کہ وہاں کوئی آدمی نہ تھا کوئی انگریز بھی نہ تھا۔ ایک میم وہاں پھول چڑھا رہی تھی اور رو رہی تھی۔ میں نے سوچا کہ وہ شکیسپیئر کی کوئی رشتہ دار ہو گی۔ اس خاتون کے ہاتھوں میں پھول تھے۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے دل میں شکسپیئر کے لیے پھول ہیں۔