نیکی کا ایک عجیب لطف - رمشاجاوید

ہم دوسری منزل پر خانہ کعبہ کا طواف کررہے تھے۔ لوگوں کا جم غفیر تھا۔ ایک جانب ویل چئیر بھگاتے عربی اور دوسری جانب رک رک کر دھکے کے سہارے چلتے حاجی۔ ایسے میں ہمیں اپنے دائیں جانب ایک مرد کی پرشان حال آواز سنائی دی وہ بلند آواز سے " میمونہ میمونہ " پکار رہا تھا۔ ہم نے دل میں سوچا
"یقینا یہ اس کی بیوی ہوگئی جو اتنے رش میں گم ہوگئی ہے۔

" سبھی اس آدمی کو دیکھتے آگے بڑھ رہے تھے۔ رش اتنا تھا کے رکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا وہاں سے پانچ منٹ کے دھکے کے بعد دور ایک پانچ سے چھ سالہ بچی پرشان روتی نظر آئی۔ وہ تھی اس آدمی کی بیٹی میمونہ ۔۔۔۔۔۔ اب ایک جانب نارکنے والا قافلہ ، لوگوں کا جم غفیر ، اور دوسری جانب پریشان حال باپ اور اسکی روتی بیٹی۔ ہم صرف دیکھ رہے تھے۔۔ اور دل ہی دل میں دعا کررہے تھے کہ "یااللہ اس بچی کی مدد کر" ۔۔ اسی وقت ہمارے آگے چلتے سب سے چھوٹے ماموں حمزہ نے لپک کر اس بچی کو اٹھایا اور کندھے پر بیٹھال کر اس رش میں لوگوں سے ٹکراتے "معافی معافی" کرتے واپس پلٹ گئے ۔ وہاں اسی جگہ جہاں اس کا باپ اسے آوازیں دے رہا تھا اور شور کے باعث اس کی آواز دب گئی تھی۔ اس وقت پہلی مرتبہ احساس ہوا کے نیکی کر کے کیا خوشی نصیب ہوتی ہے۔ ہم اپنے باقی دو ماموں اور والدہ کے ساتھ بغیر مڑے آگے بڑھتے گئے۔ کوئی دس منٹ حمزہ ہم سے آکر مل گئے۔ بتانے لگے کے اس بچی کا باپ بار بار مجھے دعا دے رہا تھا۔

تو یہ تھی نیکی، اس کا جذبہ، اور عجیب سا لطف ۔۔۔ یہ قدرت نے ہر انسان کے اندر رکھا ہے کے وہ نیکی کرنے کے بعد خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کرتا ہے۔ ایک عجیب سی مسرت لیے وہ ہنستا مسکراتا نظر آتا ہے۔ اور یہی انسان اگر کسی کے ساتھ برا کرے خواہ وہ مومن ہو یا کافر ۔،۔ اس کا دل بوجھل رہتا ہے وہ خواہ مخواہ غصے اور ڈپریشن کا شکار نظر آتا ہے۔

اسلام میں جہاں عبادات کو بنیادی اہمیت دی گئی،وہیں معاملات اور اخلاقیات بھی دین میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کے اسلام دنیا کے تمام مزاہب میں ممتاز ہے۔سورۃ المائدہ میں ارشاد ربانی ہے’:’اے ایمان والو! نیکی اورپرہیزگاری (کے کاموں) میں ایک دوسرے سے تعاون و مدد کرو اور گناہ اور برائی (کے کاموں) میں ایک دوسرے کا تعاون نہ کرو‘‘۔رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ِگرامی ہے: لوگوں میں سب سے اچھا وہ ہے جو لوگوں کو نفع اور فائدہ پہنچائے“۔(جامع ترمذی)مخلوق خدا کی خدمت کرنا، ان کے کام آنا، ان کے مصائب و آلام کو دور کرنا، ان کے دکھ درد کو بانٹنا اور ان کے ساتھ ہمدردی و غم خواری اور شفقت کرنے پر شریعت نے زور دیا ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: رحمت کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے، تم زمین پر رہنے والوں پر رحم کرو،آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔(صحیح مسلم)

ہم کتنی آسانی سے دوسروں پر الزام تراشی کرتے ہیں، ان کے دامن کو داغ دار کرکے ، ان کا حق چھین کر ، انہیں معاشرے میں یا خاندان یا گھروں میں بےعزت کرکے خود کو معتبر سمجھتے ہیں جبکہ اگر پیارے نبیﷺ کا فرمان سنا جائے تو روح تک کانپ جائے۔؎

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ۔ "جس شخص نے کسی کی عزت یا کسی اور چیز پر ظلم کیا ہو تو اسے آج ہی معاف کرا لے اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جب کہ نہ دینار ہوں گے اور نہ درہم اگر اس کے پاس عمل صالح ہوگا، تو بقدر اس کے ظلم کے اس سے لے لیا جائے گا اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہو گی، تو مظلوم کی برائیاں لے کر اس کے سر پر ڈالی جائیں گی-( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2287)" اسی طرح نیکی کے بارے میں فرمایا : " کہ ہر نیکی صدقہ ہے۔( صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 960)"

خوش اخلاقی ، دوسروں کے کام آنا ، انہیں اپنی ذات سے خوشیاں دینا اللہ کے نزدیک بہت معتبر ہے۔ حضرت ابومسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :"تم سے پہلے آدمیوں میں سے ایک آدمی کا حساب لیا گیا تو اس کے پاس لوگوں میں گھل مل کر رہنے کے سوا کوئی نیکی نہ پائی گئی اور وہ مالدار آدمی تھا اور اپنے غلاموں کو حکم دیتا تھا کہ وہ تنگ دست سے درگزر کریں اور اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا ہم اس بات کے اس سے زیادہ حقدار ہیں تم بھی اس سے درگزر کرو۔( صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 1503)"

نیکی بذات خود ہر اچھے کام و اخلاق کا نام ہے۔ ہم جنت میں جانے کے لیے نیکیوں کی تلاش کرتے ہیں اور یہاں درجنوں نیکیاں ہمارے لیے کھڑی ہیں ۔ اسلام تو سراپا رحمت اور آسانی ہے۔ رشتے داری کا لحاظ کرنا نیکی ، راستے سے کانٹا ہٹانا نیکی ، جانوروں سے اچھا سلوک کرنا نیکی ، قرض دار کو مہلت دینا نیکی ، خندہ پیشانی سے ملنا نیکی ، مسجد کی طرف قدم اٹھانا نیکی ، حتی کے گناہ سے بچنا بھی نیکی ۔۔۔ اور ایسی کتنی ہی لاتعداد نیکیاں ہیں جنہیں ہم باآسانی کماسکتے ہیں۔ آپ بیشک لمبی لمبی نمازیں نہ پڑھیں ، لمبی نوافل نہ پڑھیں ، ہر وقت ہاتھوں میں تسبیح لیے نہ گھومیں محض اپنا اخلاق اچھا رکھیں اور اللہ کی مخلوق سے محبت سے پیش آئیں پھر دیکھیں اللہ کیسے آپکو بلندیوں کی جانب بڑھاتا ہے۔